روئٹرز اور اے ایف پی کے ساتھ
اب لیکن ہنگری کے نئے وزیر اعظم جرمنی کا اپنا جو پہلا سرکاری دورہ کر رہے ہیں، وہ بوڈاپیسٹ میں سربراہ حکومت بننے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد کر رہے ہیں۔
جرمن دارالحکومت برلن آمد پر وفاقی چانسلر فریڈرش میرس نے پیٹر موجور کا دوپہر کے وقت چانسلر آفس کے باہر پورے فوجی اعزاز کے ساتھ خیر مقدم کیا۔ اس کے بعد دونوں رہنماؤں کے مابین ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور پھر دونوں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔

موجور زیلنسکی سے ملاقات کے لیے تیار
پیٹر موجور سے پہلے 16 برس تک ہنگری کے وزیر اعظم رہنے والے وکٹور اوربان نہ صرف روس کے صدر پوٹن کے بڑے ہمدرد اور ماسکو کی پالیسیوں کے حامی سمجھے جاتے تھے، بلکہ اوربان کی وجہ سے یورپی یونین کے یوکرین سے متعلق کئی فیصلوں میں تاخیر بھی ہوئی تھی۔
اوربان یوکرین کے لیے یونین کی فوجی اور مالی امداد کے بھی ناقد تھے اور انہوں نے سیاسی سطح پر یوکرینی صدر زیلنسکی سے اپنے رابطے بھی کوئی قریبی نوعیت کے نہیں رکھے تھے۔
اس کے برعکس برلن میں پیٹر موجور نے آج منگل کے روز جرمن چانسلر میرس کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ اگلے ہی ہفتے ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں، تاکہ ماسکو کے حامی اوربان کے دور اقتدار کے خاتمے کے بعد ہنگری اور یوکرین اپنے دوستانہ باہمی تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کر سکیں۔

یوکرین ہنگری کا ہمسایہ بھی
یوکرین کے بارے میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ وہ یورپی یونین کے رکن ملک ہنگری کا ہمسایہ بھی ہے۔ ماضی میں ہنگری اور یوکرین کے دوطرفہ تعلقات اس وجہ سے کھچاؤ کا شکار بھی رہے ہیں کہ بوڈاپیسٹ کے بقول یوکرین میں ہنگیرین نسل کی اقلیتی آبادی کے حقوق کا خیال نہیں رکھا گیا۔
اس بارے میں یوکرینی صدر زیلنسکی کے ساتھ اپنی آئندہ ملاقات کے بارے میں وزیر اعظم موجور نے برلن میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ ہنگری اور یوکرین کے مابین یوکرین میں ہنگیرین نسل کی اقلیتی آبادی کے حقوق سے متعلق جو تکنیکی مذاکرات جاری ہیں، وہ اگر اسے ہفتے مکمل ہو گئے، تو ان کے بعد وہ صدر زیلنسکی سے ملاقات کے لیے تیار ہوں گے۔
ساتھ ہی پیٹر موجور نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ بوڈاپیسٹ اور کییف کے مابین یہ معاملہ جلد ہی احسن طریقے سے حل کر لیا جائے گا۔

یوری ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے کیے جانے والے دورے
ہنگری کے وزیر اعظم موجور آج جرمنی کے جس دورے پر ہیں، اس کا مقصد بوڈاپیسٹ کے یونین کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانا ہے۔
اسی لیے ہیٹر موجور نے پہلے جرمنی کے دورے کا انتخاب کیا، جس کے بعد کل بدھ کے روز فرانس کے دورے پر پیرس پہنچیں گے، جہاں ان کی صدر ماکروں کے ساتھ بھی بات چیت ہو گی۔
پیٹر موجور کو یونین کے رکن ممالک، خاص طور پر یونین کا انجن قرار دیے جانے والے بڑے ممالک جرمنی اور فرانس کے دوروں کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ ان کے پیش رو وزیر اعظم اوربان کے دور میں بوڈاپیسٹ کے جرمنی اور فرانس کے ساتھ روابط نہ صرف قدرے کھچاؤ کا شکار رہے تھے بلکہ بوڈاپیسٹ اور برسلز کے مابین بھی کافی فاصلے پید اہو گئے تھے۔



