یورپتازہ ترین

ہنگری کے نئے وزیر اعظم موجور جرمنی کے پہلے دورے پر برلن میں

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ اگلے ہی ہفتے ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں

روئٹرز اور اے ایف پی کے ساتھ

بوڈاپیسٹ میں سربراہ حکومت کے طور پر اس وقت جرمنی کا اولین دورہ کرنے والے پیٹر موجور برسوں سے برسراقتدار وکٹور اوربان کی پارٹی کو اپریل کے قومی انتخابات میں ہرا کر یورپی یونین کے رکن ملک ہنگری کے وزیر اعظم بنے تھے۔

اب لیکن ہنگری کے نئے وزیر اعظم جرمنی کا اپنا جو پہلا سرکاری دورہ کر رہے ہیں، وہ  بوڈاپیسٹ میں سربراہ حکومت بننے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد کر رہے ہیں۔

جرمن دارالحکومت برلن آمد پر وفاقی چانسلر فریڈرش میرس نے پیٹر موجور کا دوپہر کے وقت چانسلر آفس کے باہر پورے فوجی اعزاز کے ساتھ خیر مقدم کیا۔ اس کے بعد دونوں رہنماؤں کے مابین ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور پھر دونوں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔

جرمن چانسلر میرس، دائیں، اور ہنگری کے وزیر اعظم  موجور دو جون کے روز برلن میں باہمی ملاقات سے قبل خوشگوار موڈ میں
جرمن چانسلر میرس، دائیں، اور ہنگری کے وزیر اعظم موجور دو جون کے روز برلن میں باہمی ملاقات سے قبل خوشگوار موڈ میںتصویر: Annegret Hilse/REUTERS

موجور زیلنسکی سے ملاقات کے لیے تیار

پیٹر موجور سے پہلے 16 برس تک ہنگری کے وزیر اعظم رہنے والے وکٹور اوربان نہ صرف روس کے صدر پوٹن کے بڑے ہمدرد اور ماسکو کی پالیسیوں کے حامی سمجھے جاتے تھے، بلکہ اوربان کی وجہ سے یورپی یونین کے یوکرین سے متعلق کئی فیصلوں میں تاخیر بھی ہوئی تھی۔

اوربان یوکرین کے لیے یونین کی فوجی اور مالی امداد کے بھی ناقد تھے اور انہوں نے سیاسی سطح پر یوکرینی صدر زیلنسکی سے اپنے رابطے بھی کوئی قریبی نوعیت کے نہیں رکھے تھے۔

اس کے برعکس برلن میں پیٹر موجور نے آج منگل کے روز جرمن چانسلر میرس کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ اگلے ہی ہفتے ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں، تاکہ ماسکو کے حامی اوربان کے دور اقتدار کے خاتمے کے بعد ہنگری اور یوکرین اپنے دوستانہ باہمی تعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کر سکیں۔

ہنگری میں پیٹر موجور کے پیش رو وزیر اعظم وکٹور اوربان
ہنگری میں پیٹر موجور کے پیش رو وزیر اعظم وکٹور اوربانتصویر: Attila Kisbenedek/AFP

یوکرین ہنگری کا ہمسایہ بھی

یوکرین کے بارے میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ وہ یورپی یونین کے رکن ملک ہنگری کا ہمسایہ بھی ہے۔ ماضی میں ہنگری اور یوکرین کے دوطرفہ تعلقات اس وجہ سے کھچاؤ کا شکار بھی رہے ہیں کہ بوڈاپیسٹ کے بقول یوکرین میں ہنگیرین نسل کی اقلیتی آبادی کے حقوق کا خیال نہیں رکھا گیا۔

اس بارے میں یوکرینی صدر زیلنسکی کے ساتھ اپنی آئندہ ملاقات کے بارے میں وزیر اعظم موجور نے برلن میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ ہنگری اور یوکرین کے مابین یوکرین میں ہنگیرین نسل کی اقلیتی آبادی کے حقوق سے متعلق جو تکنیکی مذاکرات جاری ہیں، وہ اگر اسے ہفتے مکمل ہو گئے، تو ان کے بعد وہ صدر زیلنسکی سے ملاقات کے لیے تیار ہوں گے۔

ساتھ ہی پیٹر موجور نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ بوڈاپیسٹ اور کییف کے مابین یہ معاملہ جلد ہی احسن طریقے سے حل کر لیا جائے گا۔

فرانس کے صدر ماکروں، تصویر، جن سے پیٹر موجور کل بدھ کے روز پیرس میں ملاقات کریں گے
فرانس کے صدر ماکروں، تصویر، جن سے پیٹر موجور کل بدھ کے روز پیرس میں ملاقات کریں گےتصویر: Amanuel Sileshi/AP Photo/picture alliance

یوری ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے کیے جانے والے دورے

ہنگری کے وزیر اعظم موجور آج جرمنی کے جس دورے پر ہیں، اس کا مقصد بوڈاپیسٹ کے یونین کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید بہتر بنانا ہے۔

اسی لیے ہیٹر موجور نے پہلے جرمنی کے دورے کا انتخاب کیا، جس کے بعد کل بدھ کے روز فرانس کے دورے پر پیرس پہنچیں گے، جہاں ان کی صدر ماکروں کے ساتھ بھی بات چیت ہو گی۔

پیٹر موجور کو یونین کے رکن ممالک، خاص طور پر یونین کا انجن قرار دیے جانے والے بڑے ممالک جرمنی اور فرانس کے دوروں کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ ان کے پیش رو وزیر اعظم اوربان کے دور میں بوڈاپیسٹ کے جرمنی اور فرانس کے ساتھ روابط نہ صرف قدرے کھچاؤ کا شکار رہے تھے بلکہ بوڈاپیسٹ اور برسلز کے مابین بھی کافی فاصلے پید اہو گئے تھے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button