اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشستوں کے لیے ہونے والے سخت مقابلے میں پرتگال اور آسٹریا نے جرمنی کو شکست دے کر کامیابی حاصل کر لی۔ یہ انتخاب بدھ کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے منعقد ہوا۔
پندرہ رکنی سلامتی کونسل میں 10 غیر مستقل نشستیں دنیا کے مختلف خطوں کے لیے مختص ہیں۔ جنرل اسمبلی ہر سال پانچ ممالک کا انتخاب کرتی ہے جو دو سالہ مدت کے لیے سلامتی کونسل کے رکن بنتے ہیں۔ یہ ارکان پانچ مستقل ویٹو پاور رکھنے والے ممالک امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
یورپی اور مغربی ممالک کے لیے مختص دو نشستوں کے مقابلے میں پرتگال نے 134 اور آسٹریا نے 131 ووٹ حاصل کیے، جبکہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی صرف 104 ووٹ حاصل کر سکا۔ جرمنی اس سے قبل سلامتی کونسل میں چھ مرتبہ غیر مستقل رکن ملک رہ چکا ہے۔
جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے ان نتائج پر اپنے ردعمل میں کہا کہ یہ نتیجہ یقیناً مایوس کن ہے۔ ان کے مطابق روس نے یوکرین کی بھرپور حمایت کی وجہ سے جرمنی کے خلاف مہم چلائی، جبکہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں اسرائیل کے لیے جرمنی کی خصوصی ذمہ داری کے موقف نے بھی ممکنہ طور پر کچھ ووٹ متاثر کیے۔
سلامتی کونسل اقوام متحدہ کے منشور کے تحت عالمی امن و سلامتی برقرار رکھنے کی ذمہ دار ہے، تاہم حالیہ برسوں میں یوکرین، غزہ اور ایران سے متعلق تنازعات میں یہ کونسل مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے قیام کے 80 برس بعد بھی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ جاری ہے تاکہ موجودہ عالمی سیاسی حقائق کی بہتر نمائندگی ہو سکے، تاہم اس سلسلے میں اب تک تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔



