حزب اللہ کے سربراہ کا ’جامع‘ جنگ بندی کا مطالبہ
معاہدے کے مطابق فائر بندی اس بات سے بھی مشروط تھی کہ حزب اللہ فائرنگ بند کرے اور اپنے جنگجوؤں کو جنوبی لبنان سے واپس ہٹا لے۔
ڈی پی اے کےساتھ
لبنانی تنظیم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا، ’’جنگ بندی مکمل اور جامع ہونا چاہیے، ایسی نہیں کہ دشمن اسرائیل کو قتل و غارت کی آزادی حاصل ہو۔‘‘ انہوں نے لبنان کی حکومت پر بھی زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات ختم کرے۔
ان کا یہ ٹیلی وژن خطاب ایسے وقت پر سامنے آیا جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں سرحد کے قریب موجود رہیں گی اور جنوبی علاقوں کے لبنانی شہریوں کو اپنے گھروں میں واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
معاہدے کے مطابق فائر بندی اس بات سے بھی مشروط تھی کہ حزب اللہ فائرنگ بند کرے اور اپنے جنگجوؤں کو جنوبی لبنان سے واپس ہٹا لے۔

مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ چونکہ حزب اللہ مذاکرات کی فریق نہیں تھی، اس لیے وہ ان مذاکرات کو ’’شرمناک‘‘ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’لبنانی عوام کے ایک حصے کی تباہی اور باقی ماندہ لوگوں کو غلام بنانے کا منصوبہ‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا،’’جب تک قبضہ برقرار ہے، مزاحمت جاری رہے گی۔‘‘
حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں دو مارچ کو دوبارہ شروع ہوئیں، جب اس تنظیم نے ایران کی حمایت میں اسرائیل پر حملے کیے، ایک ایسے وقت پر جب ایران امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی زد میں تھا۔ اپریل سے واشنگٹن کی جانب سے متعدد فائر بندیوں کے اعلانات کے باوجود یہ تنازعہ جاری ہے۔
یہ جنگ علاقائی تنازعے کے حل کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں ایک بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔ تہران نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران جنگ میں کسی بھی امن معاہدے کے حصے کے طور پر لبنان میں اسرائیلی حملے بھی بند کیے جائیں۔
نعیم قاسم نے کہا کہ جنگ بندی میں جنوبی لبنان بھی شامل ہونا چاہیے، جہاں اسرائیل نے ایک خود ساختہ سکیورٹی زون قائم کر رکھا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس زون کا مقصد شمالی اسرائیل کو حزب اللہ کے حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
قاسم نے کہا، ’’شمالی اسرائیل کے قصبے اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتے، جب تک ہمارے دیہات غیر محفوظ ہیں، ان پر بمباری ہو رہی ہے، وہ تباہ کیے جا رہے ہیں، اور ہمارے لوگ مارے جا رہے ہیں۔‘‘
لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث تقریباً 12 لاکھ افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، جن میں جنوبی لبنان میں بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد بھی شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مقامی شیعہ مسلمان ہیں۔
دریں اثنا ایران کی قدس فورس، جس نے 1982 میں حزب اللہ کے قیام میں مدد کی تھی، کے سربراہ اسماعیل قانی نے کہا کہ ’’مزاحمت کا کم از کم مطالبہ‘‘ یہ ہے کہ اسرائیل ان پوزیشنوں پر واپس جائے جہاں وہ جنگ شروع ہونے اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی پیش قدمی سے پہلے موجود تھا۔
امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے فائر بندی معاہدے کے بعد جاری کردہ امریکی بیان میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
اس دوران لبنانی صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ اگر تمام فریق اس معاہدے کی منظوری دے دیں، تو جنگ بندی ایک دن کے اندر اندر نافذ ہو سکتی ہے۔ بظاہر ان کا اشارہ حزب اللہ کی طرف تھا۔



