جنگ کی آڑ میں ایران میں پھانسیوں کا نیا طوفان؟ انسانی حقوق کی تنظیموں کا سنگین انتباہ
حقوق انسانی کی تنظیموں کے مطابق، ملک کے اندر جاری انسانی حقوق کی صورتحال نسبتاً نظروں سے اوجھل رہی جب کہ حکومت مخالف آوازوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز ہو گیا ہے۔
ایجنسیاں
28 فروری 2026 کو اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں کے بعد عالمی توجہ زیادہ تر جنگ، ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی بندش اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر مرکوز رہی ہے۔
تاہم حقوق انسانی کی تنظیموں کے مطابق، ملک کے اندر جاری انسانی حقوق کی صورتحال نسبتاً نظروں سے اوجھل رہی جب کہ حکومت مخالف آوازوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز ہو گیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں سزائے موت کے واقعات میں اضافے کا تقریباً 80 فیصد حصہ ایران کے نام رہا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ 2025 کے دوران ایران میں کم از کم 2,159 افراد کو پھانسی دی گئی، جو 2024 کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ تعداد ہے۔
ایرانی اپوزیشن گروپوں کی رپورٹوں کے مطابق، جنگ کے آغاز کے بعد سے سیاسی اور سکیورٹی سے متعلق مقدمات میں کم از کم 40 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے، جبکہ مزید 78 افراد سزائے موت کے منتظر ہیں۔
اوسلو میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس، جو گرفتاریوں اور سزاؤں کی دستاویزات مرتب کرتی ہے، کا کہنا ہے کہ اپریل کے اختتام تک کے چھ ہفتوں میں ایران میں اوسطاً ہر دو دن بعد ایک سیاسی قیدی کو پھانسی دی گئی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ جنگی حالات کے باعث بین الاقوامی توجہ کی کمی حکومت کو مزید سخت اقدامات اٹھانے کا موقع فراہم کر سکتی ہے، جس سے ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
ایران میں ممکنہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم
ایران میں پھانسیوں کی کہانیاں بڑی ہولناک ہیں۔34 سالہ غلام رضا خانی شکرآب، جو ایک سابق مارشل آرٹس چیمپئن تھے، پر اسرائیل کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ وہ کھیلوں کے مقابلوں کے سلسلے میں اکثر بیرون ملک سفر کرتے تھے۔ انہیں اپنے اہل خانہ سے آخری ملاقات کا موقع دیے بغیر پھانسی دے دی گئی۔
اسی طرح سویڈن اور ایران کی دوہری شہریت رکھنے والے کوروش کیوانی 2025 میں اسرائیل اور ایران کے درمیان پہلی جھڑپوں کے دوران گرفتار ہوئے۔ بعد ازاں انہیں رواں سال مارچ میں پھانسی دے دی گئی۔
ایک اور مقدمے میں 68 سالہ زہرا شہباز طبری کو ”مسلح بغاوت‘‘ کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔ اطلاعات کے مطابق ان کی پہلی سماعت صرف 10 منٹ تک جاری رہی اور اس دوران ان کے پاس کوئی آزاد وکیل موجود نہیں تھا۔ اگرچہ ابتدائی فیصلہ کالعدم قرار دے دیا گیا تھا، تاہم مئی کے آخر میں دوبارہ سماعت کے بعد انہیں ایک بار پھر مجرم قرار دے دیا گیا۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل میں ایرانی امور کی ریسرچر راہا بحرینی نے ڈی ڈبلیو سے کہا کہ ”دستاویزی شواہد سے ظاہر ہونے والے رجحانات، جن میں قتل، تشدد، جبری گمشدگیاں، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور سیاسی بنیادوں پر پھانسیاں شامل ہیں، سے اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ اقدامات منظم انداز میں اور ریاستی پالیسی کے تحت انجام دیے گئے ہیں تو انہیں انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا جا سکتا ہے۔‘‘
رپورٹوں کے مطابق حالیہ مقدمات میں ”جاسوسی‘‘ کا الزام سب سے زیادہ استعمال ہونے والے الزامات میں شامل ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے سیاسی اور سماجی اثرات سے نمٹنے کے لیے ایرانی حکام سزائے موت کو اختلاف رائے کو کچلنے اور خوف پیدا کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی سمیت کئی اعلیٰ حکام ماضی میں ان مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کا مطالبہ کر چکے ہیں جن میں ملزمان پر اسرائیل سے تعلقات یا روابط رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہوں۔
کیا ایران میں پھانسیوں کا سلسلہ روکا جا سکتا ہے؟
انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں بڑھتی ہوئی پھانسیوں اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر کئی قانونی راستے موجود ہیں، تاہم اس کے لیے عالمی برادری کی مؤثر اور مسلسل توجہ ضروری ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایران سے متعلق ریسرچر راہا بحرینی کے مطابق ایرانی حکام کے احتساب کے لیے تین اہم قانونی ذرائع موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلا راستہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کی صورتحال کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے حوالے کرے۔ دوسرا راستہ یونیورسل جیورِسڈکشن کے اصول کے تحت مبینہ ذمہ دار افراد کے خلاف مختلف ممالک میں مقدمات چلانا ہے۔ جبکہ تیسرا راستہ ایران کے لیے ایک خصوصی بین الاقوامی نظام انصاف یا میکانزم کا قیام ہے۔
ایران ہیومن رائٹس کے بانی محمود امیری مقدم کا خیال ہے کہ ”اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہونے والے ہر قسم کے مذاکرات اور روابط میں پھانسیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مرکزی موضوع بنانا ان چند مؤثر طریقوں میں سے ایک ہے جو ایران کی پھانسیوں کے سلسلے کو محدود کر سکتے ہیں۔‘‘
مقدم نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے غیر فعال رویہ برقرار رکھا تو آنے والے مہینوں میں ایران میں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر پھانسیوں کے واقعات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔