ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: پاکستان کے توانائی اور صنعتی شعبے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں 4.5 ارب ڈالر مالیت کے جدید گرین فیلڈ ڈیپ کنورژن ریفائنری منصوبے پر پیش رفت تیز ہو گئی ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان جاری مشاورت کے دوران اس منصوبے کو پاکستان کی توانائی کی سلامتی، صنعتی ترقی اور طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اسلام آباد میں سپیک ریفائنری پرائیویٹ لمیٹڈ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی جس کی قیادت کمپنی کے چیئرمین ظفر شیخ کر رہے تھے۔ ملاقات کے دوران حب، بلوچستان میں قائم کی جانے والی پاکستان کی پہلی جدید ڈیپ کنورژن گرین فیلڈ ریفائنری کی پیش رفت، درپیش چیلنجز اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان کی تاریخ کا اہم صنعتی منصوبہ
وفد نے وزیر تجارت کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مجوزہ ریفائنری پاکستان کے توانائی کے شعبے میں حالیہ دہائیوں کی سب سے بڑی نجی سرمایہ کاریوں میں شمار ہوگی۔ منصوبہ نہ صرف ملک کی خام تیل کو مقامی سطح پر بہتر انداز میں پراسیس کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرے گا بلکہ درآمد شدہ ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کو بھی نمایاں حد تک کم کرے گا۔
پاکستان اس وقت اپنی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی مقدار میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر ریفائنڈ مصنوعات درآمد کرتا ہے، جس کے باعث سالانہ اربوں ڈالر کا زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نئی ریفائنری ملک کو اس انحصار سے نجات دلانے اور توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی جانب لے جانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
جدید ترین ڈیپ کنورژن ٹیکنالوجی
وفد نے بتایا کہ مجوزہ ریفائنری جدید ترین "ڈیپ کنورژن” ٹیکنالوجی سے لیس ہوگی، جو دنیا بھر میں جدید ریفائننگ کے شعبے میں استعمال کی جانے والی ایک اعلیٰ تکنیک سمجھی جاتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی بدولت ریفائنری مختلف معیار کے خام تیل کو پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھے گی اور کم قیمت فیول آئل کی بجائے زیادہ منافع بخش اور اعلیٰ معیار کی مصنوعات جیسے پیٹرول، ڈیزل، جیٹ فیول اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ کرے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی ریفائنریاں خام تیل کے زیادہ موثر استعمال کو یقینی بناتی ہیں، جس سے ملکی معیشت کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے۔
توانائی کے تحفظ میں اہم کردار
پاکستان کو گزشتہ کئی برسوں سے توانائی کے شعبے میں مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جن میں درآمدی بل میں اضافہ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مقامی ریفائننگ صلاحیت کی محدودیت شامل ہیں۔
حب ریفائنری منصوبہ ان چیلنجز سے نمٹنے کی قومی حکمت عملی کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد ملک کی ریفائننگ استعداد میں نمایاں اضافہ ہوگا اور توانائی کے شعبے کو زیادہ مستحکم بنیادیں فراہم ہوں گی۔
ریگولیٹری منظوریوں میں تیزی لانے کی درخواست
ملاقات کے دوران سپیک ریفائنری کے وفد نے حکومت سے درخواست کی کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے درکار ریگولیٹری منظوریوں اور انتظامی امور کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
وفد نے خاص طور پر گرین فیلڈ ریفائنری پالیسی کے مکمل نفاذ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سمیت متعلقہ اداروں سے باقی ماندہ منظوریوں کے اجراء میں تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
کمپنی حکام کے مطابق زمینی سطح پر ابتدائی کام کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ منصوبے کے مختلف تکنیکی اور مالیاتی پہلوؤں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
روزگار کے ہزاروں مواقع
چیئرمین سپیک ریفائنری ظفر شیخ نے وزیر تجارت کو بتایا کہ منصوبے سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر تقریباً 2,000 روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
ان کے مطابق یہ منصوبہ صرف ایک ریفائنری تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے گرد متعدد صنعتی سرگرمیاں جنم لیں گی، جن سے بلوچستان خصوصاً حب اور گردونواح کے علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ منصوبہ مقامی افرادی قوت کی تربیت، تکنیکی مہارتوں کی منتقلی، انجینئرنگ کے شعبے میں ترقی اور جدید صنعتی ٹیکنالوجی کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
پیٹروکیمیکل صنعت کی ترقی کا نیا باب
وفد نے حکومت کو آگاہ کیا کہ مستقبل میں اس منصوبے کے ساتھ مربوط پیٹروکیمیکل کمپلیکس کے قیام کا بھی وژن موجود ہے۔
پیٹروکیمیکل صنعت خام تیل اور گیس سے حاصل ہونے والے کیمیکل مواد کو استعمال کرتے ہوئے پلاسٹک، مصنوعی فائبر، کھاد، صنعتی کیمیکلز اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر حب ریفائنری کے ساتھ پیٹروکیمیکل صنعت بھی ترقی کرتی ہے تو پاکستان میں درآمدی متبادل مصنوعات کی تیاری بڑھ سکتی ہے اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی اہمیت
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے ملاقات کے دوران پاکستان کے اسٹریٹجک محل وقوع کو سرمایہ کاری کے لیے ایک بڑی طاقت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور مغربی چین کے سنگم پر واقع ہے، جو اسے علاقائی تجارت، توانائی اور لاجسٹکس کا قدرتی مرکز بناتا ہے۔
وزیر تجارت کے مطابق 25 کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل مقامی منڈی، بہتر ہوتی تجارتی راہداریوں اور علاقائی رابطوں کے منصوبوں کی بدولت پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے غیر معمولی مواقع فراہم کر رہا ہے۔
صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کا فروغ
جام کمال خان نے کہا کہ حکومت ایسی تمام سرمایہ کاریوں کا خیر مقدم کرتی ہے جو صنعتی پیداوار، روزگار، برآمدات اور اقتصادی ترقی میں اضافہ کریں۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے صنعتی شعبے کی جدید کاری، درآمدی متبادل صنعتوں کے فروغ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔
ان کے مطابق حب ریفائنری جیسے منصوبے نہ صرف توانائی کے شعبے کو مضبوط کریں گے بلکہ پاکستان کی مجموعی صنعتی صلاحیت میں بھی نمایاں اضافہ کریں گے۔
پبلک پرائیویٹ شراکت داری کی اہمیت
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ توانائی، صنعت، انفراسٹرکچر اور برآمدات سے متعلق بڑے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا تاکہ ملک کی معاشی استعداد کو مکمل طور پر بروئے کار لایا جا سکے۔
قومی معیشت کے لیے خوش آئند پیش رفت
معاشی ماہرین کے مطابق 4.5 ارب ڈالر کا حب ریفائنری منصوبہ صرف ایک صنعتی سرمایہ کاری نہیں بلکہ پاکستان کی توانائی خودمختاری، صنعتی توسیع، روزگار کی فراہمی اور برآمدی صلاحیت میں اضافے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
اگر منصوبہ مقررہ وقت کے مطابق مکمل ہو جاتا ہے تو یہ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ایک نئی تبدیلی کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک ملکی معیشت، صنعت اور تجارت پر مرتب ہوں گے۔