پاکستان کے زیر انتظام کشمیر،راولاکوٹ کی جانب مسلح گروہوں کی پیش قدمی، حکومت آزاد کشمیر کا سخت مؤقف، ریاستی رٹ ہر صورت قائم رکھی جائے گی
جب ریاستی ادارے قانون نافذ کرتے ہیں تو اس کا مقصد کسی سیاسی گروہ کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ پورے معاشرے میں امن، انصاف اور استحکام کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
مظفرآباد: حکومت آزاد جموں و کشمیر نے راولاکوٹ کی جانب بعض مسلح جتھوں کی مبینہ پیش قدمی کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا اور ریاستی رٹ کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔
ترجمان وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ راولاکوٹ کی طرف چند مسلح گروہوں کی نقل و حرکت اور پیش قدمی سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جنہیں حکومت انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ معاملہ محض ایک سیاسی سرگرمی یا سیاسی اجتماع کا نہیں بلکہ امن عامہ اور عوامی تحفظ سے جڑا ایک حساس اور اہم مسئلہ ہے۔
اسلحے کی موجودگی صورتحال کو پیچیدہ بنا سکتی ہے
ترجمان نے کہا کہ کسی بھی گروہ یا جتھے کے پاس اسلحے کی موجودگی صورتحال کو مزید حساس اور خطرناک بنا دیتی ہے۔ ایسے حالات میں شہریوں کے جان و مال، کاروبار، روزمرہ زندگی اور بنیادی حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری بن جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور امن و امان کی بحالی اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا طاقت کے مظاہرے کے ذریعے عوام میں خوف و ہراس پیدا نہ ہو۔
قانون کی حکمرانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں
حکومتی ترجمان نے واضح کیا کہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری قانون کی عملداری کو یقینی بنانا اور آئینی نظام کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی فرد، تنظیم یا گروہ کو قانون سے بالاتر تصور نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر کوئی گروہ اسلحے کے زور پر اپنے مطالبات منوانے یا دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ جمہوری اصولوں اور آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف ریاستی اداروں کو چیلنج کرتے ہیں بلکہ معاشرتی امن اور استحکام کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
سیاسی اختلاف رائے کا جمہوری راستہ
ترجمان وزیر اعظم نے کہا کہ جمہوری معاشروں میں اختلاف رائے کا حق ہر شہری کو حاصل ہے اور سیاسی جماعتوں یا گروہوں کو اپنے نظریات اور مطالبات پیش کرنے کی مکمل آزادی ہوتی ہے۔ تاہم یہ آزادی قانون اور آئین کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے استعمال کی جانی چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات کا اظہار دلیل، مکالمے، ووٹ اور جمہوری عمل کے ذریعے کیا جاتا ہے، نہ کہ اسلحے کی نمائش یا طاقت کے استعمال کے ذریعے۔ جمہوریت میں سیاسی مسائل کا حل مذاکرات، آئینی اداروں اور عوامی رائے کے ذریعے تلاش کیا جاتا ہے۔
ریاستی رٹ عوام کے تحفظ کی ضمانت
حکومت آزاد کشمیر کے ترجمان نے کہا کہ ریاستی رٹ کا قیام کسی مخصوص سیاسی جماعت یا حکومت کے مفاد کا معاملہ نہیں بلکہ یہ عام شہریوں کے تحفظ، امن اور معمولاتِ زندگی کی ضمانت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ریاستی ادارے قانون نافذ کرتے ہیں تو اس کا مقصد کسی سیاسی گروہ کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ پورے معاشرے میں امن، انصاف اور استحکام کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
ترجمان کے مطابق اگر قانون کی عملداری کو چیلنج کیا جائے یا ریاستی اداروں کی رٹ کو کمزور کیا جائے تو اس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں اور عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
عوامی مفاد آئین و قانون کی پاسداری میں ہے
بیان میں کہا گیا کہ عوامی مفاد اسی میں ہے کہ تمام سیاسی، سماجی اور عوامی سرگرمیاں آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے انجام دی جائیں۔ حکومت اختلاف رائے کے حق کا احترام کرتی ہے لیکن کسی بھی غیر قانونی یا مسلح سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
حکومت نے تمام سیاسی اور سماجی حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن، برداشت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور کسی ایسے اقدام سے گریز کریں جو کشیدگی یا بدامنی کا باعث بن سکتا ہو۔
سکیورٹی اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت
ذرائع کے مطابق راولاکوٹ اور اس کے گردونواح میں سکیورٹی اداروں کو صورتحال پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں جبکہ حساس مقامات کی نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے لیے تمام قانونی اور انتظامی وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
حکومت کا عزم
ترجمان وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر نے اپنے بیان کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ، امن عامہ کی بحالی اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کسی بھی ایسے اقدام کی اجازت نہیں دے سکتی جو امن و استحکام کو نقصان پہنچائے یا عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرے۔ حکومت، انتظامیہ اور سکیورٹی ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں اور آزاد کشمیر میں امن، استحکام اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔