سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک مرتبہ پھر عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری، مکالمے اور پرامن ذرائع کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایران کے جوہری مسئلے اور یوکرین جنگ سمیت تمام بین الاقوامی بحرانوں کے حل کے لیے تحمل، مذاکرات اور سیاسی عمل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد اور نائب مستقل نمائندے عثمان جدون نے سلامتی کونسل کے مختلف اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان نئی کشیدگی پر پاکستان کی تشویش
سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ (Non-Proliferation) سے متعلق اجلاس کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام حل طلب مسائل، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعات، کے حل کے لیے سفارتی روابط، مسلسل مکالمے اور سیاسی ذرائع کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا ناگزیر ہے کیونکہ فوجی اقدامات خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کئی ماہ سے جاری سفارتی کوششیں ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جانا چاہیے جو مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
سفیر عاصم افتخار احمد کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکی افواج کی جانب سے ایرانی اہداف کے خلاف کارروائیوں اور اس کے جواب میں ایران کی طرف سے خطے میں امریکی مفادات سے وابستہ تنصیبات پر حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق اس کشیدگی کے نتیجے میں خلیجی خطے کے استحکام، عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
خصوصاً آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ کے دیگر اہم بحری راستوں کی سلامتی کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس انہی راستوں سے گزرتی ہے۔
پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششیں
پاکستان نے حالیہ بحران کے دوران ثالثی اور سفارتی رابطوں میں فعال کردار ادا کیا ہے۔
اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں اور کشیدگی میں کمی کے لیے مختلف سفارتی اقدامات کی حمایت کی ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ تمام تنازعات کا حل بین الاقوامی قوانین، ریاستوں کے حقوق و فرائض اور باہمی احترام کے اصولوں کے تحت تلاش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ جب تنازعے کے حل کے امکانات واضح نظر آ رہے ہوں تو ایسے وقت میں مزید عسکری اقدامات صورتحال کو بگاڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری اور متعلقہ فریقوں سے اپیل کی کہ وہ امن کو ایک اور موقع دیں اور مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کریں۔
یوکرین جنگ پر پاکستان کا واضح مؤقف
دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں یوکرین کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کے نائب مستقل نمائندے عثمان جدون نے بھی جنگ کے پھیلاؤ اور عسکری کارروائیوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ میدان جنگ میں وسعت اور حملوں میں شدت صرف تباہی، انسانی جانوں کے ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کی بربادی کا باعث بن رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگی ذرائع سے دیرپا امن حاصل نہیں کیا جا سکتا اور یہ راستہ صرف متاثرہ آبادی کے مصائب میں اضافہ کرتا ہے۔
عثمان جدون نے زور دیا کہ فریقین فوری جنگ بندی اور دشمنی کے خاتمے پر اتفاق کریں تاکہ سفارت کاری اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے مناسب ماحول پیدا ہو سکے۔
مذاکرات ہی امن کی واحد ضمانت
پاکستانی نائب مندوب نے کہا کہ سفارتی مصروفیات اور سیاسی مذاکرات ہی وہ واحد راستہ ہیں جن کے ذریعے خطے میں پائیدار اور دیرپا امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ فریق امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل کو جلد دوبارہ شروع کریں گے اور سنجیدگی کے ساتھ امن کے امکانات کو آگے بڑھائیں گے۔
پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ یوکرین تنازع کے آغاز سے ہی مذاکرات اور سفارت کاری پر مبنی حل کی حمایت کرتا آیا ہے اور آئندہ بھی یہی مؤقف برقرار رکھے گا۔
عالمی قوانین اور سلامتی کے خدشات
عثمان جدون نے کہا کہ امن کی جانب پیش رفت کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا حل تلاش کیا جانا چاہیے جو بین الاقوامی قوانین اور کثیرالجہتی معاہدوں کے مطابق ہو۔
انہوں نے حالیہ حملوں اور جوابی کارروائیوں کے سلسلے کو "تباہی اور مصائب کا شیطانی چکر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے صرف انسانی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے۔
شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو درپیش خطرات
پاکستان نے یوکرین جنگ میں شہری آبادی اور سول انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔
عثمان جدون نے کہا کہ جنگ کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہری اٹھا رہے ہیں جبکہ رہائشی علاقوں، توانائی کے نظام، طبی مراکز اور دیگر بنیادی تنصیبات کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر جوہری سلامتی کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی رپورٹس کے مطابق یوکرین کے زاپوریژژیا نیوکلیئر پاور پلانٹ کے اردگرد جاری حملے ایک بڑے جوہری حادثے کا خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔
پاکستان نے امید ظاہر کی کہ فریقین اس حساس جوہری تنصیب کے اطراف طے شدہ مقامی جنگ بندی اور حفاظتی انتظامات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔
بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کا مطالبہ
پاکستانی نائب مندوب نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے بار بار مطالبات کے باوجود بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات تشویشناک ہیں۔
انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر مکمل عمل کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور جنگی قوانین کی پاسداری عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔
پاکستان کا ابھرتا ہوا سفارتی کردار
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے حالیہ بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسلام آباد خود کو عالمی تنازعات میں ایک ذمہ دار، متوازن اور سفارت کاری پر یقین رکھنے والے ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ہو یا یوکرین کا بحران، پاکستان نے دونوں معاملات میں طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمے، مذاکرات اور سیاسی حل کی حمایت کی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں، جہاں مختلف خطوں میں جنگی تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں، پاکستان کا سفارتی مؤقف خطے اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے فروغ کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
سلامتی کونسل میں پاکستان کے حالیہ بیانات اس عزم کا اظہار ہیں کہ عالمی تنازعات کا پائیدار حل عسکری طاقت میں نہیں بلکہ سفارت کاری، مذاکرات، بین الاقوامی قانون کے احترام اور باہمی اعتماد کے فروغ میں پوشیدہ ہے۔