سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ کے نواحی علاقے پلنگزئی میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج کے خلاف جاری بڑے آپریشن میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 2 جون کو شروع کیے گئے انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران اب تک 45 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جبکہ دہشت گردوں کے متعدد مضبوط ٹھکانے، تربیتی مراکز اور اسلحہ کے ذخائر مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پلنگزئی کا علاقہ ایک طویل عرصے سے فتنہ الخوارج کے لیے ایک مضبوط گڑھ کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں سے دہشت گرد مختلف علاقوں میں حملوں کی منصوبہ بندی، تربیت اور کارروائیوں کی نگرانی کرتے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر علاقے میں وسیع پیمانے پر آپریشن کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں دہشت گرد تنظیم کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
ہائی ویلیو ٹارگٹ خالد رضا ہلاک
آپریشن کے دوران مارے جانے والے دہشت گردوں میں فتنہ الخوارج کے ایک اہم کمانڈر خالد رضا عرف سلا بھی شامل ہے، جو خارجی گل بہادر گروپ کے پلنگزئی ایریا کا کمانڈر تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خالد رضا دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں مطلوب تھا اور حکومت کی جانب سے اس کے سر کی قیمت 40 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔ اسے علاقے میں دہشت گرد نیٹ ورک کی منصوبہ بندی، بھرتیوں اور حملوں کے انتظامات کا اہم ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ خالد رضا کی ہلاکت دہشت گرد تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ وہ تنظیم کے فعال اور بااثر کمانڈروں میں شمار ہوتا تھا۔
45 دہشت گرد ہلاک، متعدد ٹھکانے تباہ
سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران اب تک مجموعی طور پر 45 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی اور مزاحمت کے باعث کئی مقامات پر شدید جھڑپیں ہوئیں جن میں فورسز نے بھرپور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا۔
آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے زیر استعمال متعدد پناہ گاہوں اور محفوظ ٹھکانوں کو بھی تباہ کیا گیا، جنہیں مختلف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور جنگی سازوسامان بھی برآمد کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران 25 دہشت گردوں کی لاشیں بھی برآمد کی گئیں، جبکہ مختلف مقامات سے خودکار ہتھیار، راکٹ لانچر، دستی بم، بارودی مواد اور دیگر جنگی سامان قبضے میں لیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والا اسلحہ دہشت گردوں کی آپریشنل صلاحیتوں اور مستقبل کی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جانا تھا، جسے بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔
دہشت گردوں کے تین بڑے کمپلیکس مکمل طور پر تباہ
آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے تین اہم اور مضبوط مراکز کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
تباہ کیے جانے والے مراکز میں:
- سمیع اللہ کمپلیکس
- ابوذر کمپلیکس
- امداد کمپلیکس
شامل ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کمپلیکس دہشت گردوں کے لیے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، تربیتی کیمپوں، اسلحہ ذخیرہ گاہوں اور پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔
ان مراکز کی تباہی سے دہشت گرد تنظیم کی کمانڈ، لاجسٹک سپورٹ اور آپریشنل نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
گل بہادر گروپ کے نیٹ ورک کو بڑا دھچکا
سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ کارروائی شمالی وزیرستان میں سرگرم خارجی گل بہادر گروپ کے نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے اہم کمانڈر کی ہلاکت، مضبوط ٹھکانوں کی تباہی اور بڑی تعداد میں جنگجوؤں کے خاتمے سے تنظیم کی عملی صلاحیتوں، رابطہ کاری اور حملوں کی منصوبہ بندی کی صلاحیت متاثر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے آپریشنز دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو کمزور کرنے اور علاقے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پلنگزئی اور اس کے گرد و نواح میں کلیئرنس اور سرچ آپریشنز کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ فورسز علاقے میں موجود ممکنہ دہشت گرد عناصر، اسلحہ کے ذخائر اور خفیہ پناہ گاہوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز آپریشنز کا سلسلہ نہیں رکے گا۔
امن کے قیام کے عزم کا اعادہ
سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں حالیہ کامیاب کارروائی دہشت گردی کے خلاف جاری قومی جدوجہد میں ایک اہم پیش رفت ہے اور اس سے علاقے میں امن و استحکام کے قیام میں مدد ملے گی۔