پاکستاناہم خبریں

وزیراعظم شہباز شریف: بجٹ عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا آغاز ہے

جٹ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ معاشی مضبوطی کے فوائد ہر طبقے تک پہنچیں اور ترقی کے عمل میں عام شہری کو شریک کیا جائے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے معاشی استحکام کے بعد اب عوام کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کا وعدہ پورا کرنا شروع کر دیا ہے، اور موجودہ بجٹ کو عوامی فلاح، تنخواہ دار طبقے پر بوجھ میں کمی، برآمدات کے فروغ، صنعتی ترقی، زرعی بہتری اور سرمایہ کاری کے لیے ایک جامع پیکیج قرار دیا ہے۔

کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب

جمعہ کو وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنا تیسرا وفاقی بجٹ پیش کر رہی ہے اور یہ بجٹ اس مرحلے پر لایا گیا ہے جب ملک نے مشکل معاشی حالات سے نکل کر استحکام کی جانب پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو بجٹوں میں آئی ایم ایف پروگرام اور معاشی اصلاحات کے تقاضوں کے تحت سخت فیصلے کرنا پڑے، جس سے عام شہری کو مشکلات برداشت کرنا پڑیں، تاہم اب حکومت اس استحکام کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

الحمدللہ، اب خوشحالی کا وقت شروع ہو چکا ہے۔

— وزیراعظم محمد شہباز شریف

عوام کے صبر و تحمل کو خراجِ تحسین

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام نے مشکل ترین معاشی دور میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور مہنگائی کا بوجھ برداشت کیا، جس پر حکومت ان کی شکر گزار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو عام آدمی کی مشکلات کا مکمل ادراک ہے اور اسی لیے بجٹ میں ریلیف کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔

انہوں نے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران مہنگائی کی شرح تقریباً 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ پر آ گئی ہے، جبکہ پالیسی ریٹ 22.5 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد تک آ چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ بہتری حکومتی اقدامات، مالی نظم و ضبط اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مؤثر تعاون کا نتیجہ ہے۔

بجٹ کے اہم اہداف

وزیراعظم نے کہا کہ بجٹ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ معاشی مضبوطی کے فوائد ہر طبقے تک پہنچیں اور ترقی کے عمل میں عام شہری کو شریک کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے متعدد شعبوں میں ریلیف اور ترقیاتی اقدامات شامل کیے ہیں۔

اہم ترجیحات

ٹیکس ریلیف

تنخواہ دار اور متوسط طبقے پر بوجھ کم کرنے کے اقدامات۔

اپنا گھر پروگرام

عوام کو اپنی چھت کی سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومتی معاونت۔

روزگار کے مواقع

نوجوانوں کے لیے روزگار اور ہنرمندی کے پروگرام۔

صنعتی و برآمدی فروغ

صنعتوں کی توسیع، برآمدات میں اضافہ اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی۔

زرعی ترقی

زرعی شعبے کی بہتری اور پیداوار میں اضافے کے لیے اقدامات۔

شہداء کو خراج عقیدت

اجلاس کے آغاز میں وزیراعظم نے حالیہ ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے افسران، جوانوں اور دو مسیحی شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ پوری قوم کے لیے انتہائی افسوسناک ہے اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ان کے بقول دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاست اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

صوبوں کے تعاون کی تعریف

وزیراعظم نے کہا کہ معاشی اہداف کے حصول کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مثبت اور بامعنی مشاورت ہوئی۔ انہوں نے پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی قیادت کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی وحدت اور بین الصوبائی ہم آہنگی ہی بڑے چیلنجز سے نمٹنے کی کلید ہے۔

وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی سے تمام چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

— وزیراعظم محمد شہباز شریف

آئی ایم ایف اور معاشی ٹیم کی کاوشیں

انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، معاشی ٹیم اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں نے معاشی استحکام کی بنیاد رکھی۔ وزیراعظم کے مطابق انہوں نے خود آئی ایم ایف کی سربراہ سے گفتگو کی، جنہوں نے پاکستان کی معاشی کارکردگی اور اصلاحاتی اقدامات کی تعریف کی۔

توانائی، ڈیمز اور مستقبل کی حکمت عملی

وزیراعظم نے سولر، ونڈ اور بیٹری اسٹوریج جیسے متبادل توانائی ذرائع پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنے مقامی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا۔ انہوں نے پانی کے ذخائر اور ڈیمز کی تعمیر کو بھی مستقبل کی معاشی اور زرعی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

چین کے دورے اور سی پیک 2.0

اجلاس میں وزیراعظم نے اپنے حالیہ دورہ چین کے بارے میں بھی کابینہ کو اعتماد میں لیا۔ انہوں نے بتایا کہ سی پیک فیز 2.0 کے تحت صنعتی تعاون، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر اور اقتصادی روابط کو مزید وسعت دینے پر تفصیلی بات چیت ہوئی، اور دونوں ممالک نے متعدد اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

اتحادی جماعتوں کا شکریہ

وزیراعظم نے پاکستان پیپلز پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور دیگر اتحادی جماعتوں کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد میں مشترکہ کوششوں سے ہی ملک کو معاشی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکتا ہے۔

اہم نکات

  1. حکومت نے معاشی استحکام کے بعد عوامی ریلیف کا آغاز کر دیا ہے۔

  2. بجٹ کو عوامی فلاح، ٹیکس ریلیف، برآمدات، صنعت، زراعت اور سرمایہ کاری کے فروغ کا بجٹ قرار دیا گیا۔

  3. مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ پر آنے اور پالیسی ریٹ 22.5 فیصد سے 11 فیصد تک آنے کا حوالہ دیا گیا۔

  4. اپنا گھر پروگرام، روزگار کے مواقع اور متوسط طبقے پر بوجھ کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔

  5. وفاقی و صوبائی تعاون، آئی ایم ایف کے ساتھ کام اور سی پیک 2.0 کو معاشی بہتری کے اہم عوامل قرار دیا گیا۔

خلاصہ

وزیراعظم کے مطابق حکومت کا تیسرا وفاقی بجٹ ایک ایسے مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے جہاں معاشی استحکام کو عوامی ریلیف، روزگار، سرمایہ کاری اور ترقی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ مشکل معاشی دور کے بعد اب ملک بتدریج خوشحالی کی طرف بڑھ رہا ہے، تاہم ان اہداف کے حصول کے لیے مسلسل اصلاحات، وفاقی و صوبائی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کو کلیدی حیثیت حاصل رہے گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button