
اے ایف پی، روئٹرز کے ساتھ
پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ سال کے لیے یہ انتظام پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے، خاص طور پر علاقائی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے دفاعی بجٹ میں تقریبا 18 فیصد اضافہ کر کے اسے 10.79 ارب ڈالر تک پہنچا دیا ہے۔
پاکستانی وزیر خزانہ کے بقول صوبوں کی شراکت کے لیے تین سالہ فریم ورک کی تیاری پر بات چیت جاری ہے، جس کا مقصد مستقبل میں مالی نظم و نسق کو مزید مستحکم بنانا اور دفاعی ضروریات کو بہتر طریقے سے پورا کرنا ہے۔
اس تین سالہ تعاون کے فریم ورک کی مکمل تفصیلات ابھی تک باضابطہ طور پر جاری نہیں کی گئی ہیں تاہم یہ واضح ہے کہ اس فریم کے منظور ہونے کے نتیجے میں پاکستان کے تمام صوبے آئندہ تین برسوں تک باقاعدہ طریقے سے وفاقی اخراجات بالخصوص دفاعی بجٹ میں اپنا حصہ ڈالیں گے تاکہ وفاق پر مالی دباؤ کم کیا جا سکے۔
وفاقی حکومت نے مالی سال 2027-2026 کے لیے ملکی دفاع کی مد میں تین ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جو گزشتہ سال کے 2.55 ہزار ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 17.65 فیصد زیادہ ہے۔
حکومت کے مطابق دفاعی بجٹ میں یہ اضافہ بھارت کے ساتھ جاری کشیدگی، افغان سرحد پر بگڑتی سکیورٹی صورتحال اور ملک کے اندر مسلسل جاری عسکریت پسندانہ سرگرمیوں کے پیش نظر فوج اور سکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
محمد اورنگزیب نے جمعے کے دن پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئے بجٹ کے تحت مجموعی اخراجات 18.77 کھرب روپے (67.49 ارب ڈالر) تک پہنچ جائیں گے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت آئندہ مالی سال کے لیے چار فیصد معاشی ترقی اور 8.2 فیصد مہنگائی کا ہدف رکھ رہی ہے تاہم قیمتوں کا دباؤ اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، خاص طور پر ان گھرانوں کے لیے جو پہلے ہی کئی سال سے مسلسل بڑھتی مہنگائی سے متاثر ہیں۔

یہ بجٹ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے منظور کردہ سات ارب ڈالر کے پروگرام کی شرائط کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، جس کے تحت حکومتی آمدنی میں اضافے، ٹیکسوں کا دائرہ بڑھانے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے مالی خسارے کو کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
جمعے کے دن ہی اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر درجنوں سرکاری ملازمین نے بجٹ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا۔
اسی دوران جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے قومی اسمبلی میں شور مچا کر اور وزیر خزانہ پر کاغذات پھینک کر احتجاج کیا، جس کے باعث انہیں بجٹ پیش کرتے ہوئے کئی بار رکنا پڑا۔
پاکستان کا نیا مالی سال یکم جولائی سے شروع ہو گا جبکہ پارلیمنٹ کے ارکان ان بجٹ تجاویز پر اسی ماہ کے آخر میں ووٹنگ کریں گے۔ پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد ہی صدر پاکستان آصف علی زرداری اس بجٹ پر دستخط کر کے اسے باقاعدہ قانونی شکل دیں گے۔



