
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور تدفین کی تقریبات جولائی کے پہلے ہفتے میں منعقد کی جائیں گی، جبکہ دوسری جانب ثالثی کرنے والے ممالک کا کہنا ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آر آئی بی کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی الوداعی تقریبات 4 جولائی سے شروع ہوں گی اور 9 جولائی تک جاری رہیں گی۔ ان تقریبات میں ایران سمیت دنیا بھر سے شیعہ مذہبی شخصیات، سیاسی رہنما اور لاکھوں عزادار شرکت کریں گے۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق خامنہ ای جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ایک حملے کے دوران جاں بحق ہوئے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی اور ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے ملک کی قیادت سنبھال لی۔
رپورٹس کے مطابق آخری رسومات کا آغاز تہران سے ہوگا، جہاں سرکاری سطح پر تعزیتی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ اس کے بعد جنازے کا جلوس قم روانہ ہوگا، جو ایران کے اہم مذہبی مراکز میں شمار ہوتا ہے اور جہاں متعدد ممتاز شیعہ علما مقیم ہیں۔ بعد ازاں جلوس مشہد پہنچے گا، جو آیت اللہ خامنہ ای کا آبائی شہر ہے۔ انہیں امام رضاؑ کے مقدس روضے کے احاطے میں سپرد خاک کیا جائے گا، جو شیعہ مسلمانوں کے لیے دنیا کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے 1989 میں ایران کے بانی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔ ان کے 37 سالہ دورِ قیادت میں ایران کی داخلی اور خارجی پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں آئیں اور اسلامی جمہوریہ خطے کی ایک اہم سیاسی و عسکری طاقت کے طور پر ابھرا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق خامنہ ای کی بیٹی اور داماد، جو فروری میں ایک علیحدہ حملے میں جاں بحق ہوئے تھے، کی آخری رسومات بھی انہی تقریبات کے دوران ادا کی جائیں گی۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے امکانات پہلے سے زیادہ روشن ہو گئے ہیں۔ ہفتے کے روز جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کو آئندہ 24 گھنٹوں میں حتمی شکل دی جا سکتی ہے اور پاکستان بھی اس عمل کی حمایت کے لیے سفارتی سطح پر متحرک ہے۔
وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں امریکہ اور ایران دونوں کی مذاکراتی عمل میں دلچسپی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جلد ایک ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو پورے خطے میں امن اور استحکام کی راہ ہموار کرے گا۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی مذاکرات کے حوالے سے مثبت پیش رفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کسی بھی سابقہ مرحلے کے مقابلے میں معاہدے کے زیادہ قریب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جاری سفارتی رابطوں نے جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ دنوں میں متعدد مواقع پر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک ممکنہ معاہدہ قریب ہے۔ انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے مذاکراتی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر جنگ بندی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہوگا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔



