
لباس کے قواعد: افغان طالبان نے خواتین کو حراست میں لے لیا
اطلاعات ہیں کہ اس تشدد نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ہلاک شدگان میں ایک لڑکا بھی شامل تھا۔
روئٹرز، اے پی کے ساتھ
بتایا گیا ہے کہ ان خواتین پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے چہرہ نہیں چھپایا ہوا تھا۔ اس بیان کے مطابق بعد میں کچھ خواتین کو رہا بھی کر دیا گیا۔
اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن نے کہا کہ ان گرفتاریوں نے پورے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے درمیان خوف اور بے چینی میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایک علیحدہ بیان میں افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) نے ہرات میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے مبینہ زیادہ استعمال پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔
مظاہرہن پر تشدد کرنے پر تشویش کا اظہار
اقوام متحدہ کے مطابق طالبان کی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر مبینہ طور پر فائرنگ کی اور بعض کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس احتجاج میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
اطلاعات ہیں کہ اس تشدد نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ہلاک شدگان میں ایک لڑکا بھی شامل تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاج سے قبل طالبان کی اخلاقی پولیس نے بعض خواتین کو مبینہ طور پر حجاب کے قواعد کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا تھا۔ تاہم مقامی حکام نے خواتین کی گرفتاری کی خبروں کی تردید کی ہے۔
بین الاقوامی طبی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے بھی خواتین کی گرفتاری کی خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ لباس کے ضوابط کی خلاف ورزی پر گرفتار کی گئی خواتین میں ایم ایس ایف سے وابستہ ایک خاتون پیرامیڈک بھی شامل تھیں۔
ایم ایس ایف نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے اپنے عملے کے رکن کے ساتھ ناانصافی قرار دیا اور کہا کہ افغانستان میں خواتین پہلے ہی نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں شرکت پر سخت پابندیوں کا سامنا کر رہی ہیں، جس کے صحت کی سہولیات تک رسائی پر بھی براہ راست اثرات پڑتے ہیں۔
سن 2021 میں کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد افغان طالبان نے ملک میں خواتین اور لڑکیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن میں ان کی تعلیم، ملازمت اور کھیلوں تک رسائی کو محدود بنایا گیا ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔


