
امن معاہدے پر دستخط اتوار کو نہ ہو سکیں گے، ایران
’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر آنے والے دنوں میں دستخط کا امکان ہے، لیکن دوسری جانب کی ہچکچاہٹ کے باعث دستخط کی تاریخ کے بارے میں محتاط رہنا ضروری ہے۔‘‘
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتے کے روز سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ معاہدے پر دستخط کا عمل اتوار کو نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چند دنوں کے دوران ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا، تاہم اس حوالے سے کسی حتمی تاریخ کا اعلان کرنا قبل از وقت ہوگا۔
بقائی کے مطابق، ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر آنے والے دنوں میں دستخط کا امکان ہے، لیکن دوسری جانب کی ہچکچاہٹ کے باعث دستخط کی تاریخ کے بارے میں محتاط رہنا ضروری ہے۔‘‘
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب چند گھنٹے قبل پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کو آئندہ 24 گھنٹوں میں حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے اور پاکستان اس کے بعد الیکٹرانک دستخطوں کی تیاری کر رہا ہے۔
تاہم ایرانی مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن بعض اہم نکات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں اور معاہدے کے حتمی اعلان کے لیے مزید بات چیت درکار ہو سکتی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں جاری ہیں اور ان کا مقصد فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کا خاتمہ اور خطے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔ ایران اور امریکہ دونوں نے حالیہ دنوں میں معاہدے کے قریب پہنچنے کا عندیہ دیا ہے، لیکن تہران نے واضح کیا ہے کہ مکمل اتفاق رائے کے بغیر کسی حتمی مفاہمت کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔


