پاکستان پریس ریلیزاہم خبریںتازہ ترین

پاکستان میں آئی ٹی کمپنی کی آڑ میں مشہور شخصیات کی جعلی نازیبا ویڈیوز بنانے والا بین الاقوامی گینگ بے نقاب

حکام کی جانب سے گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ ان کے ڈیجیٹل آلات اور آن لائن سرگرمیوں کا فرانزک جائزہ بھی لیے جانے کا امکان ہے۔

سید عاطف ندیم-ادارت

مبینہ سائبر کرائم نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی، 114 غیر ملکی گرفتار، جعلی ویڈیوز کے ذریعے بلیک میلنگ اور بدنام کرنے کی تحقیقات

اسلام آباد: پاکستان میں آئی ٹی کمپنی کی آڑ میں مبینہ طور پر مشہور شخصیات اور دیگر افراد کی جعلی نازیبا ویڈیوز تیار کرکے انہیں سوشل میڈیا پر پھیلانے والے ایک بین الاقوامی سائبر کرائم نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کارروائی کے دوران 114 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مبینہ گروہ کے طریقۂ واردات، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور دیگر ممکنہ سہولت کاروں کے حوالے سے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق گروہ نے بظاہر ایک آئی ٹی کمپنی اور ٹیکنالوجی سے متعلق کاروباری سرگرمیوں کی آڑ میں اپنا نیٹ ورک قائم کیا، تاہم تفتیشی اداروں کو شبہ ہے کہ اس کے بعض ارکان مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل ٹولز استعمال کرتے ہوئے معروف شخصیات کی جعلی اور نازیبا ویڈیوز تیار کرنے میں ملوث تھے۔

یہ معاملہ اس لحاظ سے بھی انتہائی حساس قرار دیا جا رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی شخص کے چہرے اور شناخت کو جعلی ویڈیو میں شامل کرکے ایسا تاثر پیدا کیا جا سکتا ہے کہ متاثرہ فرد خود کسی غیر اخلاقی یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہے۔

114 غیر ملکیوں کی گرفتاری

حکام کے مطابق کارروائی کے دوران 114 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ گرفتار افراد سے مبینہ سائبر نیٹ ورک، آئی ٹی کمپنی کی سرگرمیوں، ڈیجیٹل آلات اور آن لائن مواد کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

تفتیشی ادارے یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ گرفتار افراد میں سے کون لوگ ٹیکنیکل کام انجام دیتے تھے، کون مبینہ طور پر مواد تیار کرتا تھا، کون اسے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک پہنچاتا تھا اور کون اس نیٹ ورک کے مالی معاملات یا انتظامی امور کو دیکھتا تھا۔

حکام کی جانب سے گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ ان کے ڈیجیٹل آلات اور آن لائن سرگرمیوں کا فرانزک جائزہ بھی لیے جانے کا امکان ہے۔

آئی ٹی کمپنی کی آڑ میں مبینہ سرگرمیاں

ابتدائی اطلاعات کے مطابق مبینہ گروہ نے اپنی سرگرمیوں کو ایک باقاعدہ آئی ٹی کمپنی یا ٹیکنالوجی سے متعلق کاروبار کے طور پر ظاہر کیا ہوا تھا۔

ایسی کمپنیوں میں عام طور پر سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافکس، ویڈیو ایڈیٹنگ اور دیگر آن لائن خدمات انجام دی جاتی ہیں، تاہم تفتیشی اداروں کو شبہ ہے کہ اسی ٹیکنیکل انفراسٹرکچر کو مبینہ طور پر غیر قانونی ڈیجیٹل مواد تیار کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کمپنی کی اصل کاروباری سرگرمیوں اور مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے درمیان کس نوعیت کا تعلق تھا اور آیا کمپنی کے تمام ملازمین اس نیٹ ورک سے واقف تھے یا صرف مخصوص افراد مبینہ طور پر اس میں ملوث تھے۔

مشہور شخصیات کی جعلی ویڈیوز بنانے کا الزام

مبینہ بین الاقوامی گینگ پر مشہور شخصیات کی جعلی نازیبا ویڈیوز تیار کرنے کا الزام ہے۔ اس نوعیت کی ویڈیوز عموماً مصنوعی ذہانت، چہرے کی تبدیلی اور دیگر ڈیجیٹل ایڈیٹنگ تکنیکوں کے ذریعے تیار کی جاتی ہیں۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی میں کسی حقیقی شخص کے چہرے یا آواز کو مصنوعی مواد کے ساتھ اس انداز میں جوڑا جاسکتا ہے کہ عام صارف کے لیے اصل اور جعلی ویڈیو میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال متاثرہ افراد کی ساکھ، نجی زندگی اور ذہنی سکون کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ جعلی مواد کی تیزی سے سوشل میڈیا پر پھیلنے کی وجہ سے اس کے اثرات چند گھنٹوں میں عالمی سطح تک پہنچ سکتے ہیں۔

جعلی مواد کے ذریعے شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش

تفتیشی حکام کے مطابق جعلی نازیبا ویڈیوز کا مقصد صرف تفریح یا غلط معلومات پھیلانا نہیں بلکہ بعض معاملات میں متاثرہ افراد کو بدنام کرنا، انہیں بلیک میل کرنا یا ان سے مالی فائدہ حاصل کرنا بھی ہوسکتا ہے۔

ایسے نیٹ ورکس مبینہ طور پر پہلے کسی معروف شخصیت یا عام شہری کی تصاویر، ویڈیوز اور دیگر عوامی طور پر دستیاب معلومات جمع کرتے ہیں، اس کے بعد مصنوعی ذہانت یا ویڈیو ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے جعلی مواد تیار کیا جاتا ہے۔

بعدازاں اس مواد کو سوشل میڈیا، میسجنگ ایپس یا دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر پھیلانے کی دھمکی دے کر متاثرہ فرد کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا خطرناک پہلو

مصنوعی ذہانت نے ویڈیو اور تصویر سازی کے شعبے میں غیر معمولی ترقی کی ہے۔ یہی ٹیکنالوجی جہاں تعلیم، فلم، تحقیق، کاروبار اور تخلیقی شعبوں میں مثبت استعمال ہوسکتی ہے، وہیں اس کا غلط استعمال سائبر کرائم کے لیے بھی کیا جا رہا ہے۔

ڈیپ فیک مواد میں کسی فرد کے چہرے، آواز یا جسمانی حرکات کو تبدیل کرکے ایک ایسا مصنوعی منظر تیار کیا جاسکتا ہے جو حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ماہرین کے مطابق مسئلہ اس وقت مزید سنگین ہوجاتا ہے جب جعلی مواد کو سنسنی خیز عنوانات، جعلی اکاؤنٹس اور متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بیک وقت پھیلایا جائے۔

بین الاقوامی نیٹ ورک ہونے کا پہلو

114 غیر ملکیوں کی گرفتاری کے دعوے نے اس کیس کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ تفتیشی ادارے اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مبینہ نیٹ ورک کے روابط کن ممالک تک پھیلے ہوئے تھے اور پاکستان میں موجود افراد کس بین الاقوامی نظام کے ساتھ منسلک تھے۔

تحقیقات میں ممکنہ طور پر بین الاقوامی مالی لین دین، آن لائن اکاؤنٹس، کلاؤڈ اسٹوریج، سوشل میڈیا پروفائلز، سرورز، ای میلز اور دیگر ڈیجیٹل رابطوں کا جائزہ شامل ہوگا۔

اگر بیرونِ ملک موجود افراد یا اداروں کے ساتھ روابط ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ بین الاقوامی سائبر کرائم تعاون کے دائرے میں بھی داخل ہوسکتا ہے۔

ڈیجیٹل فرانزک تحقیقات اہم مرحلہ

اس کیس میں ڈیجیٹل فرانزک تحقیقات انتہائی اہم ہوں گی۔ تفتیشی ادارے گرفتار افراد کے موبائل فونز، کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، اسٹوریج ڈیوائسز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

فرانزک ماہرین یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ جعلی ویڈیوز کہاں تیار کی گئیں، کون سا سافٹ ویئر یا مصنوعی ذہانت کا نظام استعمال کیا گیا، مواد کہاں محفوظ کیا گیا اور اسے کن اکاؤنٹس یا پلیٹ فارمز کے ذریعے پھیلایا گیا۔

ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر مبینہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان، مالی معاونین اور سہولت کاروں تک پہنچنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

متاثرین کے لیے سنگین خطرہ

سائبر ماہرین کے مطابق جعلی نازیبا ویڈیوز کسی بھی شخص کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ خاص طور پر مشہور شخصیات کے معاملے میں ایسی ویڈیوز لاکھوں افراد تک تیزی سے پہنچ سکتی ہیں۔

اگرچہ ویڈیو جعلی ہوتی ہے، لیکن اسے دیکھنے والے ہر فرد کے لیے فوری طور پر اس کی حقیقت جانچنا ممکن نہیں ہوتا۔ نتیجتاً متاثرہ فرد کو سماجی، پیشہ ورانہ اور ذاتی سطح پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی لیے ماہرین شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ کسی بھی مشکوک ویڈیو کو تصدیق کے بغیر آگے شیئر نہ کیا جائے۔

سوشل میڈیا صارفین کے لیے اہم پیغام

حالیہ واقعے کے تناظر میں سوشل میڈیا صارفین کے لیے بھی احتیاط انتہائی ضروری ہے۔ کسی معروف شخصیت یا عام شہری سے متعلق غیر معمولی نوعیت کی ویڈیو سامنے آنے پر اسے فوراً حقیقت سمجھنے کے بجائے اس کے ماخذ اور صداقت کی جانچ کی جانی چاہیے۔

جعلی یا مشکوک مواد کو شیئر کرنا متاثرہ فرد کی مشکلات میں اضافہ کرسکتا ہے اور بعض حالات میں صارف خود بھی قانونی مسائل کا سامنا کرسکتا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے مواد کی رپورٹنگ اور اسے مزید پھیلنے سے روکنا بھی ضروری ہے۔

بلیک میلنگ اور مالی فائدے کے امکانات کی تحقیقات

تفتیشی ادارے اس پہلو کا بھی جائزہ لے سکتے ہیں کہ آیا مبینہ گروہ جعلی ویڈیوز تیار کرنے کے بعد متاثرہ افراد سے رقم طلب کرتا تھا یا کسی اور قسم کا فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

اگر بلیک میلنگ کے شواہد سامنے آتے ہیں تو کیس میں سائبر کرائم کے ساتھ ساتھ دیگر متعلقہ فوجداری دفعات بھی شامل ہوسکتی ہیں۔

تحقیقات کا دائرہ صرف ویڈیوز تیار کرنے والے افراد تک محدود رکھنے کے بجائے ممکنہ مالی نیٹ ورک، رابطہ کاروں، آن لائن اکاؤنٹس اور تقسیم کاروں تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے چیلنجز

انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے ساتھ پاکستان سمیت دنیا بھر میں سائبر کرائم کی نوعیت بھی تبدیل ہورہی ہے۔

روایتی ہیکنگ، فراڈ اور اکاؤنٹ چوری کے ساتھ اب مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی تصاویر، آوازیں اور ویڈیوز ایک نیا چیلنج بن چکی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے صرف گرفتاریوں کے بجائے جدید فرانزک صلاحیت، بین الاقوامی تعاون، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ رابطہ اور عوامی آگاہی بھی ضروری ہے۔

تحقیقات کے نتائج کا انتظار

114 غیر ملکیوں کی گرفتاری اور مبینہ بین الاقوامی نیٹ ورک کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے بعد اب اصل توجہ تحقیقات کے نتائج پر مرکوز ہے۔

تفتیشی ادارے یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ گرفتار افراد میں سے کتنے مبینہ طور پر جعلی ویڈیوز تیار کرنے، انہیں پھیلانے یا اس پورے نیٹ ورک کو چلانے میں براہِ راست ملوث تھے اور اس کارروائی کے پیچھے موجود اصل نیٹ ورک کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔

قانونی طور پر کسی بھی ملزم کا جرم عدالت میں ثابت ہونے تک اسے ملزم ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے تحقیقات مکمل ہونے اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ذمہ داری کا حتمی تعین ہوسکے گا۔

مصنوعی ذہانت کے مثبت استعمال کے ساتھ غلط استعمال کی روک تھام بھی ضروری

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے مؤثر قوانین، تکنیکی صلاحیت اور عوامی آگاہی بھی ضروری ہے۔

ٹیکنالوجی کو کاروبار، تعلیم، صحت، تحقیق اور دیگر مثبت شعبوں میں استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے غلط استعمال سے شہریوں کی عزت، رازداری اور ڈیجیٹل شناخت کے تحفظ کے لیے بھی مضبوط اقدامات کرنا ہوں گے۔

114 غیر ملکیوں کی گرفتاری سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے پاکستان میں ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہونے والے ممکنہ سائبر جرائم کے خطرے کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔ اگر تحقیقات میں الزامات ثابت ہوتے ہیں تو یہ کارروائی نہ صرف ایک مبینہ بین الاقوامی سائبر نیٹ ورک کے خلاف اہم پیش رفت ہوگی بلکہ پاکستان میں ڈیجیٹل جرائم کی بدلتی ہوئی نوعیت کے حوالے سے بھی ایک اہم کیس بن سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button