
یورپ میں شدید گرمی کی لہر: اسکول بند، ٹرین سروسز متاثر
جنوب مغربی فرانس کے علاقے جیروند میں مقامی حکام نے بتایا کہ 80 سے 95 سال کی عمر کے تین افراد کی ہلاکت میں شدید گرمی بھی ایک اہم وجہ رہی۔
اے ایف پی کے ساتھ
فرانسیسی حکام کے مطابق ملک کے 96 ڈیپارٹمنٹس میں سے 49 کو انتہائی خطرناک موسمی صورتحال کے باعث ریڈ الرٹ پر رکھا گیا ہے، جبکہ اختتام ہفتہ پر یہ تعداد 35 تھی۔
شدید گرمی کے پیش نظر حکام نے پیر کے روز 845 اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا، جبکہ مزید 1,800 اسکولوں میں طلبہ کو معمول سے پہلے چھٹی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اتوار کے روز فرانس کے متعدد شہروں میں سالانہ موسیقی میلے بھی منسوخ کر دیے گئے، جبکہ حکومت نے ریڈ الرٹ والے علاقوں میں صحت عامہ اور امن و امان کے پیش نظر عوامی مقامات پر شراب نوشی پر پابندی بھی عائد کر دی ہے۔
فرانس کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا، جو جون کے مہینے کے لیے غیر معمولی حد تک زیادہ سمجھا جاتا ہے۔
جنوب مغربی فرانس کے علاقے جیروند میں مقامی حکام نے بتایا کہ 80 سے 95 سال کی عمر کے تین افراد کی ہلاکت میں شدید گرمی بھی ایک اہم وجہ رہی۔

درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی
فرانسیسی محکمہ موسمیات کے مطابق موجودہ گرمی کی لہر شدت کے اعتبار سے اگست 2003 کی تباہ کن ہیٹ ویو جیسی ثابت ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں فرانس میں تقریباً 15 ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ چند روز میں درجہ حرارت مزید بڑھتا ہے تو یورپ کے مختلف ممالک میں ٹرانسپورٹ، صحت اور تعلیمی شعبوں پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
ادھر اسپین کے محکمہ موسمیات نے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
شدید گرمی کے باعث اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں حکام نے اتوار کو ایک بڑی اسکرین پر فیفا ورلڈ کپ میں سعودی عرب کے خلاف اسپین کی فتح کی عوامی نمائش بھی منسوخ کر دی، کیونکہ گرمی کے باعث عوامی اجتماع کو خطرناک قرار دیا گیا تھا۔

نئے ریکارڈ درجہ حرارت کا خدشہ
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت نئی ریکارڈ سطح تک پہنچ سکتا ہے۔
بیلجیم کے محکمہ موسمیات آئی آر ایم کے سربراہ ڈیوڈ ڈیہناؤ کے مطابق آئندہ ہفتے ملک میں درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتا ہے، جو بیلجیم میں اب تک ریکارڈ کیا جانے والا گرم ترین موسم ثابت ہو سکتا ہے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف رَیڈنگ کے نیشنل سینٹر فار ایٹموسفیرک سائنس سے وابستہ سینئر محقق اکشے دیوراس نے کہا کہ حالیہ ریکارڈ توڑ گرمی کے پیچھے بنیادی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے فضا میں اضافی حرارت شامل کر دی ہے، جس کے نتیجے میں بہت سخت گرمی کے واقعات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید اور خطرناک ہو گئے ہیں۔
برطانیہ کی رائل میٹیورولوجیکل سوسائٹی کی چیف ایگزیکٹیو لز بینٹلی نے پیش گوئی کی ہے کہ موجودہ ہفتے کے دوران برطانیہ میں درجہ حرارت 38 سے 39 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جو جون کے مہینے کے لیے ایک نئی ریکارڈ سطح ہو گی۔
لز بینٹلی کے مطابق مئی میں بھی برطانیہ میں درجہ حرارت کے سابقہ ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں، اور اگر موجودہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں تو مئی اور جون مسلسل دو ایسے مہینے ہوں گے جن میں ملکی درجہ حرارت کے ریکارڈ دو ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ فرق کے ساتھ ٹوٹ جائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر معمولی گرمی کی یہ لہر پورے یورپ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کی ایک اور واضح مثال ہے، جہاں متعدد ممالک شدید گرمی، جنگلاتی آگ کے واقعات اور صحت عامہ کو لاحق شدید خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔



