
امریکہ۔ایران کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر، ٹرمپ نے فوجی حملے دوبارہ شروع کرنے کی منظوری دے دی، توانائی تنصیبات بھی ممکنہ اہداف میں شامل
امریکی حکام کے مطابق گزشتہ حملوں سے ایران پر مطلوبہ "ڈیٹرنس" (باز رکھنے) کا اثر پیدا نہیں ہوا، جس کے باعث مزید سخت اقدامات ضروری سمجھے گئے۔
واشنگٹن/تہران: مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ اطلاعات ہیں کہ حملوں کا نیا مرحلہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران، ممکنہ طور پر اتوار تک، شروع ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں کئی روز تک جاری رہ سکتی ہیں اور ان کا دائرہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہو سکتا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث واشنگٹن نے تہران پر فوجی دباؤ میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اب اس حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے جس کے تحت طاقت کے استعمال کے ذریعے ایران کو مذاکرات کی میز پر امریکی شرائط قبول کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔
باخبر ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں اور قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا ہے کہ انہیں ایران کے ساتھ کسی جامع معاہدے کے امکانات پر پہلے جیسا اعتماد نہیں رہا۔ ان کے بقول ایرانی قیادت مذاکرات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی اور وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے اور مختلف ذرائع سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم وائٹ ہاؤس اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ صرف سفارت کاری کے ذریعے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنا ممکن نہیں رہا۔ اسی لیے فوجی دباؤ اور سفارتی کوششوں کو بیک وقت آگے بڑھانے کی حکمتِ عملی اختیار کی جا رہی ہے۔
کیمپ ڈیوڈ اجلاس میں اہم فیصلے
رپورٹ کے مطابق جمعہ کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ ایک طویل اور اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں ایران کے خلاف آئندہ فوجی حکمتِ عملی، خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور مختلف عسکری آپشنز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں امریکی انٹیلی جنس اداروں، محکمہ دفاع (پینٹاگون)، سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) اور قومی سلامتی کونسل کے اعلیٰ حکام نے ایران کی عسکری صلاحیتوں، میزائل پروگرام، جوابی کارروائیوں کے امکانات اور خطے میں امریکی مفادات کو لاحق خطرات پر بریفنگ دی۔
اجلاس کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف محدود لیکن مؤثر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی منظوری دی۔ امریکی حکام کے مطابق گزشتہ حملوں سے ایران پر مطلوبہ "ڈیٹرنس” (باز رکھنے) کا اثر پیدا نہیں ہوا، جس کے باعث مزید سخت اقدامات ضروری سمجھے گئے۔
توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے پر غور
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مرتبہ ممکنہ فوجی کارروائیوں میں ایران کی توانائی کی تنصیبات، تیل کی پیداوار کے مراکز، ایندھن ذخیرہ کرنے والے ڈپو، ریفائنریاں، گیس انفراسٹرکچر اور دیگر اہم اقتصادی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صدر ٹرمپ ایران کے اندر موجود توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، تاہم ان اہداف پر حملے کے لیے ابھی تک باضابطہ حتمی احکامات جاری نہیں کیے گئے۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کی اقتصادی شہ رگ سمجھے جانے والے توانائی کے شعبے پر دباؤ ڈال کر تہران کو جنگ بندی مذاکرات میں زیادہ لچکدار رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کی ممکنہ شمولیت
رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد اسرائیل دوبارہ امریکی فوجی کارروائیوں میں شریک ہو سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ایران کی جانب سے اسرائیل کے خلاف بیلسٹک میزائلوں، ڈرون حملوں یا خطے میں موجود اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
عسکری ماہرین کے مطابق اسرائیل کی شمولیت سے نہ صرف تنازع مزید شدت اختیار کرے گا بلکہ لبنان، شام، عراق، یمن اور خلیجی ممالک تک اس کے اثرات پھیل سکتے ہیں، جس سے پورا مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع علاقائی تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
ایران کا سخت ردعمل
دوسری جانب ایران نے امریکی مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واشنگٹن پر خطے میں کشیدگی کو جان بوجھ کر بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔
ایرانی فوج کے مرکزی آپریشنل کمانڈ خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کے کمانڈر جنرل علی عبداللہی نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکہ مسلسل ایسے اقدامات کر رہا ہے جن سے پورا خطہ ایک نئی جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور ملکی دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سپاہ پاسداران کا انتباہ
ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران کے اندر نئی فوجی کارروائیاں کیں تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔
پاسداران انقلاب سے وابستہ خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک اعلیٰ ایرانی سکیورٹی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا "انتہائی غیر دانشمندانہ اور پاگل پن پر مبنی اقدام” ہوگا۔
عہدیدار کے مطابق ایران نے پہلے ہی ایک جامع اور وسیع جوابی منصوبہ تیار کر رکھا ہے، جس میں اسرائیل کی اہم فوجی، صنعتی اور توانائی تنصیبات کے علاوہ خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں، بحری اثاثوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو جوابی کارروائی فوری، مربوط اور پہلے سے زیادہ شدید ہوگی۔
ٹرمپ کا مزید سخت مؤقف
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے حالیہ بیانات میں اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ اگر ایران امریکی فوجیوں، امریکی مفادات یا خطے میں اتحادی ممالک کو نشانہ بناتا رہا تو امریکہ ایران کے اندر اہداف کی فہرست کو مزید وسیع کر سکتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق مستقبل کی کارروائیوں میں صرف فوجی تنصیبات ہی نہیں بلکہ ایسے انفراسٹرکچر کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے جسے واشنگٹن ایرانی فوجی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے اہم سمجھتا ہے۔
سفارتی امکانات کمزور
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کی شدید کمی، مسلسل فوجی دھمکیوں اور ایک دوسرے پر عائد الزامات کے باعث سیاسی حل کی طرف واپسی کے امکانات مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں امریکی حملے شروع ہوتے ہیں اور ایران اس کا بھرپور جواب دیتا ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف خلیج میں تیل کی ترسیل، عالمی توانائی کی منڈی اور عالمی معیشت متاثر ہو سکتی ہے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے اور زیادہ وسیع فوجی تصادم کی لپیٹ میں بھی آ سکتا ہے۔
عالمی برادری، خصوصاً اقوامِ متحدہ، یورپی ممالک اور خطے کے اہم سفارتی کرداروں کی جانب سے دونوں فریقوں پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا جا رہا ہے، تاہم زمینی صورتحال اس وقت مسلسل بگڑتی دکھائی دے رہی ہے اور آنے والے چند روز خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔



