
سول سروسز اکیڈمی میں "ہمنوا ایپ” کی رونمائی، نابینا طلبہ کو امتحانات میں معاونت فراہم کرنے کا منفرد اقدام
"ہم نے اپنے پروگرام میں نابینا افراد کو نظر انداز کیا ہے، لیکن ہم مستقبل میں اس پر بھرپور انداز میں کام کرنے کے خواہاں ہیں۔"
قاسم بخاری-پاکستان
لاہور: سول سروسز اکیڈمی کی اسپیشل ایجوکیشن سوسائٹی کے زیرِ اہتمام خصوصی افراد کے حقوق، شمولیتی تعلیم، آگاہی اور سماجی معاونت کے فروغ کے لیے ایک پروقار اور کامیاب تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں اعلیٰ سرکاری حکام، تعلیمی شخصیات، سماجی رہنماؤں، پروبیشنری افسران اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ تقریب کا بنیادی مقصد معاشرے میں خصوصی افراد کے لیے مساوی مواقع، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انہیں تعلیم اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کرنا تھا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی مسٹر فرحان عزیز خواجہ تھے، جبکہ مسٹر بلال اکرم بٹ، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن اینڈ فنانس، سول سروسز اکیڈمی بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔ مہمانِ اعزاز محترمہ شائستہ پرویز ملک، رکن قومی اسمبلی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر لیبارڈ (LABARD) تھیں۔ تقریب میں محترمہ ارم انجم، پرنسپل کنئیرڈ کالج لاہور اور محترمہ سمیہ ممتاز، ریسورس پرسن اسپیشل ایجوکیشن سوسائٹی اور ایڈیشنل ڈائریکٹر فنانس، سول سروسز اکیڈمی سمیت دیگر معزز شخصیات نے بھی شرکت کی۔
تقریب کا آغاز ڈاؤن سنڈروم سے متعلق ایک متاثر کن تھیٹر پرفارمنس سے کیا گیا، جس نے حاضرین کے دل موہ لیے۔ اس پرفارمنس میں نہ صرف ڈاؤن سنڈروم کے حامل افراد کو درپیش معاشرتی مسائل کی عکاسی کی گئی بلکہ اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ خصوصی افراد کو معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لیے ہمدردی، قبولیت، احترام اور مساوی مواقع کی فراہمی ناگزیر ہے۔ شرکاء نے فنکاروں کی بہترین کارکردگی کو بھرپور داد دی اور اس پیغام کو سراہا کہ ہر انسان اپنی صلاحیتوں کے مطابق معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
تقریب کی نمایاں اور اہم ترین جھلک "ہمنوا ایپ” کی باضابطہ رونمائی تھی، جسے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) کی ٹیکنالوجی ٹیم کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ یہ جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم بصارت سے محروم طلبہ کو رضاکار رائٹرز کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ امتحانات کے دوران انہیں تحریری معاونت بروقت اور شفاف انداز میں فراہم کی جا سکے۔
تقریب میں بتایا گیا کہ ہمنوا ایپ نہ صرف بصارت سے محروم طلبہ کی تعلیمی مشکلات میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ رضاکارانہ خدمات کے فروغ، سماجی ذمہ داری کے احساس اور جدید ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کی ایک بہترین مثال بھی بنے گی۔ اس اقدام سے خصوصی طلبہ کے لیے امتحانی عمل کو مزید آسان، منظم اور قابلِ اعتماد بنانے میں مدد ملے گی۔
اس موقع پر مسٹر بلال اکرم بٹ نے ہمنوا ایپ کو خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ:
"ہمنوا عوامی خدمت کے حقیقی جذبے کی عکاسی کرنے والا ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔ رضاکاروں کو بصارت سے محروم طلبہ سے منسلک کر کے یہ ایپ اس بات کی بہترین مثال پیش کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کو رکاوٹیں دور کرنے اور تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو صرف انتظامی امور تک محدود رکھنے کے بجائے اسے انسانی خدمت اور سماجی بہبود کے لیے استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور ہمنوا ایپ اسی سوچ کی عملی تصویر ہے۔
تقریب کے دوران لیبارڈ (LABARD) کے اشتراک سے خصوصی بچوں کی تیار کردہ دستکاری، آرٹ ورک اور بیکری مصنوعات پر مشتمل ایک خوبصورت بیک سیل بھی منعقد کیا گیا۔ ان اسٹالز پر خصوصی بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ پروبیشنری افسران، مہمانوں اور شرکاء نے نہ صرف ان مصنوعات کو بے حد پسند کیا بلکہ خصوصی بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے بھرپور خریداری بھی کی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ اس طرح کی سرگرمیاں خصوصی افراد کی معاشی خودمختاری اور سماجی اعتماد میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
مہمانِ اعزاز محترمہ شائستہ پرویز ملک نے اپنے خطاب میں خصوصی افراد خصوصاً بصارت سے محروم افراد کی تعلیم اور فلاح و بہبود کے حوالے سے مزید عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا:
"ہم نے اپنے پروگرام میں نابینا افراد کو نظر انداز کیا ہے، لیکن ہم مستقبل میں اس پر بھرپور انداز میں کام کرنے کے خواہاں ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کو معاشرے کا بااختیار شہری بنانے کے لیے حکومتی اداروں، تعلیمی تنظیموں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے اسپیشل ایجوکیشن سوسائٹی اور سول سروسز اکیڈمی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے اقدامات ایک زیادہ منصفانہ، باوقار اور شمولیتی معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تقریب کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ سمیہ ممتاز نے جامع تعلیم (Inclusive Education)، مساوی مواقع، سماجی انصاف اور اجتماعی ذمہ داری کے موضوع پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ وہاں ہر فرد کو بلاامتیاز تعلیم، روزگار اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ خصوصی افراد کو محض ہمدردی نہیں بلکہ بااختیار بنانے کی ضرورت ہے، اور اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں، سرکاری محکموں، ٹیکنالوجی ماہرین اور سماجی تنظیموں کو مل کر دیرپا اور مؤثر حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ ان کے خیالات کو حاضرین نے بھرپور انداز میں سراہا۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خصوصی افراد کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، انہیں تعلیم، روزگار اور سماجی زندگی میں مکمل شرکت کے مواقع فراہم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کی زندگی آسان بنانے کے لیے اس نوعیت کی سرگرمیوں کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ سول سروسز اکیڈمی کی اسپیشل ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے منعقدہ یہ تقریب نہ صرف خصوصی افراد کے حقوق کے حوالے سے شعور بیدار کرنے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوئی بلکہ "ہمنوا ایپ” جیسے جدید اور عملی اقدام نے یہ واضح کر دیا کہ ٹیکنالوجی، سماجی خدمت اور شمولیتی تعلیم کے امتزاج سے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جہاں ہر فرد کو بلا تفریق آگے بڑھنے کے مساوی مواقع میسر ہوں۔



