پاکستاناہم خبریں

پاکستان میں غیر ملکی خواتین کے اغواء اور مبینہ جنسی زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، کرپٹو کرنسی سرمایہ کاری کا انکشاف

خواتین کو مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں رکھنے کے دوران ان کا جنسی استحصال کیا گیا، جبکہ ملزمان نے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری سے متعلق تقریباً ڈیڑھ ملین امریکی ڈالر منافع کے نام پر رقم کا مطالبہ بھی کیا

ڈاکٹر شیخ جعفر محمود-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
لاہور: لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغواء، حبسِ بے جا، جنسی زیادتی اور تاوان طلبی کے ہائی پروفائل مقدمے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ متاثرہ غیر ملکی خواتین اور گرفتار ملزمان کے درمیان کرپٹو کرنسی سے متعلق کاروباری تعلقات موجود تھے، جنہیں بعد ازاں مبینہ طور پر جرائم کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان نے خود کو کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری اور بھاری منافع دلانے والے کاروبار سے وابستہ ظاہر کیا تھا۔ اسی بنیاد پر انہوں نے غیر ملکی خواتین کو مزید سرمایہ کاری کی ترغیب دی اور انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کو یقین دلایا گیا تھا کہ پاکستان پہنچنے پر انہیں کرپٹو کرنسی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے بدلے غیر معمولی منافع حاصل ہوگا۔
تحقیقات کے مطابق متاثرہ خواتین 29 جون کو لاہور پہنچیں اور ان کی واپسی کی پرواز 5 جولائی کو طے تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین اپنے قیام کے دوران مختلف مقامات پر رہیں، تاہم واپسی سے قبل مرکزی ملزم رضا انہیں لاہور کے علاقے ڈیفنس لے گیا، جہاں پہلے سے موجود اس کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر انہیں یرغمال بنا لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق خواتین کو مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں رکھنے کے دوران ان کا جنسی استحصال کیا گیا، جبکہ ملزمان نے کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری سے متعلق تقریباً ڈیڑھ ملین امریکی ڈالر منافع کے نام پر رقم کا مطالبہ بھی کیا۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ یہ مطالبہ درحقیقت تاوان کی شکل اختیار کر گیا تھا اور خواتین پر مالی دباؤ ڈال کر رقم وصول کرنے کی کوشش کی گئی۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ خواتین کی شکایت پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا۔ گرفتار ملزمان سے مختلف پہلوؤں پر پوچھ گچھ جاری ہے اور ان کے تفصیلی بیانات بھی ریکارڈ کر لیے گئے ہیں۔ تفتیش کے دوران ڈیجیٹل شواہد، موبائل فونز، لیپ ٹاپس، بینکنگ ریکارڈ، کرپٹو کرنسی والٹس اور دیگر الیکٹرانک مواد کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ مالی لین دین اور مبینہ فراڈ کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم یہ بھی معلوم کر رہی ہے کہ آیا اس گروہ میں مزید افراد بھی شامل تھے یا نہیں، اور کیا اس نوعیت کے واقعات میں کسی بین الاقوامی نیٹ ورک کا کردار موجود ہے۔ اس حوالے سے متعلقہ اداروں سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ کرپٹو کرنسی ٹرانزیکشنز کا مکمل ریکارڈ حاصل کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کو آج کینٹ کچہری میں مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا جائے گا، جہاں پولیس ان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرے گی تاکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا سکیں اور مقدمے کے دیگر پہلوؤں کی مکمل تحقیقات کی جا سکیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی حساس نوعیت کے پیش نظر ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد ہی حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔ متاثرہ خواتین کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا طبی معائنہ اور فرانزک شواہد بھی حاصل کیے جا رہے ہیں تاکہ مقدمے کو مضبوط بنیادوں پر عدالت میں پیش کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ نیدرلینڈ کے ریجن ہالینڈ سے پاکستان آئی خاتون کا جنہیں مبینہ طور پر لاہور میں بلا کر اغو۔اء کیا گیا نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ‘وہ میرے ساتھ زیا۔دتی کرنا چاہتا تھا۔ میں نے چیختے ہوئے کہا کہ میں کنو۔اری ہوں تو وہ رک گیا لیکن دوسرے شخص نے میرے کپڑے اتا۔رے اور ایک شیشے کا ٹکڑا اٹھا کر میرے نا۔زک عضو کو کاٹنا چاہا’۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پولیس نے ہالینڈ سے 15 پر موصول ہونے والی کال پر ایکشن لیتے ہوئے دو غیر ملکی خواتین کو باز۔یاب کر لیا ہے جبکہ پولیس نے غیر ملکی خواتین کے مبینہ ا۔غوا، تاوان طلب کرنے اور اجتما۔عی زیاد۔تی کے الزام میں مقدمہ بھی درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے چار ملزمان بھی گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
لاہور پولیس کے مطابق ہالینڈ اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی خو۔اتین کو لاہور میں اغو۔اء کیا گیا تھا۔ ہالینڈ میں موجود ایک خاتون کے والد نے پاکستان میں پولیس ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے اغو۔اء کی اطلاع دی۔ پولیس کے مطابق اس حوالے سے مقدمہ تھانہ ڈیفنس سی میں درج کیا گیا ہے جہاں متاثر۔ہ خاتون نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ برس اکتوبر میں سنگاپور میں ان کی ملاقات محمد رضا ڈار نامی شخص سے ہوئی تھی۔ مقدمے کے متن کے مطابق ملزم نے انہیں اور ان کی ایک ساتھی خاتون کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور ویزے کے حصول میں بھی مدد فراہم کی۔
ایف آئی آر کے مطابق دونوں خواتین 29 جون کو لاہور پہنچیں جہاں مدعیہ کے بقول نامزد ملز۔م، اس کے مبینہ ‘باس’ اور تین دیگر افراد نے انہیں اغوا۔ء کر لیا۔ مدعیہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اغو۔اء کے بعد ملزمان نے انتہائی جار۔حانہ رویہ اختیار کیا۔ مزید بتایا گیا ہے کہ دونوں خواتین پر تشد۔د کیا گیا اور ان سے ڈیڑھ ملین ڈالرز تاوا۔ن کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ رقم نہ ملنے کی صورت میں انہیں جان سے مار۔نے کی دھمکیاں دی گئیں اور تیز د۔ھار آلا۔ت سے تشدد بھی کیا گیا۔ خاتون نے بتایا ہے کہ ملزمان نے تاوان کی رقم نہ دینے کی صورت میں ا۔عضا۔ء کا۔ٹ کر کے بیچنے کی دھمکیاں بھی دی۔
ایف آئی آر میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ دونوں خواتین کو متعدد مرتبہ زیا۔دتی کا نشا۔نہ بنایا گیا یا ان کے ساتھ زیاد۔تی کی کوشش کی گئی جبکہ اس دوران ان پر جسما۔نی تشد۔د بھی کیا جاتا رہا۔ مدعیہ مقدمے نے بتایا ہے کہ شیشے کے ذریعے ان کے جسما۔نی ناز۔ک ا۔عضاء کو بھی نقصا۔ن پہنچایا گیا۔ مدعیہ نے درخواست میں تمام پانچ ملزمان کی گرفتاری اور قانونی کارروائی کی استدعا کی تھی۔
پولیس نے مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 365 (اغوا) اور دفعہ 375 (زیادتی) کے تحت درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button