سائنس و ٹیکنالوجیتازہ ترین

خلائی دوڑ میں چین کی برق رفتار پیش رفت، بیجنگ امریکہ کا سب سے بڑا حریف بن گیا، پاکستان بھی نئے خلائی مشن کا حصہ

امریکی خلائی ادارہ ناسا نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کو 2032 تک مرحلہ وار ریٹائر کر دیا جائے گا۔

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائنسی تحقیق اور خلائی سائنس کے میدان میں چین کی مسلسل اور تیز رفتار ترقی نے عالمی طاقتوں کے درمیان خلائی مقابلے کو ایک نئی جہت دے دی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں تحقیق، اختراع اور جدید خلائی پروگراموں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے نتیجے میں چین اب نہ صرف امریکہ کا سب سے بڑا سائنسی حریف بن چکا ہے بلکہ کئی شعبوں میں عالمی قیادت بھی حاصل کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق 21ویں صدی کی نئی خلائی دوڑ اب امریکہ اور سابق سوویت یونین کے درمیان ہونے والے تاریخی مقابلے سے مختلف ہے۔ اس مرتبہ مقابلے کے مرکز میں امریکہ اور چین موجود ہیں، جہاں دونوں ممالک چاند، مریخ، خلائی اسٹیشنز اور مستقبل کی خلائی معیشت پر برتری حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چین کی پہلی خاتون سویلین خلاباز تیان گونگ خلائی اسٹیشن پر

چین کی پہلی خاتون سویلین خلاباز لائی کائی ینگ اس وقت اپنے دو ساتھی خلابازوں کے ہمراہ چین کے جدید خلائی اسٹیشن تیان گونگ (Tiangong) پر موجود ہیں۔ تینوں خلا باز روزانہ تقریباً 16 مرتبہ زمین کا چکر لگاتے ہیں اور مختلف سائنسی و تکنیکی تجربات میں مصروف ہیں۔

تیان گونگ خلائی اسٹیشن کو ایک جدید مائیکرو گریویٹی لیبارٹری کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جہاں ایسے تجربات کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد مستقبل میں انسانوں کی طویل المدتی خلائی رہائش، چاند اور مریخ پر انسانی مشنز اور جدید خلائی ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے نئی معلومات حاصل کرنا ہے۔

چینی سائنس دانوں کے مطابق یہاں حیاتیات، طب، طبیعیات، نئے مواد کی تیاری، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خلائی زراعت سمیت کئی شعبوں میں تجربات جاری ہیں، جن کے نتائج آئندہ نسل کی خلائی تحقیق میں اہم کردار ادا کریں گے۔

خلائی تحقیق ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی جنگ کا میدان

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خلائی تحقیق ایک مرتبہ پھر عالمی طاقتوں کے درمیان نظریاتی، معاشی اور جغرافیائی سیاسی مسابقت کا اہم میدان بن چکی ہے۔

1960 اور 1970 کی دہائی میں امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ہونے والی خلائی دوڑ نے دنیا کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے، تاہم اب بدلتی عالمی صورتحال میں امریکہ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج چین بن کر ابھرا ہے، جو نہ صرف خلائی پروگرام بلکہ جدید سائنس، مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی میں بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

ناسا کا خلائی اسٹیشن ریٹائر کرنے کا منصوبہ

امریکی خلائی ادارہ ناسا نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کو 2032 تک مرحلہ وار ریٹائر کر دیا جائے گا۔

اگر یہ منصوبہ مقررہ وقت کے مطابق مکمل ہو جاتا ہے تو چین دنیا کا واحد ملک ہوگا جو مستقل بنیادوں پر اپنا خلائی اسٹیشن چلا رہا ہوگا، جہاں خلا باز مسلسل موجود رہیں گے اور سائنسی تحقیق کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے عالمی خلائی تحقیق میں چین کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔

جدید سائنسی تحقیق میں چین عالمی نمبر ون

سائنسی جریدے نیچر کے تازہ ترین تحقیقی اشاریے کے مطابق جدید سائنسی تحقیق میں چین پہلی مرتبہ دنیا بھر میں پہلے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق:

  • چین دنیا کا سب سے بڑا تحقیقی ملک بن چکا ہے۔
  • امریکہ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔
  • جرمنی کو تیسری پوزیشن حاصل ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دنیا کے دس بہترین تحقیقی اداروں میں سے نو کا تعلق چین سے ہے، جبکہ امریکہ کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی تیسرے نمبر پر موجود واحد غیر چینی ادارہ ہے۔

دوسری جانب جرمنی کے معروف تحقیقی ادارے ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ کو اس فہرست میں تیرہواں مقام ملا ہے۔

چینی جامعات کی عالمی برتری

ماکس پلانک سوسائٹی کی ترجمان کرسٹینا بیک کے مطابق تقریباً تمام بین الاقوامی درجہ بندیوں میں چینی جامعات اور تحقیقی ادارے متعدد شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین نے گزشتہ برسوں کے دوران اعلیٰ تعلیم، جدید لیبارٹریوں، تحقیق، اختراع اور عالمی تعاون پر غیر معمولی سرمایہ کاری کی، جس کے نتائج اب پوری دنیا کے سامنے آ رہے ہیں۔

جرمن ریسرچ فاؤنڈیشن کے انفارمیشن مینجمنٹ کے سربراہ رچرڈ ہائیڈلر کے مطابق ابتدائی مرحلے میں چین نے تحقیقی مقالوں کی تعداد بڑھانے پر توجہ دی، جبکہ گزشتہ دس برسوں کے دوران ان تحقیقات کے معیار، عالمی اثرات اور سائنسی اہمیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔

کامیابی کے پیچھے طویل المدتی حکمت عملی

سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی کامیابی کسی ایک منصوبے کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط حکمت عملی کا ثمر ہے۔

چین نے:

  • جدید تحقیقی مراکز قائم کیے۔
  • عالمی معیار کی یونیورسٹیوں میں سرمایہ کاری کی۔
  • نوجوان سائنس دانوں کو بیرون ملک تربیت دلوائی۔
  • جدید لیبارٹریاں اور تحقیقی انفراسٹرکچر تیار کیا۔
  • مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، کوانٹم ٹیکنالوجی اور خلائی سائنس کو قومی ترقی کا بنیادی حصہ بنایا۔

چاند پر قبضہ نہیں، تحقیق میں برتری کی دوڑ

امریکہ اور چین اس وقت نئی نسل کے قمری مشنز کے حوالے سے سخت مقابلے میں مصروف ہیں۔

چین نے 2030 تک انسان بردار قمری مشن بھیجنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، جبکہ امریکہ اپنے آرٹیمس پروگرام کے تحت 2028 میں چاند کے جنوبی قطب کے قریب خلا باز اتارنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم تکنیکی اور مالی مسائل کے باعث اس منصوبے میں تاخیر کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

چین مستقبل میں چاند پر مستقل تحقیقی مرکز قائم کرنا چاہتا ہے، جہاں سائنس دان طویل عرصے تک تحقیق کر سکیں۔

چاند کے تاریک حصے سے نمونے حاصل کرنے والا واحد ملک

چین دنیا کا واحد ملک بن چکا ہے جس نے چاند کے دور یا تاریک حصے (Far Side of the Moon) سے چٹانوں اور مٹی کے نمونے کامیابی سے زمین پر پہنچائے ہیں۔

سائنس دان ان نمونوں کا تفصیلی تجزیہ کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں قمری اڈوں، توانائی کے ذرائع، معدنی وسائل اور ممکنہ انسانی بستیوں کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

خلائی پروگرام کو سفارتی طاقت کے طور پر استعمال

چین اب اپنے خلائی پروگرام کو صرف سائنسی تحقیق تک محدود نہیں رکھ رہا بلکہ اسے سفارتی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے بھی استعمال کر رہا ہے۔

اسی حکمت عملی کے تحت چین رواں برس اکتوبر میں پہلی مرتبہ اپنے خلائی اسٹیشن پر ایک غیر ملکی خلا باز کو بھیجنے جا رہا ہے۔

اس تاریخی مشن کے لیے پاکستان کے دو خلا باز امیدوار اس وقت چین میں خصوصی تربیت حاصل کر رہے ہیں، جن میں سے ایک کو تیان گونگ خلائی اسٹیشن کے مشن کے لیے منتخب کیا جائے گا۔

یہ اقدام پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے سائنسی، دفاعی اور تکنیکی تعاون کی ایک نئی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

عالمی طاقت کا نیا معیار

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں عالمی طاقت کا معیار صرف فوجی قوت یا معاشی حجم نہیں بلکہ سائنسی تحقیق، مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی، جدید صنعت اور اختراع بھی بن چکے ہیں۔

چین کی حالیہ کامیابیاں ظاہر کرتی ہیں کہ بیجنگ آنے والے برسوں میں نہ صرف خلائی تحقیق بلکہ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی عالمی قیادت حاصل کرنے کے لیے بھرپور انداز میں آگے بڑھ رہا ہے، جبکہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک بھی اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے نئی حکمت عملیاں ترتیب دے رہے ہیں۔

خلائی تحقیق کی یہ نئی دوڑ مستقبل میں نہ صرف سائنسی دریافتوں بلکہ عالمی سیاست، معیشت، سلامتی اور بین الاقوامی اتحادوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی، اور اسی تناظر میں پاکستان جیسے شراکت دار ممالک بھی چین کے ابھرتے ہوئے خلائی پروگرام کا اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button