پاکستان پریس ریلیز

وزیراعظم کی این ڈی ایم اے کو سیلاب متاثرین کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت

چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو بتایا کہ متعلقہ ادارے موسمیاتی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے، متاثرہ آبادی کو فوری امداد فراہم کرنے اور ضروری وسائل کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

سید عاطف ندیم -ادارت

شہباز شریف کی چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک سے ملاقات، ملک کی موسمیاتی صورتحال اور سیلابی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ

اسلام آباد، 15 اگست 2026ء: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ ملک کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عوام کو ہر ممکن امداد، ریلیف اور ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر اور مسلسل رابطہ برقرار رکھنے پر بھی زور دیا ہے تاکہ قدرتی آفت سے متاثرہ شہریوں کو بروقت امداد فراہم کی جا سکے اور امدادی سرگرمیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی موسمیاتی صورتحال، مون سون بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال، متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں اور متاثرین کی بحالی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال پر وزیراعظم کو بریفنگ

ملاقات کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیراعظم کو ملک میں جاری مون سون بارشوں اور اس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ کیا۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو بتایا کہ متعلقہ ادارے موسمیاتی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے، متاثرہ آبادی کو فوری امداد فراہم کرنے اور ضروری وسائل کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں، متاثرین کو ضروری اشیائے خورونوش اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی اور بحالی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کی ہدایت

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واضح کیا کہ قدرتی آفات کے دوران عوام کو ریلیف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔

وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ متاثرین کو امداد کی فراہمی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے اور جن علاقوں میں سیلاب یا شدید بارشوں کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے وہاں فوری طور پر امدادی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ متاثرہ آبادی کی ضروریات کا مسلسل جائزہ لیا جائے اور زمینی صورتحال کے مطابق امدادی کارروائیوں کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا جائے۔

صوبائی اداروں اور پی ڈی ایم ایز سے مؤثر رابطے کی ہدایت

وزیراعظم نے این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ متعلقہ صوبائی اداروں، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ مؤثر رابطہ برقرار رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مضبوط کوآرڈی نیشن ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے معلومات کے بروقت تبادلے، امدادی وسائل کی درست تقسیم اور متاثرہ علاقوں کی ترجیحات کے تعین پر خصوصی توجہ دی جائے۔

وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جہاں امدادی سرگرمیوں کے لیے اضافی وسائل درکار ہوں وہاں متعلقہ ادارے فوری طور پر وفاقی حکومت کو آگاہ کریں تاکہ ضروری اقدامات بلا تاخیر کیے جا سکیں۔

نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال قابلِ تحسین

ملاقات کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر میں مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو سراہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، بروقت معلومات اور مؤثر نگرانی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے موسمیاتی خطرات، بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کی بہتر نگرانی اور بروقت فیصلہ سازی میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کو مزید بہتر بنانے اور اسے عوامی تحفظ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام سے زیادہ مؤثر انداز میں منسلک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں امدادی سرگرمیاں جاری

چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیراعظم کو بتایا کہ وفاقی حکومت کے تعاون سے خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔

ان علاقوں میں بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کے پیش نظر متعلقہ ادارے متاثرہ آبادی تک امداد پہنچانے، ضروری سامان کی فراہمی اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کے لیے متحرک ہیں۔

این ڈی ایم اے کی جانب سے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیوں کو مربوط رکھنے اور ضرورت کے مطابق وسائل کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

متاثرین کی بحالی پر بھی خصوصی توجہ

وزیراعظم نے صرف فوری امداد تک محدود رہنے کے بجائے سیلاب متاثرین کی بحالی اور معمولات زندگی کی بحالی کے لیے بھی جامع اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی بحالی، بنیادی سہولیات کی بحالی اور متاثرہ علاقوں میں معمول کی زندگی کی واپسی کے لیے بھی مربوط حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے۔

انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ متاثرہ علاقوں میں ضروریات کا جائزہ لے کر ترجیحات طے کی جائیں اور دستیاب وسائل کو زیادہ سے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔

موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں مؤثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ضرورت

ملاقات کے دوران ملک کو درپیش موسمیاتی چیلنجز اور قدرتی آفات کے خطرات کے تناظر میں مؤثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی۔

وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں کے غیر معمولی رجحانات اور قدرتی آفات کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اداروں کی استعداد کار میں مسلسل اضافہ ضروری ہے۔

انہوں نے جدید پیش گوئی کے نظام، بروقت وارننگ، ادارہ جاتی رابطہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مستقبل میں ممکنہ قدرتی آفات کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

بروقت امداد حکومت کی اولین ترجیح

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیلاب اور قدرتی آفات سے متاثرہ شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے مربوط اور مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں وفاقی اور صوبائی اداروں کو ایک ٹیم کے طور پر کام کرنا ہوگا تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف، ضروری سہولیات اور بحالی کے لیے درکار معاونت فراہم کی جا سکے۔

ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ موجودہ مون سون صورتحال کے دوران متعلقہ ادارے مسلسل رابطے میں رہیں گے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جائیں گے۔

امدادی کارروائیوں میں اداروں کے درمیان رابطہ مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ

وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں این ڈی ایم اے، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ متاثرہ علاقوں سے موصول ہونے والی معلومات، امدادی ضروریات اور موسمیاتی صورتحال کے حوالے سے تازہ ترین ڈیٹا کو بروقت شیئر کیا جائے تاکہ امدادی کارروائیوں میں ترجیحات کا درست تعین کیا جا سکے۔

حکومت کا متاثرین کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا عزم

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ حکومت سیلاب سے متاثرہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ انہوں نے این ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری امدادی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ اور مشکل وقت میں ان کی مدد حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ این ڈی ایم اے وفاقی حکومت کی رہنمائی اور تعاون سے خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر سمیت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے گا اور ضرورت کے مطابق مزید وسائل بھی بروئے کار لائے جائیں گے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ موجودہ مون سون سیزن کے دوران صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے، متعلقہ اداروں کے درمیان مکمل رابطہ برقرار رکھا جائے اور عوام کو کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button