کاروبارتازہ ترین

اوپیک پلس کا تیل کی پیداوار میں مزید اضافے کا فیصلہ، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد عالمی منڈی کو مستحکم کرنے کی کوشش

اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پیداوار میں اضافے کا فیصلہ موجودہ مارکیٹ کے حالات، توانائی کی ضروریات اور عالمی اقتصادی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany urdu News Team

ریاض: تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس (OPEC+) نے عالمی منڈی میں رسد کو بہتر بنانے اور توانائی کی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے ایک بار پھر خام تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں حالیہ جغرافیائی کشیدگی، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں رکاوٹوں اور عالمی توانائی کی سپلائی پر پڑنے والے اثرات کے بعد خطے میں حالات بتدریج معمول پر آ رہے ہیں۔

تنظیم کے سات اہم رکن ممالک نے اتوار کو منعقد ہونے والے ایک ورچوئل وزارتی اجلاس میں اتفاق کیا کہ اگست 2026 سے یومیہ ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافی خام تیل عالمی منڈی میں فراہم کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا، سپلائی چین کو مستحکم بنانا اور عالمی معیشت میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کو کم کرنا ہے۔

کن ممالک نے فیصلہ کیا؟

ورچوئل اجلاس میں سعودی عرب، روس، عراق، کویت، قازقستان، الجزائر اور عمان کے وزرائے توانائی نے شرکت کی۔ اجلاس میں عالمی تیل کی طلب، موجودہ سپلائی، جغرافیائی سیاسی حالات اور آئندہ مہینوں میں مارکیٹ کے ممکنہ رجحانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پیداوار میں اضافے کا فیصلہ موجودہ مارکیٹ کے حالات، توانائی کی ضروریات اور عالمی اقتصادی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات

رواں برس ایران سے متعلق کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی تھی، جس کے باعث خلیجی ممالک کی تیل برآمدات میں نمایاں رکاوٹ پیدا ہوئی۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر برآمد ہونے والے خام تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہونے سے نہ صرف خلیجی ممالک کی برآمدات متاثر ہوئیں بلکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔

ماہرین کے مطابق اس بحران کے دوران کئی تیل بردار جہازوں کی آمدورفت محدود ہو گئی، جس کے باعث تیل پیدا کرنے والے ممالک کو اپنی پیداوار عارضی طور پر کم کرنا پڑی۔

پیداوار میں نمایاں کمی

اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی سے مئی تک سعودی عرب، عراق اور کویت کی مشترکہ خام تیل پیداوار میں تقریباً 60 لاکھ بیرل یومیہ کمی ریکارڈ کی گئی۔

اس کمی کی بنیادی وجوہات میں بحری نقل و حمل کی مشکلات، برآمدی رکاوٹیں، سکیورٹی خدشات اور مارکیٹ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال شامل تھیں۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوران کئی ممالک نے اضافی ذخائر استعمال کر کے عالمی سپلائی برقرار رکھنے کی کوشش کی، تاہم نئی پیداوار مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمتی پیش رفت

علاقائی صورتحال میں بہتری اس وقت آئی جب 17 جون 2026 کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

اس معاہدے کے تحت دونوں فریقوں نے مذاکرات جاری رکھنے، کشیدگی میں کمی لانے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے پر اتفاق کیا۔

توانائی کی صنعت سے وابستہ حلقوں کے مطابق اس پیش رفت کے بعد خلیج میں تجارتی سرگرمیاں آہستہ آہستہ بحال ہونا شروع ہو گئیں، جس سے عالمی منڈی میں اعتماد بھی بہتر ہوا۔

بحری تجارت معمول پر آنے لگی

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک بتدریج معمول پر آ رہی ہے اور تیل بردار جہاز دوبارہ اپنے روایتی راستوں پر سفر کر رہے ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اس اہم بحری راستے سے اس وقت روزانہ ایک کروڑ بیرل سے زائد خام تیل گزر رہا ہے، تاہم توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس میں سے ایک بڑا حصہ پہلے سے ذخیرہ شدہ تیل پر مشتمل ہے۔

ان کے مطابق نئی پیداوار کی مکمل بحالی اور سپلائی چین کے مکمل استحکام میں ابھی مزید وقت درکار ہوگا۔

عالمی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ

بحری تجارت کی بحالی اور اوپیک پلس کی جانب سے پیداوار بڑھانے کے فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچنے لگی ہیں۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی میں مسلسل اضافہ جاری رہا تو آئندہ مہینوں میں قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے، جس سے درآمد کنندہ ممالک کو فائدہ جبکہ برآمد کنندگان کی آمدنی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

2027 میں تیل کی فراوانی کا امکان

عالمی توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار سے پیداوار میں اضافہ جاری رہا اور عالمی معیشت کی ترقی سست رہی تو 2027 میں عالمی منڈی میں خام تیل کی اضافی فراہمی (Oversupply) پیدا ہو سکتی ہے۔

ایسی صورتحال میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ہے، جس سے اوپیک پلس کو دوبارہ پیداوار محدود کرنے یا نئی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

اوپیک پلس کو داخلی چیلنجز بھی درپیش

تنظیم کو بیرونی حالات کے ساتھ ساتھ داخلی اتحاد برقرار رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کی مئی 2026 میں اوپیک پلس سے علیحدگی کے بعد تنظیم کے اندر پالیسی ہم آہنگی اور مستقبل کے پیداواری فیصلوں پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اوپیک پلس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ بڑے پیداواری ممالک مشترکہ حکمت عملی پر کس حد تک متفق رہتے ہیں اور عالمی منڈی کی بدلتی ضروریات کے مطابق کس رفتار سے فیصلے کرتے ہیں۔

عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں استحکام عالمی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے ٹرانسپورٹ، صنعت، بجلی کی پیداوار اور مہنگائی پر دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔

دوسری جانب اگر تیل کی فراوانی بہت زیادہ بڑھ گئی تو برآمد کنندہ ممالک کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے ان کے بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور مالیاتی پالیسیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اوپیک پلس کا تازہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تنظیم عالمی توانائی کی منڈی میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم آئندہ مہینوں میں تیل کی قیمتوں کا انحصار مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال، عالمی اقتصادی ترقی، چین اور بھارت جیسے بڑے درآمد کنندگان کی طلب، اور اوپیک پلس کے آئندہ پیداواری فیصلوں پر ہوگا۔

اگر خطے میں امن برقرار رہا اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر معمول کے مطابق فعال رہی تو عالمی توانائی کی منڈی میں استحکام آنے کا امکان ہے، لیکن کسی بھی نئی جغرافیائی کشیدگی کی صورت میں قیمتوں میں دوبارہ شدید اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button