مشرق وسطیٰتازہ ترین

نیٹو اجلاس سے قبل مغرب کی خاموشی، ترکی میں انسانی حقوق پر تنقید دفاعی مفادات کے سامنے پس منظر میں چلی گئی، ترک صدر رجب طیب ایردوآن

ان سفیروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ عثمان کاوالا کو سیاسی بنیادوں پر قید رکھا گیا ہے اور ان کے خلاف مقدمات شفاف عدالتی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

انقرہ: ایک وقت تھا جب امریکہ اور یورپی ممالک ترکی میں انسانی حقوق، آزادی اظہار، عدالتی خودمختاری اور جمہوری اقدار کے معاملے پر کھل کر آواز اٹھاتے تھے، لیکن بدلتی ہوئی عالمی سیاست، روس۔یوکرین جنگ، یورپ کی دفاعی ضروریات اور نیٹو اتحاد کے اسٹریٹجک تقاضوں نے مغربی ممالک کی ترجیحات کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ اب مغربی دارالحکومتوں کی توجہ ترکی کے اندرونی سیاسی معاملات کے بجائے اسے نیٹو کے ایک اہم دفاعی شراکت دار کے طور پر برقرار رکھنے پر مرکوز نظر آتی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ 7 اور 8 جولائی کو انقرہ میں ہونے والے نیٹو کے 32 رکن ممالک کے سربراہی اجلاس میں بھی یہی رجحان غالب رہنے کا امکان ہے، جہاں دفاعی تعاون، روس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی، مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی اور یورپی دفاع جیسے موضوعات کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ ترکی میں اپوزیشن کے خلاف کارروائیوں اور انسانی حقوق کی صورتحال پر کھلے عام بحث ہونے کے امکانات انتہائی محدود ہیں۔

2021 میں سفارتی بحران، جب مغرب نے عثمان کاوالا کی رہائی کا مطالبہ کیا

چند برس قبل صورتحال مختلف تھی۔ اکتوبر 2021 میں امریکہ، فرانس، جرمنی، کینیڈا، نیدرلینڈز، ناروے، ڈنمارک، فن لینڈ، سویڈن اور نیوزی لینڈ سمیت دس مغربی ممالک کے سفیروں نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے معروف سماجی کارکن اور کاروباری شخصیت عثمان کاوالا کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

ان سفیروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ عثمان کاوالا کو سیاسی بنیادوں پر قید رکھا گیا ہے اور ان کے خلاف مقدمات شفاف عدالتی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔

اس بیان پر ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ان سفیروں کو "ناپسندیدہ شخصیات” قرار دے کر ملک بدر کرنے کی ہدایت جاری کر دی تھی۔ اگرچہ دو روز تک جاری رہنے والی سفارتی کشیدگی بعد میں مذاکرات کے ذریعے ختم ہوگئی، تاہم اس واقعے نے ترکی اور مغربی ممالک کے تعلقات میں تناؤ کو نمایاں کر دیا تھا۔

روس۔یوکرین جنگ نے مغربی ترجیحات بدل دیں

فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد یورپ کی سلامتی کی صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی۔ اس جنگ نے نیٹو کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کیا اور ترکی کی جغرافیائی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی۔

ترکی بحیرہ اسود، مشرق وسطیٰ، قفقاز اور یورپ کو ملانے والے اہم جغرافیائی مقام پر واقع ہے۔ اس کے علاوہ ترکی نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ اتحاد کی دوسری بڑی فوج رکھتا ہے، جس کے باعث مغربی ممالک نے انسانی حقوق کے مسائل پر کھلی تنقید کم کرتے ہوئے دفاعی تعاون کو ترجیح دینا شروع کر دی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق مغربی حکومتوں کا مؤقف ہے کہ موجودہ عالمی سکیورٹی ماحول میں ترکی کے ساتھ تعلقات خراب کرنا ان کے وسیع تر اسٹریٹجک مفادات کے خلاف ہوگا۔

نیٹو اجلاس میں حساس معاملات زیر بحث آنے کا امکان کم

مغربی اور ترک سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران ترکی کی مرکزی اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے خلاف قانونی کارروائیوں، جماعت کے رہنماؤں کی گرفتاریوں یا استنبول کے معزول میئر اور سابق صدارتی امیدوار اکرم امام اولو کی قید پر کسی قسم کی کھلی تنقید متوقع نہیں۔

اگرچہ مغربی رہنما بند کمرہ ملاقاتوں میں ان معاملات پر تشویش کا اظہار کر سکتے ہیں، تاہم اجلاس کے مشترکہ اعلامیے یا عوامی بیانات میں ایسے موضوعات کو شامل کیے جانے کے امکانات نہایت کم ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رویہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نیٹو اتحاد اس وقت جمہوری اقدار کے مقابلے میں دفاعی اتحاد کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔

ناقدین کا مؤقف: خاموشی آمرانہ رجحانات کو تقویت دے رہی ہے

ترکی کی حکومت کے ناقدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کی خاموشی صدر ایردوآن کی حکومت کے بڑھتے ہوئے آمرانہ رجحانات کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

ان کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور ناقدین کے خلاف قانونی کارروائیوں پر مؤثر ردعمل نہ دینا ترکی میں جمہوری اداروں کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ نیٹو اپنے بنیادی اصولوں، جن میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق شامل ہیں، پر عمل درآمد کے معاملے میں دوہرا معیار اختیار کر رہا ہے۔

سابق امریکی سفیر کی تنبیہ

امریکہ کے سابق سفیر ڈیوڈ سیٹر فیلڈ نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک کو ترکی میں جمہوری اداروں کی کمزوری پر مسلسل آواز اٹھاتے رہنا چاہیے۔

ان کے بقول:

"یہ نہایت ضروری ہے کہ ترک عوام بھی بیرونی دنیا کی جانب سے اپنے جمہوری نظام کے بارے میں ایسے تبصرے سنتے رہیں۔”

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مغربی ممالک مکمل خاموشی اختیار کر لیتے ہیں تو اس سے جمہوری اقدار مزید کمزور ہو سکتی ہیں۔

عثمان کاوالا کیس بدستور عالمی توجہ کا مرکز

ترکی کے معروف سماجی کارکن عثمان کاوالا تقریباً نو برس سے جیل میں ہیں۔ ان پر حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش اور حکومت مخالف احتجاج کی مالی معاونت جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جنہیں وہ مسلسل مسترد کرتے آئے ہیں۔

یورپی عدالت برائے انسانی حقوق (ECHR) پہلے ہی اپنے فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ ان کے خلاف پیش کیے گئے شواہد ناکافی ہیں اور انہیں فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ کاوالا کی گرفتاری کا مقصد انہیں خاموش کرانا اور اختلافی آوازوں کو دبانا تھا۔

تاہم ترک حکومت ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔

حکومت کا مؤقف: عدلیہ آزاد ہے

صدر ایردوآن کی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AK Party) کا کہنا ہے کہ ترکی کی عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے اور حکومت عدالتوں کے فیصلوں میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرتی۔

حکومتی ترجمانوں کے مطابق عثمان کاوالا سمیت تمام مقدمات قانونی تقاضوں کے مطابق چل رہے ہیں اور مغربی ممالک کی جانب سے عدالتی معاملات پر تبصرہ ترکی کے داخلی امور میں مداخلت کے مترادف ہے۔

صحافیوں پر پابندیاں، انسانی حقوق تنظیموں کا اظہار تشویش

نیٹو اجلاس سے قبل متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ درجنوں آزاد میڈیا اداروں سے وابستہ صحافیوں کو اجلاس کی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی۔

رپورٹس کے مطابق سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے 200 سے زائد افراد کو احتیاطی طور پر حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے نیٹو حکام نے کہا کہ میڈیا کی منظوری اور سکیورٹی انتظامات کا اختیار میزبان ملک کے پاس ہوتا ہے، تاہم اتحاد صحافیوں کی آزادانہ رسائی اور میڈیا کی موجودگی کو اہم سمجھتا ہے۔

ترکی کی فوجی طاقت نے اس کی اہمیت بڑھا دی

ترکی اس وقت نیٹو کا وہ رکن ملک ہے جس کے پاس امریکہ کے بعد اتحاد کی دوسری بڑی فوج موجود ہے۔

اس کے علاوہ ترکی جدید مسلح ڈرونز، دفاعی ٹیکنالوجی اور اسلحے کی تیاری میں بھی نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ یوکرین جنگ کے دوران ترک ساختہ "بیرقدار” ڈرونز کی کارکردگی نے عالمی سطح پر ترکی کی دفاعی صنعت کو مزید شہرت دی۔

اسی وجہ سے مغربی ممالک ترکی کو روس کے خلاف جنوب مشرقی محاذ پر ایک ناگزیر دفاعی شراکت دار تصور کرتے ہیں۔

اقدار نہیں، مفادات کو ترجیح

وارسا میں قائم سینٹر فار ایسٹرن اسٹڈیز کے ماہر کارول واسیلیئفسکی کے مطابق مغربی ممالک کی موجودہ پالیسی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی سیاست میں اب جمہوری اقدار کے بجائے عملی مفادات کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق یورپ کو روسی خطرات، توانائی کے مسائل اور علاقائی سلامتی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے باعث ترکی کی اسٹریٹجک اہمیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انقرہ بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ اپوزیشن کے خلاف کارروائیوں، انسانی حقوق کے معاملات اور آزادی اظہار سے متعلق مغربی تنقید اب محدود رہے گی اور اس کے نتیجے میں کسی بڑے سفارتی یا معاشی دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

مستقبل کی سمت

تجزیہ کاروں کے مطابق نیٹو اجلاس ایک بار پھر اس سوال کو اجاگر کرے گا کہ آیا مغربی ممالک جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے تحفظ کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون برقرار رکھیں گے یا بدلتی ہوئی عالمی سکیورٹی صورتحال میں اسٹریٹجک اور دفاعی مفادات کو ہی ترجیح دیتے رہیں گے۔

ترکی کی بڑھتی ہوئی فوجی اہمیت، روس کے خلاف نیٹو کی حکمت عملی، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور یورپی سلامتی کے تقاضے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل قریب میں مغرب اور ترکی کے تعلقات میں انسانی حقوق کے بجائے دفاعی تعاون اور جغرافیائی سیاست کا عنصر زیادہ غالب رہنے کا امکان ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button