
امریکہ نے 250 واں یومِ آزادی جوش و خروش سے منایا، شاندار آتش بازی، فضائی مظاہرے اور صدر ٹرمپ کا قوم سے خطاب
"ہم ہمیشہ سب سے آگے رہیں گے۔ ہم کبھی اپنے ملک کو زوال کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔ ہم ہمیشہ بہترین رہیں گے۔"صدر ٹرمپ
مدثر احمد-امریکہ،وئس آف جرمنی اردو نیوز
واشنگٹن: امریکہ نے اپنے قیام کے 250 سال مکمل ہونے کا تاریخی جشن ملک بھر میں شاندار تقریبات، آتش بازی، فوجی فضائی مظاہروں، پریڈز، ثقافتی پروگراموں اور عوامی اجتماعات کے ساتھ منایا۔ اس موقع پر لاکھوں امریکی شہری سڑکوں، پارکوں اور تاریخی مقامات پر جمع ہوئے اور قومی پرچم لہرا کر آزادی کی ڈھائی صدی مکمل ہونے کا جشن منایا۔
دارالحکومت واشنگٹن سمیت ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں یومِ آزادی کی تقریبات کا انعقاد کیا گیا، تاہم شدید گرمی، گرج چمک اور خراب موسمی حالات کے باوجود عوام کے جوش و جذبے میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا قوم سے خطاب
یومِ آزادی کی مرکزی تقریب واشنگٹن ڈی سی کے تاریخی نیشنل مال میں منعقد ہوئی، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امریکی قوم کو آزادی کی 250 ویں سالگرہ کی مبارک باد دی۔
اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا:
"امریکن ڈریم واپس آ چکا ہے۔ امریکہ پہلے سے زیادہ مضبوط، محفوظ اور خوشحال ہے، اور ہم دنیا کی سب سے عظیم قوم رہیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا:
"ہم ہمیشہ سب سے آگے رہیں گے۔ ہم کبھی اپنے ملک کو زوال کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔ ہم ہمیشہ بہترین رہیں گے۔”
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں امریکی عوام کی قربانیوں، مسلح افواج، سابق فوجیوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ملک کی معاشی ترقی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ امریکہ نے گزشتہ ڈھائی صدی کے دوران بے شمار چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے اپنی عالمی قیادت برقرار رکھی ہے۔
خراب موسم کے باوجود تقریبات جاری رہیں
یومِ آزادی کی مرکزی تقریب کے دوران واشنگٹن میں شدید گرج چمک، تیز ہواؤں اور بارش کے باعث کچھ وقت کے لیے پروگرام متاثر ہوا۔
موسم کی خرابی کے باعث منتظمین کو حفاظتی اقدامات کے تحت کچھ سرگرمیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں، تاہم موسم بہتر ہوتے ہی تقریب دوبارہ شروع کر دی گئی۔
رات کے وقت آسمان رنگ برنگی آتش بازی سے جگمگا اٹھا جبکہ امریکی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے شاندار فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا، جسے ہزاروں افراد نے براہ راست دیکھا۔
ملک بھر میں جشن آزادی
واشنگٹن کے علاوہ نیویارک، لاس اینجلس، شکاگو، ہیوسٹن، فلاڈیلفیا، بوسٹن، میامی، ڈلاس، سان فرانسسکو اور اٹلانٹا سمیت درجنوں بڑے شہروں میں بھی یومِ آزادی کی تقریبات منعقد کی گئیں۔
عوام نے قومی ترانے گائے، پریڈز میں شرکت کی، تاریخی مقامات کا رخ کیا اور آتش بازی کے خصوصی پروگرام دیکھے۔

امریکی پرچموں سے سجی سڑکوں، گھروں اور عوامی مقامات پر جشن کا ماحول دیکھنے میں آیا جبکہ بچوں اور خاندانوں نے پکنک، موسیقی اور ثقافتی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔
شدید گرمی نے مشکلات بڑھا دیں
امریکہ کے مختلف حصے گزشتہ کئی روز سے شدید گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق متعدد ریاستوں میں درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ بعض علاقوں میں ہیٹ انڈیکس خطرناک حد تک بڑھ گیا۔
شدید گرمی اور خراب موسم کے باعث مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، پانی کا زیادہ استعمال کرنے اور غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کی ہدایات جاری کیں۔
کئی شہروں میں تقریبات منسوخ
خراب موسمی حالات کے باعث کئی شہروں میں یومِ آزادی کی تقریبات متاثر ہوئیں۔
ریاست کنیکٹیکٹ کے شہر ہارٹفورڈ جبکہ ریاست پنسلوانیا کے شہروں ہیریس برگ اور ولکس بیری میں آتش بازی اور عوامی اجتماعات منسوخ کر دیے گئے۔
اسی طرح بوسٹن میں آتش بازی اور موسیقی کے کنسرٹ میں شریک ہزاروں افراد کو گرج چمک کے باعث عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
فلاڈیلفیا میں بھی مقامی حکام نے موسم کی خرابی کے باعث بعض علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری کیے، جبکہ نیویارک اور پٹسبرگ میں آتش بازی کی تقریبات منسوخ کرنے کے بجائے ان کے اوقات تبدیل کر دیے گئے تاکہ عوام محفوظ ماحول میں جشن منا سکیں۔
ٹرمپ کے خطاب پر سیاسی بحث
یومِ آزادی کے موقع پر صدر ٹرمپ کے خطاب نے سیاسی حلقوں میں بھی بحث چھیڑ دی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدور روایتی طور پر یومِ آزادی کے موقع پر قومی اتحاد، جمہوری اقدار اور تمام شہریوں کو ساتھ لے کر چلنے کا پیغام دیتے ہیں، تاہم اس مرتبہ صدر ٹرمپ کے خطاب میں انتخابی اور سیاسی نکات زیادہ نمایاں رہے۔
انہوں نے ایک بار پھر اپنے مجوزہ SAVE America Act کی حمایت کا اظہار کیا، جس کا مقصد انتخابی نظام میں اصلاحات اور انتخابی عمل کے حوالے سے نئی قانون سازی کرنا بتایا جا رہا ہے۔
یہ بل اس وقت امریکی کانگریس میں زیر بحث ہے، جہاں نہ صرف اپوزیشن بلکہ ریپبلکن پارٹی کے بعض اراکین نے بھی اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
اسلحہ رکھنے کے حق پر زور
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں امریکی آئین کی دوسری ترمیم (Second Amendment) کے تحت شہریوں کے اسلحہ رکھنے کے حق کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلحہ رکھنے کا حق امریکی آئین کی بنیادی ضمانتوں میں شامل ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کمیونزم پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے اسے آزادی، جمہوریت اور آزاد منڈی کے نظام کے لیے خطرہ قرار دیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دونوں موضوعات آئندہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں ریپبلکن پارٹی کی انتخابی مہم کا اہم حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
امریکی تاریخ کا اہم سنگ میل
250 واں یومِ آزادی امریکہ کی قومی تاریخ کا ایک غیر معمولی سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔
تاریخ دانوں کے مطابق 1776 میں آزادی کے اعلان کے بعد امریکہ نے دنیا کی سب سے بڑی معیشت، جدید ترین فوجی طاقت، سائنسی ترقی، خلائی تحقیق اور عالمی سفارت کاری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
اس موقع پر مختلف تاریخی مقامات، عجائب گھروں، تعلیمی اداروں اور سرکاری عمارتوں میں خصوصی تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا بھی انعقاد کیا گیا تاکہ نئی نسل کو ملک کی تاریخ اور آئینی سفر سے آگاہ کیا جا سکے۔
مستقبل کی سیاست پر نظریں
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یومِ آزادی کی تقریبات قومی اتحاد اور حب الوطنی کے جذبے کے اظہار کے لیے منعقد کی گئیں، تاہم صدر ٹرمپ کے خطاب نے واضح کر دیا ہے کہ آئندہ وسط مدتی انتخابات کی انتخابی مہم عملاً شروع ہو چکی ہے۔
امریکی سیاست میں معیشت، امیگریشن، قومی سلامتی، اسلحہ رکھنے کے حقوق، انتخابی اصلاحات اور خارجہ پالیسی جیسے موضوعات آنے والے مہینوں میں سیاسی بحث کے مرکز میں رہنے کا امکان ہے۔
250 ویں یومِ آزادی کی تقریبات نے ایک طرف امریکی تاریخ، قومی شناخت اور جمہوری سفر کو اجاگر کیا، تو دوسری جانب یہ بھی واضح کیا کہ ملک اس وقت سیاسی تقسیم، موسمیاتی چیلنجز اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتحال جیسے اہم مسائل سے بھی نبرد آزما ہے۔



