
جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی ایک بارود سے بھری عمارت کو تباہ کر دیا: اسرائیلی فوج
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کی 55ویں بریگیڈ کی فورسز نے جنوبی لبنان کے علاقے مرجعیون میں حزب اللہ سے تعلق رکھنے والی ایک عمارت کو تباہ کر دیا ہے۔
سید عاطفندیم-ادارت
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کی 55ویں بریگیڈ کی فورسز نے جنوبی لبنان کے علاقے مرجعیون میں حزب اللہ سے تعلق رکھنے والی ایک عمارت کو تباہ کر دیا ہے۔ اس عمارت کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ وہ بارود سے بھری ہوئی تھی۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب لبنانی فوج اسرائیلی تجاوزات اور قائم شدہ تفہیمات اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی مسلسل شکایت کر رہی ہے خاص طور پر جنوبی قصبوں اور دیہاتوں میں میں خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔
اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ نے "ایکس” پر ایک پوسٹ میں کہا کہ جنوبی لبنان کے سکیورٹی زون میں اپنی کارروائیوں کے دوران فورسز کو بڑی تعداد میں جنگی سامان ملا ہے۔ اس سامان میں "آر پی جی” راکٹ بھی شامل ہیں۔ یہ پیش رفت لبنانی اسرائیلی سرحد پر جاری کشیدگی کے دوران ہوئی ہے جہاں طے شدہ معاملات کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔ بیروت جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی موجودگی کے تسلسل کو مسترد کرنے کی تصدیق کر رہا ہے۔
قبل ازیں لبنانی فوج نے اسرائیلی تجاوزات کی مذمت کی تھی جس میں نبطیہ میں زوطر الشرقية کے بلدیہ کی عمارت کو دھماکے سے اڑانا، قصبے میں واقع سرکاری سکول، ڈسپنسری، بچوں کی نرسری اور متعدد مکانات کو بھی تباہ کیا گیا۔ لبنان نے ان تجاوزات کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ اسرائیل اپنے "تباہ کن انداز” کو جاری رکھے ہوئے ہے جس کا مقصد جنوبی دیہاتوں اور قصبوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا اور علاقے میں استحکام کے قیام کوخراب کرنا ہے۔
اسرائیلی موجودگی پر لبنانی تنقید
اسی تناظر میں لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاٹز کی جنوبی لبنان میں اسرائیلی فورسز کے قیام سے متعلق بات کو ناقابل قبول قرار دیا۔ نواف سلام نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی قصبوں میں اسرائیلی تجاوزات اور دراندازی بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ لبنانی وزیر اعظم نے عسکری تنصیبات کی موجودگی کا بہانہ بنا کر تباہی کی کارروائیوں کے جواز کو بھی مسترد کردیا۔
نواف سلام نے کہا کہ زمین پر ہدف بنائے گئے مقامات کی نوعیت ان بہانوں کو جھٹلاتی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کی سلامتی، اس کے شہریوں کی سکیورٹی اور جنوب کے رہائشیوں کا اپنی زمین پر واپس آنے اور اپنے دیہات کی دوبارہ تعمیر کا حق ناقابل سمجھوتہ ہے۔ اس دوران یسرائیل کاٹز لبنان میں رہنے سے متعلق اپنے بیانات سے پیچھے ہٹ گئے۔ انہوں نے جنوبی لبنان سے اسرائیلی فورسز کے انخلاء کو حزب اللہ کو نہتا کرنے سے مشروط کر دیا۔
مذاکرات پر اختلاف
فیلڈ میں ہونے والی اس پیش رفت کے ساتھ ہی حزب اللہ کو نہتا کرنے کے عمل کی تصدیق کے طریقہ کار پر اختلاف بھی سامنے آیا ہے۔ ایک لبنانی اہلکار نے جمعرات کو نیوز ایجنسی "رائٹرز” کی اس رپورٹ کی تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ لبنان اور اسرائیل ان ممالک کی ایک مختصر فہرست پر متفق ہوگئے ہیں جو حزب اللہ کو نہتا کرنے کی تصدیق کے عمل میں شرکت کے لیے فورسز بھیج سکتے ہیں۔ اہلکار نے کہا کہ بیروت اس طرح کے کسی معاہدے پر نہیں پہنچا ہے اور وہ اس معاملے پر امریکہ کے ساتھ اب بھی بات چیت کر رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے منگل کے روز کہا تھا کہ روم میں گزشتہ ہفتے امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے اجلاسوں میں لبنانی فوج کی جانب سے کی جانے والی کلیئرنس کارروائیوں کی تھرڈ پارٹی کی طرف سے تصدیق کے امکان پر بات چیت کی گئی ۔ تاہم انہوں نے ملکوں کی فہرست کا انکشاف نہیں کیا اور نہ ہی ان ملکوں کی نشاندہی کی جو اس مشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔
اگلے ستمبر کے اوائل میں روم میں مذاکرات کے ایک نئے دور کا انعقاد طے ہے۔ موجودہ دورانیے میں فریقین کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لبنان کے لیے ملٹری کوآرڈینیشن گروپ آنے والے ہفتوں میں پہلے پائلٹ زونز پر عمل درآمد کی حمایت کے لیے کام کر رہا ہے۔



