پاکستاناہم خبریںتازہ ترین

افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے: عاصم افتخار

عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا کہ افغانستان کی موجودہ صورتِ حال صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے ایک سنگین سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔

سید عاطف ندیم-ادارت

طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر پاکستانی مندوب کا عرب نیوز کو خصوصی انٹرویو، ٹی ٹی پی کی مبینہ سرپرستی اور خطے میں بڑھتی دہشت گردی پر شدید تشویش

نیویارک/اسلام آباد: کابل میں طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے کے موقع پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے افغانستان کی موجودہ سکیورٹی اور سیاسی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔

عرب نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں پاکستانی مندوب نے کہا کہ طالبان انتظامیہ نہ صرف کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ پاکستان کے مؤقف کے مطابق کابل سے اس گروہ کو مختلف نوعیت کی سہولیات بھی حاصل ہیں۔

عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا کہ افغانستان کی موجودہ صورتِ حال صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے ایک سنگین سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔

طالبان حکومت کے پانچ سال، عالمی وعدوں پر سوالات

پاکستانی مندوب نے کہا کہ جب 2021 میں طالبان نے افغانستان میں دوبارہ اقتدار سنبھالا تو عالمی برادری کی جانب سے افغان حکام کے سامنے بنیادی طور پر تین اہم توقعات رکھی گئی تھیں۔

ان میں تمام افغان گروہوں پر مشتمل جامع اور وسیع البنیاد حکومت کا قیام، خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق خصوصاً تعلیم اور روزگار کے حق کا تحفظ، اور افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا شامل تھا۔

عاصم افتخار کے مطابق پانچ برس گزرنے کے باوجود ان تینوں شعبوں میں قابلِ ذکر پیش رفت نظر نہیں آئی، بلکہ بعض معاملات میں صورتِ حال مزید خراب ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان خواتین اور بچیوں پر تعلیم اور روزگار کے حوالے سے عائد پابندیاں بدستور برقرار ہیں، جبکہ طالبان حکومت میں دیگر سیاسی و سماجی گروہوں کی مؤثر نمائندگی بھی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال پر تشویش

پاکستانی مندوب نے خاص طور پر افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں موجود محفوظ ٹھکانوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

عاصم افتخار کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی صورتِ حال کو افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں اضافے نے پاکستان کے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے لیے خطرات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بھاری قیمت ادا کی: عاصم افتخار

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس جنگ کی بہت بڑی قیمت ادا کی ہے۔

ان کے مطابق 2025 کے دوران پاکستان میں 5,200 سے زائد دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 1,300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران سکیورٹی صورتِ حال مزید خراب ہوئی اور اس عرصے میں 3,000 سے زائد حملوں میں 830 سے زیادہ پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار جان سے گئے۔

عاصم افتخار نے ان اعداد و شمار کو پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی عکاسی قرار دیا اور کہا کہ عالمی برادری کو اس صورتحال کو محض علاقائی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک وسیع تر بین الاقوامی سکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کا ذکر

پاکستانی مندوب نے ان دہشت گرد حملوں کے حوالے سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کا ذکر کیا۔

ان کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان گروہوں کو افغان سرزمین سے مختلف نوعیت کی معاونت اور سہولت کاری حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث پاکستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ دہشت گرد عناصر سرحد پار موجود مبینہ ٹھکانوں کو استعمال کرکے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’صرف عدم صلاحیت کا مسئلہ نہیں بلکہ فعال تعاون‘

انٹرویو کے دوران جب عاصم افتخار سے پوچھا گیا کہ آیا طالبان انتظامیہ ٹی ٹی پی کو روکنے میں ناکام ہے یا وہ جان بوجھ کر اس گروہ کو پناہ دے رہی ہے تو انہوں نے اس الزام کو محض طالبان حکومت کی انتظامی کمزوری تک محدود کرنے سے انکار کیا۔

پاکستانی مندوب نے دعویٰ کیا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس اور پاکستانی انٹیلی جنس معلومات کے مطابق معاملہ صرف صلاحیت کی کمی کا نہیں بلکہ مبینہ طور پر فعال تعاون کا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین پر محفوظ مقامات، مختلف نوعیت کا جنگی سازوسامان اور سرحد پار کارروائیوں کے لیے سہولت میسر ہے۔

تاہم ان الزامات پر طالبان حکومت کا مؤقف اور متعلقہ فریقین کا باضابطہ ردعمل بھی اس معاملے کی مکمل تصویر کے لیے اہم ہوگا۔

غیر ملکی افواج کا چھوڑا ہوا اسلحہ استعمال ہونے کا دعویٰ

عاصم افتخار نے مزید الزام عائد کیا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کے پاس ایسا جدید اسلحہ بھی موجود ہے جو ان کے مطابق سابق غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں رہ گیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلحے اور دیگر وسائل کی دستیابی نے دہشت گرد گروہوں کی کارروائی کی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے۔

پاکستانی مندوب کے مطابق اگر دہشت گرد تنظیموں کو جدید اسلحہ، مالی وسائل، محفوظ ٹھکانے اور سرحد پار نقل و حرکت کی سہولت میسر رہے تو خطے میں دہشت گردی کے خطرے کو مستقل بنیادوں پر ختم کرنا مشکل ہوگا۔

علاقائی ثالثی اور سفارتی کوششیں بھی جاری رہیں

عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے مختلف دوست ممالک نے ثالثی اور سفارتی کوششیں کی ہیں۔

انہوں نے سعودی عرب، ترکیہ، چین اور قطر کی جانب سے ہونے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے دونوں فریقین کے درمیان رابطے اور کشیدگی میں کمی کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

تاہم ان کے مطابق طالبان قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایسے عملی اقدامات کرنے سے گریز کیا ہے جن کی آزادانہ اور قابلِ تصدیق انداز میں تصدیق ہوسکے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بڑھتی کشیدگی

پاکستانی مندوب نے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی اور سکیورٹی صورتِ حال کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا۔

انہوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے فروری میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ’کھلی جنگ‘ کے حوالے سے دیے گئے بیان کی بھی تائید کی اور کہا کہ سرحدی صورتحال اور دہشت گردی کے واقعات نے دوطرفہ تعلقات کو انتہائی مشکل مرحلے میں پہنچا دیا ہے۔

عاصم افتخار کے مطابق پاکستان افغانستان کے ساتھ ایک پرامن، مستحکم اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم اس مقصد کے لیے افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکنا بنیادی شرط ہے۔

طالبان انتظامیہ سے عملی اقدامات کا مطالبہ

پاکستانی مندوب نے کہا کہ طالبان حکومت کے لیے محض زبانی یقین دہانیاں کافی نہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات ضروری ہیں۔

ان کے مطابق عالمی برادری کو یہ دیکھنا ہوگا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف حقیقی کارروائی کی جا رہی ہے یا نہیں، ان کے ٹھکانے ختم کیے جا رہے ہیں یا نہیں، ان کی مالی معاونت روکی جا رہی ہے یا نہیں اور سرحد پار دہشت گرد کارروائیوں کے راستے بند کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ قابلِ تصدیق اقدامات کے بغیر صرف بیانات سے خطے میں پائیدار امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔

عالمی برادری سے کابل پر دباؤ بڑھانے کا مطالبہ

عاصم افتخار نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری طالبان انتظامیہ پر سفارتی، سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھائے تاکہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جاسکے۔

ان کے مطابق اگر افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کو کارروائی کی آزادی حاصل رہی تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے اور عالمی سلامتی کو متاثر کرسکتے ہیں۔

خواتین کے حقوق اور جامع حکومت کا مسئلہ بھی برقرار

پاکستانی مندوب نے افغانستان کی داخلی سیاسی صورتِ حال پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ طالبان حکومت کے قیام کے وقت عالمی برادری نے جامع سیاسی نظام اور خواتین کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا تھا۔

ان کے مطابق پانچ سال گزرنے کے باوجود افغان خواتین اور بچیوں کو تعلیم، روزگار اور دیگر شعبوں میں مساوی مواقع حاصل نہیں ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ایک ایسا سیاسی نظام ضروری ہے جس میں معاشرے کے مختلف طبقات کو نمائندگی حاصل ہو اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے۔

افغانستان کا مستقبل اور خطے کا امن

عاصم افتخار کے مطابق افغانستان کا استحکام پاکستان اور پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ پاکستان ایک پرامن افغانستان کا خواہاں ہے جہاں افغان عوام کو سیاسی، معاشی اور سماجی استحکام حاصل ہو اور افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن قائم ہونے سے نہ صرف دہشت گردی کے خطرات کم ہوں گے بلکہ علاقائی تجارت، اقتصادی رابطوں اور وسطی و جنوبی ایشیا کے درمیان معاشی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

’پائیدار امن کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر‘

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے دہشت گرد گروہوں کے محفوظ ٹھکانوں اور نیٹ ورکس کا خاتمہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا، تاہم اس مسئلے کا دیرپا حل علاقائی تعاون، مؤثر سرحدی انتظام، انٹیلی جنس تعاون اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف مشترکہ عالمی اقدامات سے ہی ممکن ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان کے مسئلے کو صرف سیاسی یا انسانی بحران کے تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ وہاں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے علاقائی اثرات کو بھی عالمی پالیسی کا اہم حصہ بنایا جائے۔

پاکستان کا واضح مؤقف

عاصم افتخار احمد کے بیان سے ایک بار پھر پاکستان کا یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔

پاکستانی مندوب کے مطابق طالبان حکومت کے قیام کے پانچ سال بعد بھی عالمی برادری کے سامنے وہی بنیادی سوال موجود ہیں جو 2021 میں اٹھائے گئے تھے: کیا افغانستان ایک جامع سیاسی نظام کی جانب بڑھ رہا ہے؟ کیا افغان خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق بحال ہوں گے؟ اور کیا افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے مؤثر طور پر روکا جائے گا؟

پاکستان کا کہنا ہے کہ ان سوالات کے قابلِ عمل اور قابلِ تصدیق جوابات ہی افغانستان اور پورے خطے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

عاصم افتخار نے زور دیا کہ افغانستان میں پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے، دہشت گرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کی جائے اور عالمی برادری کابل پر مؤثر سفارتی دباؤ برقرار رکھے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button