
جواد احمد-ادارت
برلن: جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت آلٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) کی عوامی مقبولیت میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اتوار کو جاری ہونے والے انسَا کے تازہ رائے عامہ کے جائزے کے مطابق اے ایف ڈی ایک فیصد اضافے کے بعد 29 فیصد حمایت کے ساتھ ملک کی سیاسی جماعتوں میں بدستور سب سے آگے ہے۔
سروے کے نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جرمنی میں سیاسی منظرنامہ ایک مرتبہ پھر تیزی سے تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور اے ایف ڈی حالیہ عرصے میں قومی سطح پر اپنی عوامی حمایت میں مسلسل اضافہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق چانسلر فریڈرش میرس کی قیادت میں قدامت پسند سیاسی اتحاد کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) اور اس کی باویریا میں اتحادی جماعت کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) کو مجموعی طور پر 20 فیصد عوامی حمایت حاصل ہے، جو گزشتہ جائزے کے مقابلے میں تبدیل نہیں ہوئی۔
اے ایف ڈی 29 فیصد حمایت کے ساتھ سب سے آگے
انسَا کے سروے میں اے ایف ڈی کی حمایت ایک فیصد بڑھ کر 29 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح جماعت نے سی ڈی یو/سی ایس یو پر واضح برتری برقرار رکھی ہے۔
اے ایف ڈی کی مقبولیت میں یہ اضافہ جرمنی کی سیاست میں اس جماعت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی ایک اور علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جماعت خود کو جرمن سیاست میں متبادل سیاسی قوت کے طور پر پیش کرتی ہے، جبکہ اس کے ناقدین اسے انتہائی دائیں بازو کی سیاست سے جوڑتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں اے ایف ڈی نے خصوصاً امیگریشن، پناہ گزینوں، قومی شناخت، یورپی یونین اور جرمنی کی داخلی و خارجی پالیسیوں سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اپنی حمایت میں اضافہ کیا ہے۔
تازہ سروے میں تقریباً تین میں سے ایک ممکنہ ووٹر کی جانب سے اے ایف ڈی کی حمایت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ جماعت اب جرمن سیاست میں محض ایک احتجاجی ووٹ کی نمائندہ قوت نہیں رہی بلکہ قومی سطح پر ایک بڑی سیاسی طاقت کے طور پر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سی ڈی یو اور سی ایس یو کی حمایت 20 فیصد پر برقرار
چانسلر فریڈرش میرس کی قدامت پسند جماعتوں سی ڈی یو اور سی ایس یو کو انسَا کے تازہ سروے میں 20 فیصد حمایت حاصل ہوئی۔
گزشتہ جائزے کے مقابلے میں قدامت پسند اتحاد کی مقبولیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تاہم اے ایف ڈی کے مقابلے میں اس کا فرق اب 9 فیصد پوائنٹس تک پہنچ گیا ہے۔
یہ صورتحال چانسلر میرس اور ان کی سیاسی جماعت کے لیے اہم سمجھی جا سکتی ہے، کیونکہ حکومت کو ایک طرف ملکی معیشت، روزگار اور عوامی خدمات جیسے داخلی مسائل سے نمٹنا ہے، تو دوسری جانب دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی سیاسی حمایت کا بھی سامنا ہے۔
گرین پارٹی ایس پی ڈی سے آگے نکل گئی
سروے میں جرمنی کی گرین پارٹی کی مقبولیت میں بھی ایک فیصد اضافہ ہوا اور وہ 14 فیصد حمایت کے ساتھ دوسرے اہم سیاسی مرحلے میں داخل ہوتی دکھا



