اداریہ

… اور عوام پر روزانہ پٹرول بم گرانا ….پیر مشتاق رضوی

پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمت ہر دن بڑھتی ہے۔ اس کی وجہ عالمی ریٹ، ڈالر کا ریٹ، لیوی اور مارجن کا فارمولا ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

ایک رپورٹ کے مطابق "شہباز شریف کے دور” میں عوام پر مہنگائی کا جو بوجھ ڈالا گیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ 11 اپریل 2022ء کو جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت پیٹرول کی قیمت 149.86 روپے فی لیٹر تھی اور برینٹ خام تیل 100.74 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ لیکن 8 ستمبر 2026ء کو پیٹرول کی قیمت بڑھ کر 369.20 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے حالانکہ اسی دوران برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 98.21 ڈالر فی بیرل رہ گئی ہے۔ یعنی عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے باوجود چار سال میں پیٹرول کی قیمت میں 219.34 روپے فی لیٹر کا ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لمحۀ فکریہ ہے کہ حکومت پاکستان کا بجٹ 27-2026ء اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اب قرضوں پر چل رہی ہے۔ حکومت کی کل متوقع آمدن 20.59 ٹریلین روپے ہے جبکہ صرف "ڈومیسٹک ڈیٹ” کا ہدف 27.75 ٹریلین روپے رکھا گیا ہے۔ یعنی نئے قرضے لے کر پرانے قرضوں کی قسطیں اور سود ادا کیا جا رہا ہے۔ IMF کے پروگرام کی وجہ سے حکومت نےپیٹرولیم لیوی کو 1.676 ٹریلین اور کلائمیٹ لیوی کو 50 ارب روپے تک بڑھا دیا تاکہ "ریونیو ٹارگٹ” پورا کیا جا سکے۔اس وقت ایک لیٹر پٹرول پر حکومت 115 روپے پیٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 21.15 روپے کسٹم ڈیوٹی، 17.85 روپے ڈیلر و OMC مارجن اور 7.60 روپے IFEM بھی شامل ہے۔ یوں فی لیٹر کل ٹیکس اور لیوی 153.55 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ حکومت کا ہدف FY 2026-27 میں صرف پیٹرولیم لیوی سے 1.676 ٹریلین روپے جمع کرنا ہے۔
دوسری طرف روزانہ کا "پٹرول بم” عوام کی معاشی کمر توڑ رہا ہے۔ پٹرول، گیس اور بجلی کی قیمت ہر دن بڑھتی ہے۔ اس کی وجہ عالمی ریٹ، ڈالر کا ریٹ، لیوی اور مارجن کا فارمولا ہے۔ جبکہ عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملتا کیونکہ لیوی کبھی کم نہیں ہوتی۔ گیس پر GDS، رائلٹی، GIDC اور کیپٹو لیوی الگ سے لگائی گئی ہے۔ بجلی کے بل میں فیول ایڈجسٹمنٹ، سرچارج اور مختلف ٹیکس شامل ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ٹرانسپورٹ مہنگی ہو گئی، سبزی اور راشن کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور فیکٹریوں کا خرچہ بڑھنے سے پیداوار مہنگی ہو گئی۔اور ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہے کیونکہ توانائی مہنگی ہونے سے غربت اور بے روزگاری عروج پر پہنچ گئی ہے۔ جب بجلی اور گیس مہنگی ہو تو فیکٹریاں بند ہو جاتی ہیں، نئی بھرتی رک جاتی ہے اور چھوٹا کاروبار چلانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ تنخواہ وہی رہتی ہے لیکن گھر کا خرچہ دگنا ہو جاتا ہے۔ لوگ اس کیفیت کو "زندہ درگور” کہتے ہیں۔سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ حکومت ایک طرف آئل اینڈ گیس سے 1.998 ٹریلین روپے وصول کر رہی ہے تو دوسری طرف 830 ارب روپے بجلی کی سبسڈی میں دے رہی ہے۔ یعنی جتنا عوام سے لیا اتنا ہی واپس سبسڈی کی شکل میں۔ درمیان میں صرف مہنگائی بڑھی اور قرضہ بڑھا۔ ایران-امریکہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے جنگ رکووانے کے لیے تاریخ ساز سفارتی کوشیں کیں۔ وزیراعظم اور آرمی چیف سمیت حکومتی سطح پر رابطے کیے گئے اور خطے میں امن کا مؤقف اپنایا گیا۔ لیکن اس سفارتکاری کا فائدہ عوام کو نہیں ملا۔ عالمی منڈی میں کشیدگی کی وجہ سے تیل مہنگا ہوا اور اس کا خمیازہ سب سے پہلے پاکستانی عوامکو بھگتنا پڑ رہا ہے لوگ اسے "روزانہ کا پٹرول بم” کہتے ہیں کیونکہ ہر مہنگائی کی لہر یہیں سے شروع ہوتی ہے۔عوام اب کھل کر کہہ رہے ہیں کہ حکومت معاشی بدحالی اور توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ نون لیگ کا ملک چلانے کے لیے”بہترین ٹیم” کا دعوی’تھا کہ مہنگائی کم ہو گی اور قرضے گھٹیں گے، لیکن زمین پر نتیجہ اس کے برعکس ہے۔ گیس نہیں ملتی، لوڈشیڈنگ ہے، بجلی کے بل میں سرچارج ہی سرچارج ہے فیکٹریاں کیپٹو پاور چھوڑ کر مہنگی نیشنل گرڈ پر جانے پر مجبور ہیں جس سے روزگار بھی گیا اور لاگت بھی بڑھی۔حکومت کا مؤقف ہے کہ IMF پروگرام، ڈیفالٹ سے بچاؤ اور بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے یہ سخت فیصلے ناگزیر تھے۔ لیکن عوام کا سوال ہے کہ اگر قربانی صرف عام آدمی دے رہا ہے اور مافیا و مراعات کا نظام ویسے ہی چل رہا ہے تو اسے ریاستی سطح پر "معاشی بربریت” اور "معاشی دھشتگردی” کے سوا کیا کہا جائے۔ مظلوم عوام کی دہائی ہے کہ "حکمرانوں کو ہماری کوئی پرواہ نہیں” شہباز شریف کے دورحکومت میں معاشی بدحالی، توانائی کا بحران ہےاور عوام کا معاشی قتل عام ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔ !!

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button