
ماں بچوں کی میت پر بیٹھی بین کر رہی تھی کہ میرے تین بچے قبر میں چلے گئے، میرے گھر کا سکون تباہ ہو گیا، صبر نہیں ہو رہا، رونق ختم ہو گئی۔۔۔ مختلف رپورٹرز مائیک لہراتے ہوئے سوال پر سوال کر رہے تھے کہ
– ان بچوں کے نام بتائیں
– کتنی عمر ہے ان کی
– بچے کس وقت گئے ٹیوشن
– آپ خود چھوڑ کر آئیں
– آپ کی بیٹی آپ سے کتنا پیار کرتی تھی
– کبھی سوچا تھا کہ آپ پر ایسی قیامت ٹوٹے گی
– کیا کہیں گی اس افسوسناک واقعہ پر
– آپ کو حادثے کی خبر کس وقت ملی
– خبر سن کر آپ وہاں موقع پر گئی تھیں؟
– جب آپ کو خبر ملی تو آپ پر تو قیامت ٹوٹ پڑی ہوگی؟۔۔۔
– بیٹے کو لینے کیلئے خدا سے کتنی منت مرادیں کی تھی۔۔
– ٹیوشن جاتے ہوئے بچے کچھ کہہ کر گئے تھے آپ سے۔۔؟
– بچہ کتھنی دیر تک مٹی تڑپتا رہا۔۔؟
بس کر دو یاررر۔۔ اور کتنے زخم کریدو گے ان درد کے ماروں کے۔۔۔ فضول ترین سوالات کر کے مزید کتنا جگر چھلنی کرو گے ان کا۔۔۔ ایسے سوالات تو بچے بھی نہیں کرتے۔۔
ہوش و ہواس سے بیگانہ والدین کو بین کرتا دکھا کر۔۔ ماتم بیچ کر ریٹنگ لینے والوں کو خدا کا کوئی خوف ہی نہیں۔۔۔ کسی کے ٹوٹے ہوئے دکھ کو ریٹنگ میں بدلنے والے۔۔۔ میڈیا میں کیا سیکھ کر آ رہے ہیں؟
کیا میڈیا اسٹیڈیز کے اداروں نے انہیں موقع کی نزاکت سے متاثرہ خاندانوں کی عزت، رازداری اور غم کا احترام کرنا نہیں سکھایا؟
میڈیا اسٹیڈیز کے طلباء کو یہ بھی سکھایا جانا چاہیے کہ غمزدہ انسان سے کب، کیسے اور کون سا سوال کرنا ہے۔۔۔ کسی ماں کے غم کو، کسی باپ کے کرب کو کیمرے پر بیچنا ہرگز صحافت نہیں۔۔۔
چھتیں اچانک نہیں گرتیں، انہیں پہلے ضمیر گراتا ہے، پھر لالچ اور ناقص میٹریل— لوہے کی کمزوری صرف چھتیں نہیں گراتی، کسی ماں کی گود اجاڑ دیتی ہے اور کسی باپ کا سہارا چھین لیتی ہے۔
غیر معیاری ٹی آر گارڈرز بنانے اور فروخت کرنے والے بھی سانحۂ کاہنہ کے بنیادی ذمہ دار ہیں، جنہوں نے چند سکوں اور زیادہ منافع کی خاطر معیار کا سودا کیا۔ چند روپے زیادہ کمانے کی ہوس صرف لوہا نہیں بیچتی، بلکہ معصوم جانوں کی تقدیر بھی لکھ رہی ہوتی ہے۔
جب معیار کو منافع پر قربان کر دیا جائے تو ملبے تلے صرف اینٹیں نہیں دبتیں، بلکہ خواب، مستقبل اور پورے خاندان دفن ہو جاتے ہیں۔
سانحۂ کاہنہ میں گھر کے مالک اور کنٹریکٹر کو تو گرفتار کر لیا گیا، مگر انصاف اسی وقت مکمل ہوگا جب ناقص اور غیر معیاری تعمیراتی سامان تیار کرنے اور فروخت کرنے والے بھی قانون کے کٹہرے میں لائے آئیں گے۔


