
اے آئی بوٹس نے دنیا بھر کی درجنوں ویب سائٹس تک غیر مجاز رسائی کی کوشش کی، اوپن اے آئی کا اعتراف
اگست سے یہ خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ انسانی نگرانی سے باہر ہونے والے اے آئی ٹولز سنگین، حتیٰ کہ مہلک، نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق اے آئی ایجنٹس نے حکومتی اداروں، یونیورسٹیوں، سرکاری ایجنسیوں اور دیگر تنظیموں سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ان میں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC)، مردم شماری بیورو اور محکمہ تعلیم بھی شامل ہیں۔
یہ انکشافات آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیزی کے اس اعلان کے چند روز بعد سامنے آئے ہیں، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ اوپن اے آئی کے ایجنٹس نے حکومت کے زیر انتظام صحت کے نظام کی ویب سائٹ پر موجود غیر عوامی فائلوں تک رسائی حاصل کر لی تھی۔
اگست سے یہ خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ انسانی نگرانی سے باہر ہونے والے اے آئی ٹولز سنگین، حتیٰ کہ مہلک، نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔
اوپن اے آئی نے کہا کہ کچھ معلومات اے آئی ایجنٹس نے حاصل کیں۔ یہ ایسے بوٹس ہوتے ہیں، جو نسبتاً خودمختار انداز میں کام کرنے کے لیے تیار اور تربیت دیے جاتے ہیں اور ان کا مقصد عوامی معلومات کے مستند ذرائع تلاش کرنا تھا۔

تاہم کمپنی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض بوٹس اس حد سے آگے نکل گئے اور ویب سائٹس پر موجود سکیورٹی اقدامات کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی۔
مثال کے طور پر مردم شماری بیورو سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کے دوران کچھ اے آئی ایجنٹس نے ایسے ٹولز استعمال کیے، جو عام طور پر صرف سافٹ ویئر ڈویلپرز کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اس کے بوٹس نے جو سرکاری معلومات حاصل کیں وہ تمام عوامی طور پر دستیاب تھیں۔
کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسے کسی قسم کی سکیورٹی خلاف ورزی، خفیہ معلومات تک رسائی یا سرکاری نظام میں مداخلت کے شواہد نہیں ملے۔ تاہم اوپن اے آئی اور آزاد محققین ان واقعات کا مزید جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اے آئی سسٹمز کے انسانی کنٹرول سے باہر ہونے کے خدشات پر بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔



