کالمزعلی عباس کاظمی

جمہوریت، احتجاج اور عام آدمی…… علی عباس کاظمی

اگر ایک سیاسی جماعت اپنے مطالبات منوانے کے لیے دارالحکومت کا رخ کرتی ہے تو اسے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس شہر میں وہ اپنا سیاسی پیغام پہنچانے جا رہی ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

ریاست کی اصل طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کے سامنے شدید اختلاف موجود ہو اور پھر بھی وہ اختلاف کو تصادم بننے سے روک سکے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سیاسی بحران کا علاج اکثر سیاسی حکمت کے بجائے انتظامی طاقت میں تلاش کیا جاتا ہے۔ اسلام آباد کی حالیہ صورتحال اسی بڑے تضاد کی ایک نئی تصویر ہے۔ حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ کی اور مختلف راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ بڑے شاہراہوں اور داخلی راستوں کی بندش نے یہ سوال پھر زندہ کردیا کہ ایک سیاسی سرگرمی کو روکنے کی کوشش میں ریاست شہری زندگی کو کس حد تک محدود کر سکتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت کا کام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنا ہے، مگر یہی اختیار اگر ہر سیاسی اختلاف کے مقابلے میں پہلی اور سب سے نمایاں حکمت عملی بن جائے تو پھر ہمیں سیکیورٹی سے زیادہ سیاسی نظام کی کمزوری پر غور کرنا چاہیے۔
اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس پر سیاسی جماعتیں عموماً بات کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ احتجاج جمہوری حق ہے، لیکن احتجاج کسی ایسے اخلاقی استثنا کا نام نہیں جس میں عام شہری کی زندگی، کاروبار، تعلیم، علاج اور آمدورفت کو غیر معینہ مدت تک نظر انداز کردیا جائے۔ اگر ایک سیاسی جماعت اپنے مطالبات منوانے کے لیے دارالحکومت کا رخ کرتی ہے تو اسے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس شہر میں وہ اپنا سیاسی پیغام پہنچانے جا رہی ہے وہاں لاکھوں ایسے لوگ بھی رہتے ہیں جن کا اس سیاسی تنازع سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ ان کے لیے بند سڑک صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ روزگار کا نقصان، طالب علم کے لیے تعلیمی رکاوٹ، مریض کے لیے خطرہ اور چھوٹے کاروبار کے لیے مالی نقصان بن سکتی ہے۔لیکن اس دلیل کو حکومت کے لیے بھی آسان راستہ نہیں بننا چاہیے۔ شہریوں کی مشکلات کا حوالہ دے کر سیاسی اختلاف کو مستقل طور پر دبانا بھی مسئلے کا حل نہیں۔ اگر ریاست کسی جماعت کو احتجاج سے روکنے کے لیے پہلے ہی پورے شہر کے راستے بند کردے، بڑی تعداد میں اہلکار تعینات کرے اور اجتماع کے امکانات کو انتظامی اقدامات سے ختم کرنے کی کوشش کرے تو یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی مطالبات سننے اور سیاسی تنازعات حل کرنے کے ادارہ جاتی راستے کتنے مؤثر رہ گئے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں سیکیورٹی انتظامات اس قدر وسیع کیے گئے کہ ہزاروں اہلکاروں اور بڑی تعداد میں کنٹینروں کی تعیناتی کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ہم جمہوریت چاہتے ہیں مگر اختلاف کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم پارلیمان چاہتے ہیں مگر پارلیمان میں مکالمہ کمزور ہوتا جائے تو سڑک کو سیاسی میدان بنا لیتے ہیں۔ ہم سیاسی استحکام چاہتے ہیں مگر حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو سیاسی حریف کے بجائے وجودی خطرہ سمجھنے لگتے ہیں۔ ہم آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہیں مگر آئینی اداروں کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑھتا رہتا ہے۔ پھر حیرت ہوتی ہے کہ ملک میں سیاسی بے یقینی کیوں ختم نہیں ہوتی۔اصل بحران شاید کنٹینر نہیں بلکہ وہ ذہنی کیفیت ہے جس میں ہم پہنچ چکے ہیں۔ حکومت سمجھتی ہے کہ اگر مخالف کو سڑک پر آنے سے روک دیا گیا تو مسئلہ حل ہوگیا۔ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ اگر زیادہ سے زیادہ لوگ سڑک پر آگئے تو حکومت دباؤ میں آ جائے گی۔ دونوں تصورات میں ایک خطرناک مماثلت ہے۔ دونوں میں سیاسی حل کے بجائے دباؤ کو فیصلہ کن سمجھا جا رہا ہے۔ ایک طرف انتظامی طاقت کا دباؤ ہے، دوسری طرف عوامی دباؤ۔ درمیان میں وہ سیاسی گفت و شنید موجود نہیں جس کا مقصد فریقین کو دباؤ میں لانا نہیں بلکہ اختلاف کا راستہ نکالنا ہوتا ہے۔
یہ بھی قابل غور ہے کہ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آ کر اکثر وہی انتظامی ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں جنہیں اپوزیشن میں رہتے ہوئے جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیتی ہیں۔ یہی ہماری سیاست کا سب سے تلخ سبق ہے۔ مسئلہ کسی ایک جماعت، حکومت یا شخصیت کا نہیں بلکہ سیاسی رویے کا ہے۔ اگر اصول اس وقت تک اصول ہیں جب تک وہ ہمارے حق میں ہوں تو وہ اصول نہیں، سیاسی مصلحت ہیں۔ حقیقی جمہوری شعور اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب کوئی جماعت اپنے مخالف کے لیے بھی وہی سیاسی آزادی مانگے جو وہ اپنے لیے چاہتی ہے۔اسی طرح اپوزیشن کے لیے بھی یہ سوال ناگزیر ہے کہ کیا ہر احتجاج کا منطقی انجام دارالحکومت کا محاصرہ ہونا چاہیے۔ سیاسی تحریک کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ کتنے لوگ سڑک پر آئے بلکہ اس سے بھی کہ کتنے لوگوں کو اپنے مقصد کی اخلاقی اور سیاسی منطق پر قائل کیا گیا۔پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کے لیے اعلان کردہ لانگ مارچ کو اب 4 اکتوبر تک مؤخر کیا ہے۔ اس فیصلے کے بارے میں مختلف وجوہات اور سیاسی قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں، تاہم اس وقفے کو محض ایک تاریخ کی تبدیلی سمجھنا شاید درست نہیں ہوگا۔ یہ دونوں فریقوں کے لیے سوچنے کا موقع بھی ہے۔ حکومت غور کرے کہ اگر ایک احتجاج کو روکنے کے لیے پورے انتظامی ڈھانچے کو غیر معمولی دباؤ میں لانا پڑتا ہے تو سیاسی مسئلے کا بنیادی حل کہاں ہے۔ اپوزیشن غور کرے کہ اگر اپنی سیاسی طاقت ثابت کرنے کے لیے پورے ملک کے شہری معمولات کو خطرے میں ڈالنا پڑے تو سیاسی حکمت عملی کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں۔
پاکستان کی معیشت بھی اس سیاسی کشمکش سے الگ نہیں۔ سرمایہ کاری کو صرف مراعات نہیں بلکہ استحکام چاہیے۔ کاروبار کو صرف سستی بجلی نہیں بلکہ پالیسی کا تسلسل چاہیے۔ نوجوان کو صرف روزگار کا وعدہ نہیں بلکہ ایسا ماحول چاہیے جہاں اس کا مستقبل حکومتوں کی باہمی لڑائی سے ہر چند ماہ بعد غیر یقینی کا شکار نہ ہو۔ جب دارالحکومت مسلسل سیاسی بحران کا مرکز بنا رہے تو اس کا اثر صرف پارلیمان تک محدود نہیں رہتا۔ اس کا سایہ مارکیٹ، کاروبار، تعلیم، سیاحت، روزگار اور عام شہری کے ذہنی سکون تک پہنچتا ہے۔سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ مسلسل سیاسی تصادم معاشرے کو بھی دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ لوگ پالیسی پر بحث کرنے کے بجائے شخصیتوں کے ساتھ کھڑے ہونے لگتے ہیں۔ دلیل کی جگہ وفاداری لے لیتی ہے اور اختلاف رائے کو غداری، دشمنی یا ذاتی حملے میں بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اس ماحول میں سچ بھی جماعتی شناخت کا پابند ہوجاتا ہے۔ جو خبر اپنے حق میں ہو وہ سچ، جو مخالف کے خلاف ہو وہ پروپیگنڈا۔ یوں معاشرہ حقیقت تلاش کرنے کے بجائے اپنی اپنی پسند کی حقیقتیں تخلیق کرنے لگتا ہے۔یہ صورتحال آنے والی نسل کے لیے بھی ایک خطرناک سبق چھوڑتی ہے۔ اگر نوجوان یہ دیکھے کہ سیاست کا مطلب مخالف کو کچلنا، احتجاج کا مطلب شہر بند کرنا، حکومت کا مطلب انتظامی طاقت اور اپوزیشن کا مطلب مسلسل محاذ آرائی ہے تو وہ جمہوریت سے کیا سیکھے گا؟ جمہوریت دراصل اختلاف کو برداشت کرنے کا نام ہے۔ اقتدار کی تبدیلی کو معمول سمجھنے، مخالف کی آواز سننے، قانون کو فرد سے بالاتر رکھنے اور شکست کے بعد دوبارہ سیاسی جدوجہد کرنے کا نام ہے۔ اگر یہ رویے ہماری سیاست سے غائب ہوگئے تو صرف انتخابات باقی رہ جائیں گے، جمہوری ثقافت نہیں۔
اس لیے آج ضرورت کسی ایک فریق کو مکمل طور پر درست یا غلط ثابت کرنے کی نہیں بلکہ اس سیاسی ڈھانچے کا محاسبہ کرنے کی ہے جو بار بار ہمیں اسی مقام پر لا کھڑا کرتا ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر مخالف آواز خطرہ نہیں ہوتی اور اپوزیشن کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر سیاسی مقصد کے لیے سڑک آخری عدالت نہیں۔ اداروں کو اپنے آئینی کردار کی حدود میں اعتماد پیدا کرنا ہوگا اور سیاسی جماعتوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اقتدار کے لیے اصول استعمال کریں گی یا اصولوں کے لیے اقتدار کو محدود کریں گی۔ہم نے کئی مرتبہ دیکھا ہے کہ کنٹینر ہٹا دیے جاتے ہیں، راستے کھول دیے جاتے ہیں اور سیاسی جلسے ختم ہوجاتے ہیں، مگر بنیادی تنازع باقی رہتا ہے۔ اگر ہر چند سال بعد وہی سیاسی بحران نئی شکل میں واپس آتا ہے تو شاید مسئلہ افراد کے بدلنے سے زیادہ نظام کے اندر موجود ان رویوں میں ہے جو بحران کو جنم دیتے ہیں۔دارالحکومت کی سڑکیں ایک دن ضرور کھل جائیں گی۔ کنٹینر اٹھ جائیں گے، ٹریفک معمول پر آجائے گی اور شہری اپنی روزمرہ زندگی کی طرف لوٹ جائیں گے۔ مگر اگر سیاست کے دروازے بند رہے، اگر مخالف سے بات کرنے کا حوصلہ پیدا نہ ہوا، اگر آئین کو ضرورت کے مطابق پڑھا اور بھلایا جاتا رہا اور اگر عوام کو صرف ہجوم، ووٹ یا طاقت کے عدد کے طور پر دیکھا جاتا رہا تو اصل راستے پھر بھی بند رہیں گے۔ شاید پاکستان کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ ہم سڑکیں کھولنے سے آگے بڑھ کر سیاست کے وہ دروازے بھی کھول سکیں جہاں اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ قومی زندگی کا لازمی حصہ سمجھا جائے۔ کیونکہ جب اختلاف کو مکالمے سے حل کرنے کے بجائے کنٹینروں سے روکنے کی ضرورت محسوس ہونے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ بحران سڑک پر نہیں، سیاسی نظام کے اندر کہیں زیادہ گہرا ہو چکا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button