
دہلی: نوجوان مظاہرین نے پولیس کو چکمہ دینے کے نت نئے طریقے ایجاد کر لیے
29 سالہ نہا بورا خود سکیورٹی حصار سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں اور وسطی دہلی کی جانب تیزی سے بڑھیں، حالانکہ بعد میں انہیں بھی حراست میں لے لیا گیا۔
جاوید اختر -دہلی
بیٹ مین کی نقل والے ماسک لے کر آف لائن نقشوں کے استعمال تک، بھارتی نوجوان مظاہرین نے نئی دہلی میں سکیورٹی کے سخت ترین کریک ڈاؤن میں سے ایک کا مقابلہ کرنے کے لیے نت نئے طریقے اپنا لیے ہیں، جن کا مقصد نگرانی سے بچنا اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔
طلبہ کی مقبول رہنما نہا بورا اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں جب شناخت میں غلطی کے باعث پولیس نے ان کی ہم شکل خاتون کو حراست میں لے لیا۔
29 سالہ نہا بورا خود سکیورٹی حصار سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں اور وسطی دہلی کی جانب تیزی سے بڑھیں، حالانکہ بعد میں انہیں بھی حراست میں لے لیا گیا۔
بعد ازاں انہوں نے اپنی ہم شکل خاتون کے ساتھ ایک تصویر پوسٹ کی اور مذاقاً کہا کہ دونوں کی مشابہت ’’محض اتفاق ہے، کوئی حکمتِ عملی نہیں‘‘۔
صرف بورا ہی نہیں، پولیس کو سڑکوں پر بہت سے دیگر پھرتیلے نوجوان مظاہرین کا تعاقب کرنے میں بھی مشکلات پیش آتی دکھائی دیں۔
ایک نوجوان نے صحافیوں سے کہا، ’’پولیس اہلکاروں کے توند نکلے ہوئے ہیں، وہ دوڑ نہیں سکتے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’وہ صرف 50 میٹر دوڑنے کے بعد ہی ہانپنے لگتے ہیں۔‘‘
دیگر ڈرامائی مناظر میں سے ایک میں مظاہرین اُس وقت ایک دوسرے کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے دکھائی دیے، جب پولیس انہیں گھسیٹ کر کھڑی بسوں کی جانب لے جا رہی تھی۔ تاہم، بعد میں بعض مظاہرین ڈرائیور کی نشست یا پچھلی کھڑکی سے بسوں سے کود کر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
اے ایف پی نے کئی ایسے مظاہرین سے بھی ملاقات کی جنہوں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے بیٹ مین کے ماسک پہن رکھے تھے۔
ادھر بالی ووڈ اداکارہ ریچا چڈھا نے بھی گرفتاری سے بچنے کے لیے کچھ تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے اتوار کو خود ایک ویڈیو بنائی جس میں وہ اپنے چہرے پر میک اپ لگا رہی تھیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، ’’پیارے مظاہرین! چونکہ آپ کی رضامندی کے بغیر آپ کی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں، اس لیے نگرانی اور چہرے کی شناخت کرنے والے کیمروں سے بچنے کے لیے میک اپ استعمال کرنے کی کوشش کریں۔
پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی کے اس اہم مقابلے میں سوشل میڈیا سے واقف طلبہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی مزاحمت کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔
مظاہرین بھارت کے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں میں ردوبدل کرکے وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت کو فائدہ پہنچایا گیا۔ تاہم، الیکشن کمیشن نے اس الزام کی تردید کی ہے۔



