
اے ایف پی کے ساتھ
سویڈن کی معروف نوجوان ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے منگل کو فرانس میں بہتر تعلیمی حالات کے مطالبات کرنے والے ہائی اسکول کے طلبہ کی احتجاجی مہم میں شرکت کی۔ اس وقت حکام اور مظاہرین کو خدشہ ہے کہ تشدد کے واقعات دوبارہ پیش آ سکتے ہیں۔
23 سالہ گریٹا تھنبرگ فرانس کے دارالحکومت پیرس کے سب سے بڑے مضافاتی علاقے سین ڈُنی میں اس تحریک کے مرکزی مقام پر واقع ایک اسکول کے باہر مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے احتجاج میں شامل ہوئیں۔
تھنبرگ نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’نوجوانوں کو اس بحث میں شامل نہیں کیا جا رہا۔ ہمارا مستقبل ہم سے چھینا جا رہا ہے۔‘‘
یونیورسٹی طلبہ یونین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’وہ ہماری بات نہیں سن رہے، اس لیے اب ہم خود ان (حکومت) کے پاس جا رہے ہیں۔‘‘
گزشتہ جمعرات کو اس تحریک کے سلسلے میں ہونے والے آخری بڑے مظاہروں میں 70 ہزار سے زائد افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ یہ تحریک ستمبر کے اواخر میں شروع ہوئی تھی۔
فرانس میں طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے احتجاج جاری رکھنے کا عزم مصمم رکھتے ہیں، تاکہ اساتذہ کی غیر حاضری کی بڑی تعداد، خستہ حال اسکولوں کی عمارتوں، حد سے زیادہ طویل تدریسی اوقات اور دیگر شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔
گزشتہ ماہ سے جاری احتجاج کے دوران نوجوانوں نے فرانس کے تقریباً 3,700 ہائی اسکولوں میں سے سینکڑوں کے باہر کچرے کے ڈبے جمع کرکے اور حفاظتی رکاوٹوں کو آگ لگا کر راستے بند کیے۔ ان اسکولوں میں زیادہ تر 15 سے 18 سال کی عمر کے طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
یہ مظاہرے زیادہ تر پُرامن رہے ہیں، تاہم بعض مواقع پر پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔



