
پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ، چار مختلف کورسز کے کیڈٹس کی تربیت مکمل، دوست ممالک کے افسران بھی فارغ التحصیل
جنرل سید عامر رضا مہمانِ خصوصی، ممتاز کیڈٹس میں اعزازات تقسیم؛ بنگلہ دیش، عراق، مالدیپ، فلسطین، قطر، سری لنکا، تاجکستان اور یمن سمیت متعدد ممالک کے کیڈٹس کی شرکت
سید عاطف ندیم-ادارت
کاکول (خصوصی رپورٹ): پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول میں 154ویں پی ایم اے لانگ کورس، 39ویں ٹیکنیکل گریجویٹ کورس، 73ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 28ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ منعقد ہوئی، جس میں تربیت مکمل کرنے والے کیڈٹس نے فوجی تربیت کے ایک اہم مرحلے کی تکمیل کا اعزاز حاصل کیا۔ تقریب میں پاکستان کے علاوہ دوست ممالک سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس نے بھی پاکستان ملٹری اکیڈمی سے گریجویشن مکمل کیا، جو پاکستان اور ان ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور فوجی تربیت کے روابط کی عکاسی کرتا ہے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا، این آئی (ایم)، ایس بی ٹی تھے، جنہوں نے پریڈ کا معائنہ کیا اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس میں اعزازات تقسیم کیے۔ اس موقع پر کیڈٹس کی پیشہ ورانہ تربیت، نظم و ضبط اور مختلف کورسز میں ان کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول ملک کے اہم فوجی تربیتی اداروں میں شمار ہوتی ہے، جہاں زیرِ تربیت کیڈٹس کو عسکری علوم، جسمانی تربیت، قیادت، نظم و ضبط، فیصلہ سازی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے متعلق تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ پاسنگ آؤٹ پریڈ اس تربیتی سفر کے ایک اہم مرحلے کی تکمیل کی علامت ہوتی ہے، جس کے بعد فارغ التحصیل کیڈٹس اپنی متعلقہ عسکری ذمہ داریوں کی جانب بڑھتے ہیں۔
چار مختلف کورسز کے کیڈٹس کی تربیت مکمل
پاسنگ آؤٹ پریڈ میں چار مختلف تربیتی کورسز کے کیڈٹس شامل تھے، جن میں 154واں پی ایم اے لانگ کورس، 39واں ٹیکنیکل گریجویٹ کورس، 73واں انٹیگریٹڈ کورس اور 28واں لیڈی کیڈٹ کورس شامل ہیں۔
ان کورسز میں تربیت حاصل کرنے والے کیڈٹس مختلف تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر رکھتے ہیں، تاہم فوجی تربیت کے دوران ان کی توجہ نظم و ضبط، جسمانی استعداد، قیادت کی صلاحیتوں، ٹیم ورک اور عسکری فرائض کی انجام دہی کے لیے ضروری مہارتوں پر مرکوز رہتی ہے۔
لانگ کورس کے کیڈٹس کو بنیادی فوجی تربیت اور مستقبل کی قیادت کے لیے تیار کیا جاتا ہے، جبکہ ٹیکنیکل گریجویٹ کورس میں متعلقہ فنی اور تعلیمی پس منظر رکھنے والے کیڈٹس کی پیشہ ورانہ عسکری تربیت اہمیت رکھتی ہے۔ انٹیگریٹڈ کورس اور لیڈی کیڈٹ کورس بھی اپنے مخصوص تربیتی تقاضوں کے مطابق کیڈٹس کو ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے تیار کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
ان کورسز کی تکمیل کے ساتھ کیڈٹس نے اپنے تربیتی سفر کا ایک اہم مرحلہ عبور کیا، جبکہ ان کی کارکردگی کے اعتراف میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والوں کو مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔
دوست ممالک کے کیڈٹس کی گریجویشن، دفاعی تعاون کی عکاسی
پاکستان ملٹری اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہونے والے کیڈٹس میں متعدد دوست ممالک کے نوجوان بھی شامل تھے۔ ان ممالک میں بنگلہ دیش، عراق، مالدیپ، فلسطین، قطر، سری لنکا، تاجکستان اور یمن شامل ہیں۔
دوست ممالک کے کیڈٹس کی پاکستان ملٹری اکیڈمی میں تربیت اور گریجویشن پاکستان کے بین الاقوامی فوجی تربیتی روابط کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ مختلف ممالک کے کیڈٹس ایک ہی تربیتی ماحول میں عسکری مہارتیں، نظم و ضبط، قیادت اور پیشہ ورانہ اصول سیکھتے ہیں، جس سے انہیں ایک دوسرے کے تجربات اور تربیتی طریقۂ کار سے واقفیت حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔
فوجی تربیت کے ایسے پروگراموں کو دفاعی تعاون، پیشہ ورانہ روابط اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ تربیت کے دوران مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس کے درمیان قائم ہونے والے روابط مستقبل میں ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران بھی اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔
تقریب میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے کیڈٹ کو بھی نمایاں کارکردگی پر اعزاز سے نوازا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اکیڈمی میں زیرِ تربیت دوست ممالک کے کیڈٹس کی کارکردگی کو بھی ان کے متعلقہ کورسز کے معیار کے مطابق تسلیم کیا جاتا ہے۔
جنرل سید عامر رضا نے پریڈ کا معائنہ کیا
کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا، این آئی (ایم)، ایس بی ٹی نے پاسنگ آؤٹ پریڈ کے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور پریڈ کا معائنہ کیا۔
اس موقع پر انہوں نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس کو مختلف اعزازات سے نوازا۔ فوجی تربیت میں امتیازی کارکردگی کے اعتراف میں دیے جانے والے اعزازات کیڈٹس کی محنت، پیشہ ورانہ قابلیت، نظم و ضبط اور تربیتی معیار کو اجاگر کرتے ہیں۔
پاسنگ آؤٹ پریڈ عسکری تربیت کا ایک اہم موقع ہوتی ہے، جس میں کیڈٹس اپنی تربیت مکمل کرنے کے بعد باقاعدہ فوجی ذمہ داریوں کی جانب پیش قدمی کرتے ہیں۔ اس موقع پر حاصل ہونے والے اعزازات نہ صرف انفرادی کامیابی کی علامت ہوتے ہیں بلکہ دوسرے زیرِ تربیت کیڈٹس کے لیے بھی بہتر کارکردگی دکھانے کی ترغیب کا ذریعہ بنتے ہیں۔
محمد جنید جبار کو اعزازی تلوار سے نوازا گیا
154ویں پی ایم اے لانگ کورس کے اکیڈمی کے سینئر انڈر آفیسر محمد جنید جبار کو ان کی نمایاں کارکردگی کے اعتراف میں اعزازی تلوار سے نوازا گیا۔
اعزازی تلوار فوجی تربیت کے دوران غیر معمولی کارکردگی اور امتیاز کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ یہ اعزاز حاصل کرنا کیڈٹ کے لیے ایک اہم کامیابی ہوتی ہے، جو اس کی تربیتی محنت اور مجموعی کارکردگی کو نمایاں کرتا ہے۔
محمد جنید جبار کو یہ اعزاز ملنا ان کی تربیت کے دوران نمایاں کارکردگی کا اعتراف ہے۔ ایسے اعزازات کیڈٹس میں محنت، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ معیار برقرار رکھنے کے جذبے کو مزید تقویت دیتے ہیں۔
سید حسن عباس کو پریذیڈنٹ گولڈ میڈل
154ویں پی ایم اے لانگ کورس کے بٹالین کے سینئر انڈر آفیسر سید حسن عباس کو پریذیڈنٹ گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔
یہ اعزاز کورس میں نمایاں کارکردگی کے اعتراف کے طور پر دیا گیا۔ فوجی اکیڈمی میں کیڈٹس کی کارکردگی کو مختلف تربیتی اور پیشہ ورانہ معیار کے مطابق جانچا جاتا ہے، جن میں نظم و ضبط، تربیت، قیادت اور مجموعی قابلیت اہمیت رکھتے ہیں۔
سید حسن عباس کو گولڈ میڈل سے نوازا جانا ان کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ اکیڈمی میں اعلیٰ معیار کی تربیت اور کارکردگی کی حوصلہ افزائی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
بنگلہ دیشی کیڈٹ ریاض محمود خان کو اوورسیز گولڈ میڈل
154ویں پی ایم اے لانگ کورس کی فرینڈلی کنٹری کمپنی سے تعلق رکھنے والے بنگلہ دیشی سینئر انڈر آفیسر ریاض محمود خان کو چیف آف ڈیفنس فورسز اوورسیز گولڈ میڈل دیا گیا۔
دوست ممالک کے کیڈٹس کے لیے ایسے اعزازات ان کی تربیت کے دوران نمایاں کارکردگی کے اعتراف کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ریاض محمود خان کو یہ میڈل ملنا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں تربیت حاصل کرنے والے غیر ملکی کیڈٹس کی کامیابیوں کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔
دوست ممالک کے کیڈٹس کی شرکت اور ان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کی پذیرائی فوجی تربیت کے بین الاقوامی پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔ اس سے مختلف ممالک کے درمیان تربیتی تجربات کے تبادلے اور پیشہ ورانہ روابط کے فروغ کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔
محمد عبداللہ کو مارکس مین میڈل دیا گیا
154ویں پی ایم اے لانگ کورس کے کمپنی اسپورٹس سارجنٹ محمد عبداللہ کو مارکس مین میڈل سے نوازا گیا۔
مارکس مین میڈل نشانہ بازی میں نمایاں مہارت اور کارکردگی کے اعتراف سے متعلق ہے۔ فوجی تربیت میں نشانہ بازی بنیادی پیشہ ورانہ مہارتوں میں شمار ہوتی ہے، جس کے لیے توجہ، ضبط، درستگی اور مسلسل مشق درکار ہوتی ہے۔
محمد عبداللہ کو یہ اعزاز دیے جانے سے تربیت کے اس پہلو کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے کہ کیڈٹس کی کامیابی صرف مجموعی تربیتی کارکردگی تک محدود نہیں ہوتی بلکہ مخصوص عسکری مہارتوں میں نمایاں صلاحیت کا اعتراف بھی کیا جاتا ہے۔
ٹیکنیکل گریجویٹ اور دیگر کورسز کے نمایاں کیڈٹس کو اعزازات
پاسنگ آؤٹ پریڈ کے دوران دیگر کورسز میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس کو بھی اعزازات سے نوازا گیا۔
39ویں ٹیکنیکل گریجویٹ کورس کے انڈر آفیسر علی احمد مصطفیٰ کو چیف آف آرمی اسٹاف کین سے نوازا گیا۔ اسی طرح 73ویں انٹیگریٹڈ کورس کے کورس انڈر آفیسر محمد حمزہ فیاض کو کمانڈنٹ کین دیا گیا۔
28ویں لیڈی کیڈٹ کورس کی کورس جونیئر انڈر آفیسر مریم طارق کو بھی کمانڈنٹ کین سے نوازا گیا۔
ان اعزازات کے ذریعے مختلف کورسز میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ان کی کامیابیاں تربیتی معیار، محنت اور پیشہ ورانہ اہلیت کے اعتراف کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہیں۔
لیڈی کیڈٹ کورس کی کیڈٹ مریم طارق کو اعزاز سے نوازا جانا اس بات کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ خواتین کی عسکری تربیت اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو بھی متعلقہ کورسز کے معیار کے مطابق تسلیم کیا جاتا ہے۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کی تربیتی اہمیت
پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول پاکستان کے فوجی تربیتی نظام میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ یہاں کیڈٹس کو عسکری زندگی کے تقاضوں سے روشناس کرانے کے ساتھ انہیں ذمہ داری، نظم و ضبط، قیادت، جسمانی فٹنس اور ٹیم ورک کی تربیت دی جاتی ہے۔
فوجی تربیت کا مقصد صرف عسکری مہارتوں کی تعلیم نہیں بلکہ کیڈٹس میں ذمہ دارانہ قیادت، مشکل حالات میں فیصلہ سازی اور اجتماعی اہداف کے لیے کام کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ہے۔ پاسنگ آؤٹ پریڈ اس تربیت کے ایک اہم مرحلے کی تکمیل کا اظہار کرتی ہے۔
پاکستانی کیڈٹس کے ساتھ دوست ممالک کے کیڈٹس کی تربیت اس ادارے کے بین الاقوامی تربیتی کردار کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو ایک مشترکہ تربیتی ماحول فراہم کرنا پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے اور باہمی روابط کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
نئی ذمہ داریوں کی جانب اہم پیش رفت
154ویں پی ایم اے لانگ کورس، 39ویں ٹیکنیکل گریجویٹ کورس، 73ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 28ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد یہ کیڈٹس اپنے متعلقہ شعبوں میں ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے اگلے مرحلے میں داخل ہوں گے۔
تقریب میں نمایاں کارکردگی پر اعزازات کی تقسیم نے کیڈٹس کی محنت اور کامیابیوں کو اجاگر کیا، جبکہ دوست ممالک کے کیڈٹس کی شرکت نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کے بین الاقوامی تربیتی روابط کو نمایاں کیا۔
مجموعی طور پر پاسنگ آؤٹ پریڈ فوجی تربیت، پیشہ ورانہ معیار، نظم و ضبط اور قیادت کی تیاری کے عمل کی عکاس ہے۔ اس موقع پر اعزازات حاصل کرنے والے کیڈٹس کی کامیابی ان کی انفرادی محنت کے اعتراف کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے لیے ان کی تیاری کے ایک اہم مرحلے کی تکمیل بھی ہے۔



