
خیبر پختونخوا: سیاسی محاذ آرائی جاری، پشاور کے شہری مشکلات کا شکار
خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔محمود خان اچکزئی
اے ایف پی کے ساتھ
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاز کے بعد صوبے میں سیاسی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ احتجاجی سیاست کے ساتھ اب اپوزیشن جماعتوں نے پشاورہائی کورٹ سے بھی رجوع کر لیا ہے۔
دوسری جانب عوامی سطح پر احتجاج کا سلسلہ تو تھم گیا ہے لیکن صوبائی دارالحکومت پشاور میں اب بھی زیادہ تر راستوں کی بندش شہریوں کے لیے مشکلات کا سبب بن رہی ہے۔
صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرمحمود خان اچکزئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کردی ہے۔

ہائی کورٹ نے پہلے ہی صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹرگوہر اور سلمان خان ایڈوکیٹ کی درخواستوں کی سماعت 20 اکتوبر کے لیے مقرر رکھی ہے۔
محمود خان اچکزئی کا جمعے کے روز پشاور ہائی کورٹ میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ”حکمرانوں کو نہ خدا کا خوف ہے اور نہ ہی عدالتوں کا۔ ہمارے پاس ایک اور آپشن بھی موجود ہے کہ ہم پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفے دیں۔ مذاکرات کی ناکامی کوبہانہ بنا کر پختونخوا کے معدنیات سے بھرے اضلاع میں فرد واحد کے لیے ایمرجنسی لگا دی گئی۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔
ہائی کورٹ بارسے خطاب کی اجازت نہ ملی
اس دوران پشاور ہائی کورٹ بار نے تحریک تحفظ آئین کے قائدین کو بار سے خطاب کرنے سے روکتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ بار کو اس حوالے سے باضابطہ آگاہ نہیں کیا گیا تھا اور نہ ذمہ داروں کے کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی۔
بار کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ایک طریقہ کار موجود ہے، جس کے تحت کابینہ کے نوٹس میں لانے کے بعد کسی بھی مہمان کے خطاب کے لیے انتظامات کیے جاتے ہیں، تاہم اس طریقہ کار کی پیروی نہیں کی گئی لہٰذا انہوں نے سیاسی قائدین کو اپنا فورم مہیا کرنے سے معذرت کر لی ہے۔
آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان
تحریک تحفظ آئین کے رہنماؤں نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان بھی کیا۔ تحریک کے ایک رہنما علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا، ”ہم تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے میں ہیں اور ملک میں جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے۔ ہم ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے آواز اٹھائیں گے۔‘‘

باڑہ کے متاثرین سے اظہار یکجہتی
تحریک کے ایک رہنما اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف احتجاج کے دوران ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں متاثرہ افراد اور عمائدین سے اظہار یکجہتی کے لیے جمعے کے روز اس علاقے کا دورہ بھی کیا۔
اس موقع پر اختر مینگل کا کہنا تھا، ”دہشت گردی کے خلاف آپریشن کا الزام لگایا گیا لیکن بلوچستان میں کتنے آپریشن کیے گئے، اس کے نتائج کیا نکلے؟ آج بلوچستان آگ میں جل رہا ہے اور نوجوان پہاڑوں پر چڑھ گئے ہیں۔‘‘
کے پی کے سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاریوں کا ذکر کرتے ہوئے مینگل نے کہا، ”اس صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ اور اسپیکر لاپتہ ہیں۔ ان کی حکومت بھی چھین لی گئی اور پرامن احتجاج بھی نہیں کرنے دیا جاتا، اس طرح کا نظام چلنے والا نہیں ہے۔ پختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو باور کرایا جاتا ہے کہ آپ غلام ہیں، لیکن جب تک ہم ایک قوم نہیں بنیں گے، ہمیں غلام ہی رکھا جائے گا۔‘‘

گورنرخیبرپختونخوا بھی متحرک
ادھر گورنرخیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ انہوں نے سابق وزیر داخلہ اورقومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ سے جمعے کے روز پشاور میں ملاقات کی۔ گورنر خیبرپختونخوا کا اس موقع پر کہنا تھا، ” صوبے میں امن کے قیام، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتیں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔‘‘ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے قیام امن کے لیے باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
پشاور میں معمولاتِ زندگی تاحال متاثر
پہلے پی ٹی آئی کا اعلان کردہ لانگ مارچ، دھرنے اور احتجاج روکنے کے لیے شاہراہوں کی بندش اور اب گورنر راج اورایمرجنسی نے خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں شہریوں کی زندگی بری طرح متاثر کی ہے۔
شہر میں فی الحال کسی بھی قسم کی احتجاجی ریلی یا جلسہ نہ ہونے کے باوجود فون، انٹرنیٹ سروسز اور سڑکوں کی جزوی بندش کی وجہ سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، آن لائن کاروبار کرنے والوں سمیت طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی اہم سڑکوں پر رکھے گئے کنٹینرز بھی ابھی تک نہیں ہٹائے گئے، جس کے سبب شہریوں کو نقل وحرکت میں بھی بدستور مشکلات کا سامنا ہے۔



