پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس لیے ذمہ داریاں بھی زیادہ ہیں، مریم نواز شریف

بروقت فیصلوں، مشکلات کا سامنا کرنے، عوامی مسائل کے حل اور ہر منصوبے کی تکمیل تک نگرانی کا تقاضا کرتی ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
انصار ذاہد سیال-پاکستان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس لیے یہاں عوامی خدمت اور انتظامی امور سے متعلق ذمہ داریاں بھی زیادہ ہیں۔ وزارتِ اعلیٰ محض ایک عہدہ نہیں بلکہ مسلسل محنت، بروقت فیصلوں، مشکلات کا سامنا کرنے، عوامی مسائل کے حل اور ہر منصوبے کی تکمیل تک نگرانی کا تقاضا کرتی ہے۔ عوام نے اپنے نمائندوں اور ریاستی اداروں سے جو توقعات وابستہ کر رکھی ہیں، انہیں پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومتی ذمہ داریاں پوری سنجیدگی، پیشہ ورانہ مہارت اور میرٹ کے اصولوں کے مطابق ادا کی جائیں۔

کامن ٹرینی پروگرام کے تحت حکومتِ سندھ کے وفد کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنی سیاسی جدوجہد، انتظامی تجربات، وقت کی پابندی، فیصلہ سازی، افسران کی تعیناتی میں میرٹ، عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں اور پنجاب میں جاری ترقیاتی و سماجی اقدامات پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے کام پر تعریف بھی ہوتی ہے اور تنقید بھی، تاہم عوامی مفاد میں فیصلے کرتے وقت تنقید کی پروا کیے بغیر اپنی ذمہ داری ادا کرنا ضروری ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان نے اپنے شہریوں کی تعلیم، تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی پر سرمایہ کاری کی ہے، اس لیے ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک اور قوم کی خدمت کرکے اس اعتماد کا حق ادا کرے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرکاری عہدوں پر فائز افراد کو وقت کی قدر، میرٹ، محنت اور عوامی مسائل کے حل کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھنا چاہیے۔

پاکستان کی خدمت ہر عہدے دار کی بنیادی ذمہ داری ہے

مریم نواز شریف نے کہا کہ وہ فخر سے کہتی ہیں کہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئیں، پاکستان میں تعلیم حاصل کی اور پاکستان ہی میں رہتی ہیں۔ ملک نے انہیں عزت، پہچان اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے، اس لیے ملک و قوم کے لیے کام کرنا ہر ذمہ دار شہری اور سرکاری عہدے دار کا فرض ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم نے اپنے افراد کی تعلیم و تربیت پر سرمایہ کاری کی ہوتی ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو قومی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے استعمال کریں۔ کسی بھی سرکاری منصب کو ذاتی سہولت یا مراعات کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے اسے عوام کی خدمت کا موقع تصور کیا جانا چاہیے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق وزارتِ اعلیٰ کا کام صرف دفتر آنا، اجلاسوں میں شرکت کرنا اور دن کے اختتام پر گھر چلے جانا نہیں۔ اس منصب پر بیٹھنے والے شخص کے قلم سے ہونے والا ایک فیصلہ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ہر فیصلے کے نتائج، اس کے ممکنہ اثرات اور عوام کو پہنچنے والے فائدے کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت چلانے کے لیے روزانہ متعدد معاملات پر کام کرنا پڑتا ہے اور وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ عوامی مسائل کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے حکومتی قیادت کو بیک وقت کئی شعبوں پر توجہ دینا پڑتی ہے۔ کسی منصوبے کی منظوری سے لے کر اس پر عمل درآمد اور اس کے نتائج تک ہر مرحلے کی نگرانی ضروری ہے۔

وقت کی پابندی اور بروقت فیصلہ سازی پر زور

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے وقت کو ایک قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے روزمرہ کے امور میں وقت کی پابندی کو خصوصی اہمیت دیتی ہیں۔ ان کے مطابق ہر کام کے لیے وقت مقرر ہونا چاہیے اور اجلاسوں میں تاخیر یا لوگوں کو غیر ضروری انتظار کرانا انتظامی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اجلاسوں کے دوران وقت کا خیال رکھتی ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ عوامی بہتری کے لیے فیصلے بروقت کیے جائیں۔ جس دن عوامی فائدے کے لیے کوئی منصوبہ یا اہم فیصلہ سامنے نہ آئے تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ دن کا بھرپور استعمال نہیں ہو سکا۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومتی ذمہ داریوں میں صرف فیصلے کرنا کافی نہیں بلکہ ان فیصلوں کو عملی شکل دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ منصوبوں کے لیے واضح اہداف مقرر کیے جائیں، ان کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے اور اگر کہیں رکاوٹ پیدا ہو تو اسے دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی معاملے میں فیصلہ کرتے ہوئے بعض اوقات خطرات مول لینے اور ہمت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہر فیصلے میں صرف مشکلات کے خدشات کو دیکھا جائے اور عملی قدم نہ اٹھایا جائے تو عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ تاہم فیصلے قومی اور عوامی مفاد، دستیاب معلومات اور ذمہ دارانہ غور و فکر کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔

تنقید کے باوجود عوامی مفاد کو ترجیح دینے کا عزم

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومتی کارکردگی پر تعریف کے ساتھ تنقید بھی ہوتی ہے، لیکن عوامی مفاد میں کام کرنے والے افراد کو تنقید سے گھبرا کر اپنے فرائض سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ ان کے مطابق جب حکومت عملی اقدامات کرتی ہے تو ان کے نتائج بھی سامنے آتے ہیں اور ان پر مختلف آرا کا اظہار بھی ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کے معاملات میں وہ سخت مؤقف اختیار کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔ ان کے نزدیک کسی منصوبے یا فیصلے کے بارے میں اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن اگر کسی اقدام کا مقصد عوام کی بہتری ہے تو اس پر سنجیدگی اور عزم کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔

مریم نواز شریف نے اپنے سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ماضی میں کوئی منتخب عہدہ حاصل نہیں تھا اور وہ کونسلر بھی نہیں بنی تھیں۔ ان کے بقول، ان کے لیے موجودہ مقام تک پہنچنا آسان نہیں تھا اور اس سفر میں مسلسل محنت کرنا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں حکومتی ذمہ داریوں کے ساتھ سیاسی میدان میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم ان کے مطابق سیاسی اور انتظامی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے مستقل مزاجی، سیکھنے کا عمل اور اپنے مقصد پر توجہ برقرار رکھنا اہم ہے۔

والد کی رہنمائی اور مسلسل سیکھنے کی اہمیت

مریم نواز شریف نے اپنے والد کو اپنا مشعلِ راہ اور تجربات کا سمندر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے گھر اور خاندان میں سیکھنے اور قابلِ تقلید مثالوں سے رہنمائی حاصل کرنے کے مواقع ملے۔ ان کے مطابق بعض اوقات انسان کو باضابطہ تربیت کے علاوہ اپنے ماحول اور عملی مشاہدے سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی مسلسل سیکھ رہی ہیں اور ہر روز کوئی نہ کوئی نیا تجربہ سامنے آتا ہے۔ ان کے مطابق انسان کی تعلیم اور سیکھنے کا عمل زندگی بھر جاری رہتا ہے اور کسی عہدے پر فائز ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ سیکھنے کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک ذمہ دار رہنما کو اپنی صلاحیتوں کا مسلسل جائزہ لینا چاہیے، ماہرین سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے اور جہاں معلومات یا تجربے کی کمی ہو وہاں سیکھنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ فیصلہ سازی کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ معاملے کو سمجھا جائے اور درست معلومات کی بنیاد پر بروقت قدم اٹھایا جائے۔

پیشہ ورانہ معاملات میں ذاتیات سے گریز ضروری ہے

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پیشہ ورانہ طرزِ عمل کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اور انتظامی معاملات میں ذاتی پسند و ناپسند کو شامل نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومتی فیصلوں میں جذبات کے بجائے اصول، میرٹ، قانون اور عوامی مفاد کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامی ذمہ داریوں میں بعض اوقات سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں، لیکن ان فیصلوں کی بنیاد ذاتی تعلقات یا کسی فرد کے بارے میں ذاتی رائے نہیں ہونی چاہیے۔ کسی عہدے دار کو اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ فیصلہ متعلقہ قواعد اور پیشہ ورانہ معیار کے مطابق ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ جب کسی معاملے میں فیصلہ کرنا ہو تو اس کی نوعیت، ممکنہ نتائج اور متعلقہ افراد پر اس کے اثرات کو سمجھنا ضروری ہے۔ اگر کسی ذمہ دار شخص کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اسے کیا فیصلہ کرنا ہے تو وہ اپنے منصب کی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فیصلہ سازی میں ہمت اور بروقت اقدام کے ساتھ ساتھ درست معلومات اور ذمہ داری کا احساس بھی ضروری ہے۔

سیاسی جماعتوں میں خواتین کی نمائندگی

مریم نواز شریف نے سیاست میں خواتین کی شمولیت اور نمائندگی کے حوالے سے بھی اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیاسی پلیٹ فارم پر خواتین کی تعداد نسبتاً کم دکھائی دیتی تھی، جبکہ اب جماعت کے اسٹیج پر خواتین اور مردوں کی نمایاں اور تقریباً مساوی موجودگی نظر آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو سیاسی اور عوامی زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع ملنے چاہئیں اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے لیے محنت، پیشہ ورانہ مضبوطی اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے نوجوان خواتین کو پیغام دیا کہ انہیں اپنی قابلیت پر یقین رکھنا چاہیے اور یہ سوچ اپنانی چاہیے کہ جو کام دوسرے افراد انجام دے سکتے ہیں، وہ بھی محنت اور مناسب تربیت کے ذریعے کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنائیں اور مشکل ذمہ داریوں سے گھبرانے کے بجائے انہیں سیکھنے اور آگے بڑھنے کا موقع سمجھیں۔

اپنی چھت، اپنا گھر: کم لاگت رہائش کا منصوبہ

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب حکومت کی ہاؤسنگ اسکیم ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ عام شہریوں کو اپنے گھر کی سہولت فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے مطابق اس اسکیم کے تحت 18 ماہ میں دو لاکھ سے زائد ہاؤسنگ قرضے فراہم کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 25 ہزار گھر مکمل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے انتظامی فیصلوں، مسلسل نگرانی اور پائیدار طریقۂ کار کی ضرورت تھی۔ ان کے مطابق کم لاگت رہائش کی فراہمی محض ایک اعلان سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مالی وسائل، قرضوں کی ادائیگی کے طریقۂ کار، مستحق افراد تک رسائی اور منصوبے کی شفاف نگرانی کو یقینی بنانا پڑتا ہے۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ اسکیم کے تحت قرضوں کی اقساط کے دورانیے میں اضافے کے لیے بھی کوشش کرنا پڑی تاکہ مستحق خاندانوں پر ادائیگی کا بوجھ کم ہو۔ انہوں نے بتایا کہ قرضوں کی واپسی کے حوالے سے ان کے مطابق ریکوری کی شرح 99.9 فیصد ہے اور اسکیم میں کوئی ڈیفالٹ رپورٹ نہیں ہوا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوامی پیسہ حکومت کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ایک امانت ہے، اس لیے اس کے استعمال میں احتیاط اور شفافیت ضروری ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی سرکاری اسکیم کی کامیابی کے لیے یہ اعتماد اہم ہے کہ مالی وسائل مستحق افراد تک پہنچیں اور ان کا درست استعمال ہو۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ منصوبوں کے مالی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لیے شفاف طریقۂ کار، ادائیگیوں کی نگرانی اور مستحق افراد کی درست نشاندہی کو اہمیت دی جانی چاہیے۔

حکومتی منصوبوں میں عوامی اعتماد بنیادی حیثیت رکھتا ہے

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں مختلف شعبوں میں متعدد اسکیمیں جاری ہیں اور عوامی اعتماد کو حکومتی کارکردگی کا بنیادی عنصر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق جب ریاست عوام پر اعتماد کرتی ہے اور انہیں سہولت فراہم کرنے کے لیے شفاف نظام قائم کرتی ہے تو عوام بھی ذمہ داری کے ساتھ اس نظام میں حصہ لے سکتے ہیں۔

انہوں نے اس تصور کو ایک نئے سماجی معاہدے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور شہریوں کے درمیان اعتماد مضبوط ہونا چاہیے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے لیے سہولتیں فراہم کرے، جبکہ عوامی وسائل کے درست استعمال اور ذمہ دارانہ رویے کو بھی فروغ دیا جائے۔

اس ضمن میں کم لاگت رہائش جیسے منصوبے اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ گھر کی ملکیت بہت سے خاندانوں کے لیے معاشی استحکام اور سماجی تحفظ کا ذریعہ بنتی ہے۔ تاہم ایسے منصوبوں کی پائیداری کے لیے ضروری ہے کہ ان کے نتائج، مالیاتی نظم و ضبط اور مستحق افراد تک رسائی کی مسلسل نگرانی کی جائے۔

افسران کی تعیناتی میں میرٹ کو ترجیح

مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں ضلعی پولیس افسران اور ڈپٹی کمشنرز کی تعیناتی میں سفارش کے بجائے میرٹ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق کسی شخص کو ذاتی سفارش کی بنیاد پر اہم عہدے پر تعینات کرنا ان امیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہے جو اپنی قابلیت اور محنت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اہم انتظامی عہدوں پر ایسے افسران کی تعیناتی ضروری ہے جو پیشہ ورانہ صلاحیت، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ کام کر سکیں۔ کسی افسر کی تعیناتی کا مقصد اس کی ذاتی حیثیت کو مضبوط کرنا نہیں بلکہ عوامی خدمت کے نظام کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ وہ افسران کے انٹرویوز میں خود بھی حصہ لیتی ہیں اور امیدواروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ ان کے رویے اور اندازِ گفتگو کا جائزہ لیتی ہیں۔ ان کے مطابق انٹرویو کے دوران امیدوار کی باڈی لینگوئج اور نفسیاتی سوالات کے جواب دینے کا انداز بھی اس کی شخصیت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی دباؤ کے باوجود سفارش قبول نہ کرنا اور میرٹ پر تعیناتیوں کو یقینی بنانا انتظامی نظام کی بہتری کے لیے اہم ہے۔ تاہم میرٹ کا عملی نفاذ شفاف معیار، واضح طریقۂ کار اور تعیناتیوں کے بعد کارکردگی کے جائزے سے مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

ضرورت مند شہریوں تک ریاست کی براہِ راست رسائی

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سماجی بہبود کے حوالے سے کہا کہ ضرورت مند افراد کو اپنی بنیادی ضروریات کے لیے بار بار سرکاری دفاتر کے چکر لگانے یا قطاروں میں کھڑا ہونے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے شہریوں کی ضروریات کو پہچانے اور انہیں بروقت سہولت فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت مند افراد کا سرکاری مدد کے لیے طویل انتظار کرنا اور مختلف مراحل سے گزرنا ان کے لیے تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کو ایسے طریقۂ کار اختیار کرنے چاہئیں جن کے ذریعے مستحق افراد کی شناخت ہو اور سہولت ان تک براہِ راست پہنچائی جا سکے۔

وزیراعلیٰ نے رمضان المبارک کے دوران مخیر حضرات کے تعاون سے لاکھوں افراد کے لیے دسترخوان لگانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلاحی سرگرمیوں میں ریاستی اداروں اور معاشرے کے دیگر طبقات کا تعاون اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ان کے مطابق اگر کسی مستحق شہری تک مدد نہیں پہنچ پاتی تو یہ ریاستی نظام کے لیے غور و فکر کا معاملہ ہے۔ سماجی تحفظ کی پالیسیوں میں اس بات کو اہمیت دینی چاہیے کہ مدد صرف ان لوگوں تک محدود نہ رہے جو خود دفاتر یا مراکز تک پہنچ سکتے ہیں بلکہ ان شہریوں تک بھی پہنچے جنہیں نقل و حرکت، بیماری یا دیگر مشکلات کا سامنا ہو۔

کلینک آن ویلز اور فیلڈ ہسپتالوں کے ذریعے صحت کی سہولتیں

مریم نواز شریف نے پنجاب میں صحت کی سہولتوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے مطابق صوبے میں ایک ہزار کلینک آن ویلز اور 32 فیلڈ ہسپتال عوام کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کا مقصد صحت کی خدمات کو شہریوں کے قریب لانا اور ان افراد تک رسائی بہتر بنانا ہے جنہیں ہسپتال پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق موبائل طبی سہولتوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مختلف علاقوں میں ضرورت کے وقت ان خدمات کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض مواقع پر دیگر صوبوں میں آفات یا ہنگامی صورتِ حال پیدا ہونے پر بھی کلینک آن ویلز کی خدمات بھجوانے کی سفارش کی جاتی ہے۔

انہوں نے گھروں تک ادویات پہنچانے کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کو علاج کے تسلسل کے لیے سہولت فراہم کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق بعض مریضوں کے گھروں میں کارڈیک، ہیپاٹائٹس اور انسولین سمیت ضروری ادویات کا دو ماہ کا ذخیرہ پہنچانے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مریض کو علاج کے لیے غیر ضروری سفر نہ کرنا پڑے۔ اگر کسی مریض کو علاج کی غرض سے تین گھنٹے سفر کرکے دوسرے شہر جانا پڑے تو یہ صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

ان کے مطابق صحت کی سہولتوں کو مقامی سطح پر بہتر بنانا، طبی عملے کی دستیابی اور ضروری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانا عوامی فلاح کے لیے اہم ہے۔

ڈیٹا کی بنیاد پر نگرانی اور ڈیجیٹل گورننس

وزیراعلیٰ نے کہا کہ جدید انتظامی نظام میں معلومات اور اعداد و شمار کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ڈیش بورڈ کے ذریعے روزانہ اشیائے ضروریہ، جن میں آٹا، آلو اور پیاز کی قیمتیں بھی شامل ہیں، سے متعلق معلومات کا جائزہ لیتی ہیں۔

ان کے مطابق ڈیٹا کی بنیاد پر نگرانی سے حکومت کو قیمتوں میں تبدیلی، انتظامی مسائل اور عوام کو درپیش مشکلات کے بارے میں بہتر اندازہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح متعلقہ محکموں کو بروقت اقدامات کرنے اور قیمتوں کی صورتِ حال پر نظر رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نظام کا مقصد عوام کے لیے سرکاری خدمات کو آسان بنانا ہونا چاہیے۔ اگر شہری کسی دستاویز یا سرکاری سہولت کے حصول کے لیے دفاتر کے غیر ضروری چکر لگانے سے بچ سکیں تو اس سے وقت کی بچت اور انتظامی شفافیت کو فروغ مل سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ نے دستک ایپ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے 40 لاکھ سے زائد افراد برتھ سرٹیفکیٹ سمیت مختلف خدمات حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے اس منصوبے کو عوامی سہولت کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کی مثال قرار دیا۔

ڈیجیٹل گورننس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کو خدمات تک آسان رسائی، معلومات کے تحفظ اور درخواستوں کی پیش رفت جاننے کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس کے ساتھ ایسے افراد کے لیے متبادل انتظامات بھی اہم ہیں جو ڈیجیٹل ذرائع استعمال کرنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں۔

خواتین کے تحفظ کے لیے موبائل پولیس اسٹیشن اور ہنگامی سہولتیں

مریم نواز شریف نے خواتین کے تحفظ کے حوالے سے کہا کہ حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن کے ذریعے خواتین کو مدد حاصل کرنے کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے موبائل پولیس اسٹیشن منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد پولیس خدمات کو شہریوں کے قریب لانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خواتین کے تحفظ اور ہنگامی صورتِ حال میں فوری رابطے کے لیے مختلف مقامات اور خدمات میں پینک بٹن کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ ان کے مطابق ٹرانسپورٹ، تعلیمی اداروں اور دیگر متعلقہ مقامات پر ایسی سہولتوں کا مقصد خواتین کو ضرورت کے وقت مدد حاصل کرنے کا آسان راستہ فراہم کرنا ہے۔

وزیراعلیٰ نے سائبر ہراسانی کے معاملے پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ افراد کو اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر مدد حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق خواتین اور دیگر متاثرین کو ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں وہ خوف یا بدنامی کے خدشے کے بغیر شکایت درج کرا سکیں۔

انہوں نے اورنج لائن ٹرین میں ہراسانی کی صورت میں پولیس سے فوری رابطے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی اطلاع ملنے پر اگلے اسٹیشن پر پولیس کی دستیابی کا انتظام کیا گیا ہے۔

خواتین کے تحفظ کے لیے ان اقدامات کی مؤثریت کا انحصار فوری ردِعمل، شکایات کے مؤثر اندراج، متاثرین کی رازداری اور ذمہ دار اداروں کی جواب دہی پر ہوگا۔ عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ شکایت کے بعد کارروائی کے نتائج کا بھی جائزہ لیا جائے۔

عام شہریوں کے لیے میت کی منتقلی کی ایمبولینس سروس

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ عام آدمی کی سہولت کے لیے ہسپتال سے میت کی منتقلی کے لیے ایمبولینس سروس شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خود بھی اس سروس کے تحت ایمبولینس کی آمد کا مشاہدہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ کسی عزیز کی وفات کے بعد خاندان پہلے ہی شدید صدمے اور مشکل صورتِ حال سے گزر رہا ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر میت کی منتقلی کے انتظامات کے لیے اضافی مشکلات کا سامنا کرنا خاندانوں کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

اس نوعیت کی سہولتیں عوامی خدمات کے اس تصور سے مطابقت رکھتی ہیں جس میں ریاست شہریوں کی ضروریات کو صرف معمول کے انتظامی معاملات تک محدود نہیں رکھتی بلکہ مشکل اور ہنگامی حالات میں بھی ان کی مدد کرتی ہے۔

سیلاب متاثرین کی دیکھ بھال اور بحالی

مریم نواز شریف نے پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق سیلاب کے دوران 50 لاکھ افراد متاثر ہوئے اور متاثرین کو مہمانوں کی طرح رکھنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے دوران حکومت کی ذمہ داری صرف فوری امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ متاثرہ افراد کی رہائش، خوراک، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات کو بھی پورا کرنا ہے۔ ایسے حالات میں انتظامی اداروں کے درمیان رابطہ کاری، وسائل کی بروقت فراہمی اور متاثرین کے مسائل کی مسلسل نگرانی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

سیلاب جیسی آفات کے بعد بحالی کے مراحل میں متاثرہ خاندانوں کی ضروریات کا درست تخمینہ، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور مستقبل میں ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے اقدامات بھی ضروری ہوتے ہیں۔ اس لیے امدادی سرگرمیوں کے ساتھ طویل مدتی منصوبہ بندی کو بھی ترجیح دینا اہم ہے۔

سیف سٹی نظام اور جرائم کی روک تھام

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں سیف سٹی کیمروں کے ذریعے نگرانی کا نظام فعال ہے اور اس سے جرائم کی نشاندہی اور متعلقہ اداروں کے ردِعمل میں مدد ملتی ہے۔ ان کے مطابق جدید نگرانی کے نظام سے بعض واقعات کی اطلاع مختصر وقت میں متعلقہ اداروں تک پہنچ سکتی ہے۔

انہوں نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کی کارروائیوں کے نتیجے میں پنجاب میں جرائم کی شرح میں 70 فیصد کمی آئی ہے۔ اس حوالے سے جرائم کی اقسام، متعلقہ مدت اور اعداد و شمار کی بنیاد پر نتائج کا تفصیلی جائزہ کسی بھی حتمی کارکردگی کے تعین کے لیے اہم ہوگا۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے فوری کارروائی کی ہدایت دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ایسے سنگین جرائم کے معاملے میں وقت کی اہمیت بہت زیادہ ہے اور متاثرین کو فوری انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے تحفظ کے لیے پولیس اور متعلقہ اداروں کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر شہری خود کو محفوظ محسوس نہ کریں تو ریاستی نظام پر ان کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے جرائم کی روک تھام، شکایات کے مؤثر ازالے اور قانون کے مطابق کارروائی کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

عوامی ٹرانسپورٹ اور الیکٹرک بسوں کی سہولت

وزیراعلیٰ نے پنجاب میں عوامی ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ شہریوں کو مناسب کرایوں پر سفر کی سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے مطابق 700 بسیں عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام میں شامل ہیں اور خواتین، طلبہ اور بزرگ شہریوں کو الیکٹرک بسوں میں مفت سفر کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود عوام پر کرایوں کا بوجھ نہ بڑھنے دینا حکومت کے لیے ایک اہم ترجیح ہے۔ عوامی ٹرانسپورٹ کی سہولت خاص طور پر ان افراد کے لیے اہم ہوتی ہے جو روزانہ تعلیم، ملازمت، علاج یا دیگر ضروری کاموں کے لیے سفر کرتے ہیں۔

مریم نواز شریف نے اعلان کیا کہ ان کے مطابق نومبر میں ایک لاکھ طالبات کو آمدورفت میں آسانی فراہم کرنے کے لیے الیکٹرک اسکوٹیاں دینے کا منصوبہ ہے۔ اس اقدام کا مقصد طالبات کے لیے تعلیمی اداروں تک رسائی کو آسان بنانا بتایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین اور طلبہ کے لیے محفوظ، قابلِ رسائی اور مناسب لاگت والی ٹرانسپورٹ تعلیم اور روزگار کے مواقع تک رسائی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ایسے منصوبوں کی کامیابی کے لیے حفاظتی تربیت، ٹریفک قوانین سے آگاہی، چارجنگ کی سہولت اور مناسب نگرانی جیسے پہلو بھی اہم ہیں۔

سموگ پر قابو پانے اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ماحولیاتی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں اینٹوں کے بھٹوں اور صنعتی چمنیوں کی لائیو مانیٹرنگ کی جا رہی ہے، جبکہ جنگلات کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے صنعتی سرگرمیوں کی نگرانی، اخراج کو کم کرنے اور ماحولیاتی ضوابط پر عمل درآمد ضروری ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ برسوں میں سموگ کے مسئلے پر نمایاں توجہ دی گئی اور اس حوالے سے اقدامات جاری ہیں۔

فضائی آلودگی پنجاب کے بڑے شہروں کے لیے صحتِ عامہ اور ماحولیات کا اہم مسئلہ ہے۔ اس کے مؤثر حل کے لیے صنعتی اخراج کی نگرانی کے ساتھ ٹرانسپورٹ، تعمیراتی سرگرمیوں، زرعی باقیات کو جلانے اور شہری ماحول سے متعلق دیگر عوامل پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

وزیراعلیٰ نے جنگلات کے تحفظ کے لیے فاریسٹ پروٹیکشن فورس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی وسائل کی حفاظت اور ماحولیاتی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

پاکستان کی مسلح افواج کی بہادری کا تذکرہ

اپنے خطاب کے دوران مریم نواز شریف نے پاکستان کی مسلح افواج کی جرات اور بہادری کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع اور قومی سلامتی کے لیے مسلح افواج کی خدمات اہم ہیں۔

قومی سلامتی کے معاملات میں دفاعی اداروں کا کردار اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے، جبکہ ملک کی مجموعی ترقی کے لیے داخلی استحکام، مؤثر انتظامی نظام، معاشی پیش رفت اور عوامی فلاح بھی بنیادی عناصر ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ ان وسیع تر قومی ترجیحات کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

پنجاب کے حجم کے مطابق حکومتی ترجیحات

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کی آبادی 13 سے 14 کروڑ کے لگ بھگ ہے اور اتنی بڑی آبادی کی ذمہ داری سنبھالنے والے حکومتی نظام کے لیے ترجیحات کے تعین میں غیر معمولی احتیاط اور صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق صحت، تعلیم، امن و امان، ٹرانسپورٹ، ماحولیات اور سماجی بہبود سمیت ہر شعبہ عوام کی زندگیوں سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی علاقے میں صحت کی ہنگامی صورتِ حال پیدا ہو جائے یا عوام کو کسی دوسرے بڑے مسئلے کا سامنا ہو تو حکومت کو فوری حرکت میں آنا چاہیے۔ ایسے حالات میں صرف منصوبہ بندی یا اجلاس کافی نہیں ہوتے بلکہ عملی اقدامات اور نتائج کی مسلسل نگرانی ضروری ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ ہر منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیتی ہیں اور اس وقت تک فالو اپ جاری رکھتی ہیں جب تک منصوبے کو مکمل نہ کر لیا جائے۔ ان کے مطابق عوامی فلاح کے منصوبوں کی کامیابی کے لیے مسلسل نگرانی، محکموں کی جواب دہی اور مقررہ اہداف کی تکمیل ضروری ہے۔

سندھ کے وفد کے لیے انتظامی تجربات کا تبادلہ

کامن ٹرینی پروگرام کے تحت حکومتِ سندھ کے وفد سے خطاب کو صوبائی حکومتوں کے درمیان تجربات اور انتظامی طریقۂ کار کے تبادلے کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسے پروگراموں کے ذریعے مختلف صوبوں کے افسران کو حکومتی نظام، عوامی خدمات کی فراہمی، انتظامی اصلاحات اور پالیسیوں پر عمل درآمد کے طریقوں کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔

پاکستان کے صوبوں کو آبادی، جغرافیائی حالات، معاشی ضروریات اور عوامی خدمات کے حوالے سے مختلف نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں۔ اس کے باوجود شفافیت، میرٹ، وقت کی پابندی، عوامی سہولت اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال جیسے اصول تمام صوبوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔

حکومتوں کے درمیان تجربات کا تبادلہ انتظامی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور کامیاب طریقۂ کار سے سیکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تجربات کو محض بیانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان سے حاصل ہونے والے اسباق کو متعلقہ اداروں کی عملی کارکردگی میں بھی شامل کیا جائے۔

عوامی خدمت، میرٹ اور جواب دہی ہی کامیاب حکمرانی کی بنیاد

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی خدمت کے لیے عزم، محنت، جرات اور پیشہ ورانہ مضبوطی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی ذمہ دار عہدے پر فائز شخص کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کے فیصلوں کے اثرات براہِ راست عوام کی زندگیوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری ذمہ داریوں کو احسن انداز میں ادا کرنے کے لیے وقت کی پابندی، میرٹ پر تعیناتیاں، عوامی مسائل کی بروقت نشاندہی اور منصوبوں کی تکمیل تک نگرانی ضروری ہے۔ ضرورت مند افراد کو ریاستی سہولتوں تک رسائی میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے اور حکومتی نظام کو عوام کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنانا چاہیے۔

وزیراعلیٰ کے خطاب کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ حکمرانی صرف اختیارات استعمال کرنے کا نام نہیں بلکہ عوام کے اعتماد پر پورا اترنے، قومی وسائل کی حفاظت کرنے اور عملی نتائج فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے۔ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں ان ذمہ داریوں کی وسعت بھی زیادہ ہے، اس لیے حکومت کو ہر شعبے میں مسلسل محنت، مؤثر منصوبہ بندی اور جواب دہی کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button