پاکستاناہم خبریں

اسکول وینز اور پبلک ٹرانسپورٹ میں آئے روز آگ، ذمہ دار کون؟

مسافر گاڑیوں میں غیر قانونی طور پر نصب گیس سلنڈروں کے خطرات کئی جان لیوا حادثات سے بھی ظاہر ہو چکے ہیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
عثمان چیمہ

پاکستان میں مسافر گاڑیوں اور بچوں کو اسکول لے جانے والی وینز میں آگ لگنے کے افسوس ناک حادثات مسلسل پیش آتے رہے ہیں۔ اس حوالے سے حفاظتی ضوابط موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کون کروائے گا؟ اس پر ابہام ہنوز باقی ہے۔

ستمبر 2026 میں مری کے قریب ایک ایسے ہی افسوس ناک حادثے میں بچوں کو لے جانے والی اسکول وین میں آگ لگ گئی، جس سے متعدد طلبہ زخمی ہوئے اور دو معصوم بچوں کی جان چلی گئی۔ اطلاعات کے مطابق وین کے پاس فٹنس سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا، جبکہ ڈرائیور مبینہ طور پر سیٹ کے نیچے پیٹرول کا کین رکھے ہوئے تھا اور دورانِ ڈرائیونگ سگریٹ بھی پی رہا تھا۔

اکتوبر 2025 میں کراچی میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں اسکول وین میں آگ لگنے سے کئی بچے زخمی ہو گئے تھے۔ متعلقہ حکام کے مطابق ایسے واقعات کی ایک عام وجہ گیس سلنڈر ہیں، جن کا استعمال اسکول وینز سمیت پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں میں ممنوع ہے۔

مسافر گاڑیوں میں غیر قانونی طور پر نصب گیس سلنڈروں کے خطرات کئی جان لیوا حادثات سے بھی ظاہر ہو چکے ہیں۔ جولائی 2025 میں پنجاب کے علاقے احمد پور شرقیہ کے قریب ایک مسافر ویگن میں ایل پی جی سلنڈر پھٹنے سے ایک طالب علم لقمہ اجل بن گیا جبکہ 19 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے۔

اس سے دو سال قبل سرگودھا کے ضلع میں بھلوال کے قریب ایک وین میں گیس سلنڈر پھٹنے سے سات مسافر ہلاک ہو گئے تھے، جن میں دو کم عمر بچیاں بھی شامل تھیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں میں گیس سلنڈروں کے استعمال پر پابندی کے باوجود ان خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے مسافروں کی جانیں خطرے میں پڑ رہی ہیں۔

اکتوبر 2025 میں کراچی میں ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں اسکول وین میں آگ لگنے سے کئی بچے زخمی ہو گئے تھےتصویر: AP Photo/picture alliance

یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ پاکستان میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے 2019 سے اسکول وینز سمیت پبلک سروس کی گاڑیوں میں ایل پی جی اور سی این جی سلنڈروں کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس کے باوجود یہ سلنڈر بلا روک ٹوک استعمال ہو رہے ہیں۔ یہاں تک کہ غیر قانونی ایل پی جی فلنگ اسٹیشن بھی کھلے عام کام کر رہے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں میں گیس بھر رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب اس حوالے سے ضوابط موجود ہیں تو ایسے افسوس ناک حادثات بار بار کیوں پیش آ رہے ہیں؟ اور قیمتی انسانی جانیں بچانے کے لیے ان قوانین پر عمل درآمد کرانے کی ذمہ داری کس کی ہے؟

آل پاکستان ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین تنویر احمد جٹ کا کہنا ہے کہ ایسوسی ایشن ایسے اقدامات کی سختی سے حوصلہ شکنی کرتی ہے، لیکن انفرادی ٹرانسپورٹرز پابندی کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈر استعمال کرتے رہتے ہیں۔

تنویر احمد جٹ کہتے ہیں، ’’ہم بحیثیت ایسوسی ایشن ٹرانسپورٹرز کو خطرناک ایندھن کے استعمال سے گریز کرنے کا کہتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں ہیں۔ ہم انہیں سمجھا سکتے ہیں، مگر پابندی پر عمل نہیں کرا سکتے۔ یہ کام حکومت کے متعلقہ اداروں کا ہے، خواہ وہ پولیس ہو یا ضلعی انتظامیہ۔ انہیں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔‘‘

پاکستان میں عام طور پر ٹرانسپورٹرز کی تنظیمیں حکومتی فیصلوں کی مخالفت کرتی ہیں، لیکن اس معاملے میں بظاہر ایسوسی ایشن بھی پبلک سروس کی گاڑیوں میں سی این جی یا ایل پی جی کے استعمال کی اجازت دینے کا مطالبہ نہیں کر رہی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟

ستمبر 2026 میں مری کے قریب ایک افسوس ناک حادثے میں بچوں کو لے جانے والی اسکول وین میں آگ لگ گئی تھیتصویر:

پبلک ٹراسپورٹ کے خفاظتی قوانین پر عمل درآمد کروانا کس کی ذمہ داری؟

پاکستان میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ مختلف ضوابط پر عمل درآمد کی ذمہ داری کے حوالے سے ابہام موجود ہے۔ بعض اوقات ایک ہی معاملے میں دو مختلف اداروں کو  ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے، لیکن ہر ادارہ یہ سمجھتا ہے کہ کارروائی دوسرا ادارہ کرے گا۔ اس کی ایک مثال 2013 میں گجرات میں پیش آنے والا اسکول وین کا وہ المناک  حادثہ ہے جس میں متعدد بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران پولیس، ضلعی انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی سمیت متعلقہ اداروں نے حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی تھی۔

سوال یہ بھی ہے کہ جب ٹریفک پولیس اور دیگر پولیس اہلکار پہلے ہی سڑکوں پر فرائض انجام دے رہے ہوتے ہیں تو وہ گاڑیوں کی جانچ پڑتال اور حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کا کام بھی ساتھ کیوں نہیں کر سکتے؟ گفتگو کے دوران ایک ریٹائرڈ سینیئر پولیس افسر کی باتوں سے بھی ذمہ داری کے تعین کے حوالے سے یہی ابہام سامنے آیا۔

اسلام آباد کے سابق انسپکٹر جنرل پولیس طاہر عالم خان کہتے ہیں کہ عام طور پر ایسے قوانین پر عمل درآمد کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ کی سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، ان کے بقول، ’’اس کا یہ مطلب نہیں کہ پولیس کو گاڑیوں کی جانچ پڑتال کا اختیار نہیں۔ پولیس گاڑیاں چیک کر سکتی ہے، اور میرے خیال میں اسے پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں میں ایسی خلاف ورزیاں بھی چیک کرنی چاہییں جو بظاہر نظر نہیں آتیں۔‘‘

پاکستان میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے 2019 سے اسکول وینز سمیت پبلک سروس کی گاڑیوں میں ایل پی جی اور سی این جی سلنڈروں کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہےتصویر: 

جہاں بعض لوگوں کے نزدیک مختلف محکموں کے درمیان مشترکہ ذمہ داری ایسے قوانین پر عمل درآمد میں رکاوٹ بن رہی ہے، وہیں کچھ افراد کا خیال ہے کہ ملک کے مجموعی سیاسی اور عدالتی نظام کی ناکامی نے صرف بچوں ہی نہیں، بلکہ سب کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

انٹیلی جنس بیورو کے سابق ڈائریکٹر جنرل اور خیبر پختونخوا کے سابق آئی جی احسان غنی  کہتے ہیں کہ مسئلہ محض چند اداروں تک محدود نہیں، بلکہ پورا نظام تباہ ہو چکا ہے۔ ان کے بقول، یہ تباہی اس معنی میں نہیں جس طرح موجودہ حکومت بیان کرتی ہے، بلکہ حقیقتاً نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

وہ کہتے ہیں، ”ایسے ملک میں سلامتی، حقوق اور دوسری چیزوں کی بات ہی کیا کی جائے جہاں عدالتی نظام کو ہائی جیک کر لیا جائے اور طاقت ور لوگ اپنی مرضی کے مطابق سب کچھ کرتے ہوں۔ مسئلہ ہماری سوچ سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔‘‘

احسان غنی کے مطابق جب ملک ایسے چلائے جاتے ہیں جیسے پاکستان کو چلایا جا رہا ہے تو پھر کسی کو اپنی ذات کے سوا کسی اور کی فکر نہیں رہتی۔ ان کے نزدیک یہ صورتِ حال انتہائی مایوس کن اور ناامید کر دینے والی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button