
سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستان اور چین کی مشترکہ فوجی مشقوں ’قراقرم 2026‘ کے دوران پاکستانی فوجیوں کو چینی ساختہ جدید چھوٹے ہتھیاروں اور دیگر فوجی سازوسامان کے استعمال کی تربیت حاصل کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ مشقوں کے دوران سامنے آنے والی فوٹیج میں پاکستانی اہلکار QBZ-191 اسالٹ رائفل، QBU-10 اور CS/LR4 سنائپر رائفلوں کے استعمال اور ان کے ذریعے نشانہ بازی کی مشق کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ان مشقوں کا بنیادی مقصد بلند پہاڑی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کی صلاحیت بہتر بنانا، دونوں افواج کے درمیان عملی ہم آہنگی کو مضبوط کرنا اور جدید جنگی ماحول میں مشترکہ آپریشنز کی تیاری کرنا ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون طویل عرصے سے جاری ہے، جس میں فوجی تربیت، دفاعی سازوسامان، تکنیکی تعاون اور مشترکہ مشقوں کو اہم مقام حاصل ہے۔ ’قراقرم 2026‘ کو اسی تعاون کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں دونوں ممالک کے فوجی اہلکار مختلف جنگی حالات میں مشترکہ طور پر کام کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستانی فوجیوں کی چینی ساختہ رائفلوں سے تربیت
مشترکہ مشقوں کے دوران پاکستانی فوجیوں کے زیرِ استعمال دکھائی دینے والے ہتھیاروں میں QBZ-191 اسالٹ رائفل نمایاں ہے۔ یہ چین کی تیار کردہ جدید انفنٹری رائفل ہے، جسے انفرادی فوجیوں کے استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس نوعیت کے ہتھیاروں کی تربیت میں محفوظ ہینڈلنگ، نشانہ بازی، فائرنگ کی مشق اور میدانِ جنگ میں مؤثر استعمال جیسے پہلو اہم ہوتے ہیں۔
فوٹیج میں QBU-10 اور CS/LR4 سنائپر رائفلوں کے استعمال کی تربیت بھی دکھائی گئی ہے۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق QBU-10 کے ساتھ خودکار ایڈجسٹمنٹ کی صلاحیت رکھنے والے اسکوپ سسٹم کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ ایسے نظاموں کا مقصد نشانہ بازی کے دوران معاون معلومات فراہم کرنا اور مخصوص حالات میں ہدف کو دیکھنے اور اس پر درست نشانہ لینے میں مدد دینا ہوتا ہے۔
طویل فاصلے تک نشانہ بازی کی تربیت میں اہلکاروں کو مختلف ماحولیاتی حالات، ہدف کی شناخت اور فائرنگ کے عمل سے متعلق مہارتیں سکھائی جاتی ہیں۔ بلند پہاڑی علاقوں میں موسم، درجہ حرارت، ہوا اور زمینی ساخت جیسے عوامل آپریشنل منصوبہ بندی اور نشانہ بازی کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے ایسے ماحول میں تربیت کی خصوصی اہمیت ہوتی ہے۔
جدید بکتر بند گاڑیاں اور فوجی سازوسامان بھی مشقوں میں شامل
فراہم کردہ معلومات کے مطابق ’قراقرم 2026‘ کے دوران استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان میں چین کی جانب سے فراہم کردہ مختلف اقسام کے چھوٹے ہتھیاروں کے علاوہ بکتر بند گاڑیاں، توپ خانہ، بغیر پائلٹ کے فضائی نظام اور ڈرون شکن آلات بھی شامل ہیں۔
ان میں ZLT-11 بکتر بند جنگی گاڑی اور ZBL-08 انفنٹری فائٹنگ گاڑی کا نام بھی لیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم مختلف نوعیت کے فوجی آپریشنز میں دستوں کی نقل و حرکت، معاونت اور میدانِ جنگ میں ان کی صلاحیتوں کو تقویت دینے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
جدید فوجی مشقوں میں بکتر بند گاڑیوں، پیدل فوج، توپ خانے اور فضائی نگرانی کے نظاموں کے درمیان رابطہ اور ہم آہنگی خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ مشترکہ تربیت کے ذریعے فوجی اہلکاروں کو مختلف پلیٹ فارمز کے ساتھ کام کرنے، احکامات کی ترسیل اور آپریشنل ذمہ داریوں کی تقسیم سے متعلق تجربہ حاصل ہوتا ہے۔
تاہم فراہم کردہ معلومات میں تمام سازوسامان کی تعداد، ان کی مخصوص تکنیکی ترتیب اور مشقوں میں ہر نظام کے عملی کردار کی مکمل تفصیلات موجود نہیں ہیں۔
ڈرون آپریشنز اور ڈرون شکن نظاموں پر خصوصی توجہ
مشقوں کا ایک اہم حصہ بغیر پائلٹ کے فضائی نظاموں، یعنی ڈرونز، کے استعمال سے متعلق تربیت پر مشتمل ہے۔ جدید سکیورٹی آپریشنز میں ڈرونز نگرانی، علاقے کی صورتِ حال کا جائزہ لینے اور زمینی دستوں کو معلومات فراہم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ’قراقرم 2026‘ میں ڈرونز چلانے، نقل و حرکت کے دوران اہداف کی تلاش، فائرنگ کی مشقوں اور طویل فاصلے تک نشانہ بازی کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ڈرون شکن نظاموں کی موجودگی بھی جدید میدانِ جنگ میں بغیر پائلٹ کے نظاموں سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے دنیا بھر کی افواج کو نگرانی، معلومات کے تبادلے، فضائی خطرات کی شناخت اور دفاعی ردعمل کے نئے طریقوں پر توجہ دینے کی طرف مائل کیا ہے۔ اس تناظر میں مشترکہ مشقیں فوجی اہلکاروں کو مختلف ٹیکنالوجیز کے استعمال اور باہمی رابطے کے طریقۂ کار سے روشناس کرانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
بلند پہاڑی علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کی تربیت
’قراقرم 2026‘ کا مرکزی محور بلند پہاڑی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کی مشق بتایا گیا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں فوجی آپریشنز کے دوران دشوار گزار راستے، محدود نقل و حرکت، موسم کی شدت، مواصلاتی مشکلات اور رسد کی فراہمی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایسے حالات میں فوجی دستوں کے درمیان مربوط رابطہ، بروقت معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ منصوبہ بندی اہم سمجھی جاتی ہے۔ مشقوں کے ذریعے مختلف حالات میں دستوں کی نقل و حرکت، نگرانی، نشانہ بازی اور کمانڈ کے نظام کو آزمانے کا موقع ملتا ہے۔
ان مشقوں میں مشترکہ کمانڈ اور زمینی دستوں کی عملی سرگرمیاں بھی شامل ہونے کی اطلاع ہے۔ اس نوعیت کی تربیت کا ایک بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ مختلف افواج کے اہلکار مشترکہ کارروائیوں کے دوران ایک دوسرے کے طریقۂ کار، احکامات اور آپریشنل ضروریات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
پاک چین دفاعی تعاون اور باہمی ہم آہنگی
پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعلقات میں مشترکہ فوجی مشقیں اہمیت رکھتی ہیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے دونوں ممالک کے فوجی اہلکاروں کو تربیت، تجربات کے تبادلے اور مختلف فوجی نظاموں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔
فوجی اصطلاح میں ’انٹرآپریبلٹی‘ یا باہمی عملی ہم آہنگی سے مراد مختلف افواج یا یونٹس کی یہ صلاحیت ہے کہ وہ مشترکہ آپریشنز کے دوران مؤثر رابطے، مربوط منصوبہ بندی اور ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت رکھنے والے طریقۂ کار کے تحت کام کر سکیں۔
جدید فوجی ماحول میں یہ صلاحیت صرف ہتھیاروں کے مشترکہ استعمال تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس میں مواصلاتی نظام، نگرانی، کمانڈ، معلومات کے تبادلے اور مختلف یونٹس کے درمیان رابطے کی مطابقت بھی شامل ہوتی ہے۔
’قراقرم 2026‘ کے حوالے سے فراہم کردہ معلومات میں اسے دونوں ممالک کی اپنی نوعیت کی پہلی مشترکہ مشق قرار دیا گیا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق اور اس سے پہلے ہونے والی پاک چین مشترکہ مشقوں کے ساتھ اس کے تقابلی پس منظر کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
دفاعی تعلقات میں عملی تعاون کی اہمیت
پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون کو دونوں ممالک کے وسیع تر تعلقات کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ مشترکہ فوجی مشقیں دونوں افواج کو عملی تربیت کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی، مشترکہ منصوبہ بندی اور بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے طریقوں پر کام کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
’قراقرم 2026‘ میں چینی ساختہ چھوٹے ہتھیاروں، بکتر بند گاڑیوں، ڈرونز اور ڈرون شکن نظاموں کی شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشقوں میں روایتی جنگی تربیت کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
مجموعی طور پر ان مشقوں کا مقصد پاکستان اور چین کی افواج کے درمیان عملی تعاون کو مضبوط بنانا، بلند پہاڑی علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت بہتر کرنا اور مشترکہ کارروائیوں کے لیے تیاری کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔ ان سرگرمیوں کے نتائج اور عملی افادیت کا حتمی اندازہ لگانے کے لیے مشقوں کی سرکاری تفصیلی رپورٹ، شریک دستوں کی معلومات اور دونوں ممالک کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیانات اہم ہوں گے۔



