
آذربائیجان میں احتجاج، بچے حجاب پر پابندی کے خلاف
چھ اکتوبر کو ایک الگ فیصلے کے ذریعے اساتذہ کے لباس کے تقاضے بھی مقرر کیے گئے۔ اس کے بعد ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ حجاب پہننے والی خواتین اساتذہ کو تدریس سے روکا جا رہا ہے۔
مارک شائیڈر اور اسمی آغائیف کے ساتھ
آذربائیجان کے مختلف علاقوں میں تقریباً ایک ہفتے سے یہ غیرمعمولی احتجاج جاری ہیں۔ بچے اسکولوں میں سر ڈھانپنے پر عائد پابندی کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ اسکولوں کے باہر احتجاج کرنے والوں میں حجاب پہننے والی طالبات بھی شامل ہیں، جبکہ دیگر طلبہ، جن میں لڑکے بھی ہیں، اپنی ہم جماعتوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اس ملک میں، جہاں پولیس عموماً عوامی احتجاج منتشر کر دیتی ہے، مظاہرے ویسے ہی کم ہوتے ہیں۔ تاہم بچوں کی شرکت والے مظاہروں کی آذربائیجان میں پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ جب احتجاج کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلنے لگیں تو ملک میں انسٹاگرام اور ٹک ٹاک تک رسائی متاثر ہوئی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکام اس معاملے کو کتنی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے اداروں نے رسائی پر بندشیں ریکارڈ کیں، لیکن حکام نے ان کی وجہ نہیں بتائی۔
حجاب پر پابندی کی حکومتی تشریح
یہ تنازع متعدد قانونی تبدیلیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ سات جولائی کو آذربائیجان نے عمومی تعلیم کے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے سیکولر تعلیم کے اصول پر مزید زور دیا اور طلبہ و اساتذہ کے لیے لباس کے مقررہ ضابطوں کی پابندی لازم قرار دی۔ اکیس ستمبر کو حکومت نے قرارداد نمبر 309 منظور کی، جس کے ذریعے اسکول یونیفارم کے قواعد مزید سخت کر دیے گئے۔

اس قرارداد کے تحت ایسے اضافی لباس کی ممانعت ہے جو مقررہ یونیفارم کی یکسانیت میں خلل ڈالے یا سیکولر تعلیم سے متصادم ہو۔ اس میں ہیڈاسکارف کا واضح ذکر نہیں اور نہ ہی اسکولوں کو حجاب پہننے والی طالبات کو داخلے سے روکنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تاہم بعض اسکول منتظمین نے ان قواعد کو حجاب پر بھی لاگو سمجھتے ہوئے سر ڈھانپ کر آنے والی طالبات کو واپس بھیج دیا۔ ضابطے کے مطابق قواعد کی پابندی سے متعلق معاملات حل کرنے کی ذمہ داری ہر اسکول کی تدریسی کونسل کو دی گئی ہے۔
چھ اکتوبر کو ایک الگ فیصلے کے ذریعے اساتذہ کے لباس کے تقاضے بھی مقرر کیے گئے۔ اس کے بعد ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ حجاب پہننے والی خواتین اساتذہ کو تدریس سے روکا جا رہا ہے۔
سیکولر تعلیم اور مذہبی آزادی
آذربائیجان کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے، لیکن اس کے آئین کی شق 18 مذہب کو ریاست سے الگ رکھتی ہے اور سرکاری تعلیم کا سیکولر ہونا لازم قرار دیتی ہے۔ آئین کی شقیں 42 اور 48 تعلیم کے حق کا تحفظ کرتی ہیں۔
اسکولوں کے اقدامات کے حامیوں کا کہنا ہے کہ لباس کے یکساں قواعد تمام طلبہ پر لاگو ہونے چاہییں۔ ناقدین کے مطابق مذہبی لباس کی وجہ سے طالبات کو تعلیم سے محروم کرنا ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس معاملے پر رائے روایتی سیاسی تقسیم سے ہٹ کر بٹی ہوئی ہے۔ حکومت کے بعض ناقدین ان پابندیوں کی حمایت کرتے ہیں جبکہ بعض غیرمذہبی شہری ان پابندیوں کے مخالف بھی ہیں۔ اسکولوں میں حجاب پر پابندیوں کے خلاف سن 2010 اور اس کے بعد کے برسوں میں بھی احتجاج ہوئے تھے۔
خاندانوں اور اساتذہ پر اثرات
باکو میں چالیس برس سے ادب پڑھانے والے ایک استاد کے مطابق ان کے اسکول میں حجاب پہننے والی طالبات کو کلاسوں میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ کچھ نے اپنے سرپوش اتار دیے، جبکہ دیگر گھر واپس چلی گئیں یا گھر سے تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے والے اس استاد نے صرف اپنے نام کے ابتدائی حروف، ایم سی، فراہم کیے۔ انہوں نے یونیفارم کے قواعد کے نفاذ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بچے مذہبی لباس کے بارے میں فیصلے کرنے کے لیے ابھی بہت کم عمر ہیں۔
ڈی اے کے نام سے شناخت کیے گئے ایک پیرنٹ (والد یا والدہ) نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ ملک گیر سطح پر حجاب کی پابندی نہیں، بلکہ اسکول یونیفارم کا معاملہ ہے۔ پابندیوں کی مخالفت کرنے والے ایک اور والد یا والدہ نے اشاعت سے پہلے اپنا انٹرویو واپس لے لیا۔
باکو سے تعلق رکھنے والے فیس بک صارف صراف جباروف نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا کہ ان کی بیٹی سیول کو حجاب اتارنے سے انکار پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ سیول آذربائیجان کے دارالحکومت میں ایک پرائمری اسکول کی استانی تھیں۔ انہوں نے اسکول کا ایک حکم نامہ بھی شائع کیا، جس میں لباس کے نئے قواعد کے تحت ان کی بیٹی کو تحریری تنبیہ جاری کی گئی تھی۔

آذربائیجان میں گرفتاریاں اور ردعمل
بارہ اکتوبر کو وزارت داخلہ نے بتایا کہ احتجاج کے سلسلے میں 37 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ وزارت کے بیان کے مطابق ان افراد نے اسکول کے عملے سے محاذ آرائی کی، املاک کو نقصان پہنچایا اور اسکول کی سرگرمیوں اور ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ امن عامہ میں خلل ڈالنے سے متعلق شق 233 کے تحت فوجداری مقدمہ درج کیا گیا۔ وزارت نے زیرحراست افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ آیا ان میں بچے بھی شامل ہیں۔
فنکار اور سماجی کارکن اِلکِن حسینوف پابندیوں سے متاثرہ طلبہ کو رضاکار اساتذہ سے ملانے کا منصوبہ شروع کرنے کے بعد لاپتا ہو گئے۔ بعد میں مقامی میڈیا نے ان کے قریبی افراد کے حوالے سے بتایا کہ انہیں پولیس کے احکامات کی مبینہ خلاف ورزی پر 30 روز کی انتظامی حراست کی سزا دی گئی ہے۔
بعض مبصرین نے اسکول یونیفارم کے نئے قواعد کو آذربائیجانی حکومت کی ان کوششوں سے جوڑا ہے جن کا مقصد ہمسایہ ملک ایران کے اثرورسوخ اور ملک کے اندر مذہبی گروہوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مقابلہ کرنا ہے۔ بنیادی طور پر حکومتی عہدیداروں کے بیانات میں بھی یہی مؤقف جھلکتا ہے، اگرچہ وہ واضح طور پر ایران کا نام نہیں لیتے۔
آذربائیجان کی پارلیمان میں عوامی انجمنوں اور مذہبی اداروں کی کمیٹی کے سربراہ فاضل مصطفیٰ نے کہا کہ حکام کو بیرون ملک سے انسپائریشن لینے والے مذہبی گروہوں کے بارے میں تشویش ہے۔ انہوں نے اسکولوں کے قواعد کا دفاع بھی کیا۔ قفقاز مسلم بورڈ کے سربراہ اللہ شکر پاشازادہ نے بھی بیرونی مداخلت سے خبردار کیا، تاہم معاملے کے پرامن حل پر زور دیا۔ اس معاملے میں کسی مبینہ غیرملکی مداخلت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حجاب پہننے والی طالبات کو اسکولوں سے باہر رکھنے کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا کہ صرف پُرامن احتجاج کی وجہ سے حراست میں لیے گئے تمام افراد کو رہا کیا جائے۔
تنازع ترکی تک پہنچ گیا
اس تنازع پر آذربائیجان کے قریبی اتحادی ترکی میں بھی تنقید سامنے آئی ہے۔ تین اکتوبر کو مظاہرین استنبول میں آذربائیجان کے قونصل خانے کے باہر جمع ہوئے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے مشیر اوکتائے سارال نے پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حجاب پہننے والے طلبہ کو تعلیم سے محروم کرنا ناقابل قبول ہے۔ جواب میں آذربائیجان کی حکمران نیو آذربائیجان پارٹی نے کہا کہ قریبی تعلقات اس کے داخلی معاملات میں مداخلت کا جواز نہیں بنتے۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری سوال اب بھی یہی ہے کہ کیا ان کے بچے حجاب اتارے بغیر اسکول جا سکتے ہیں؟



