
عاصم منیر کی سفارت کاری اور خطے پر منڈلاتے جنگ کے بادل……..سید عاطف ندیم
تاہم، دورے کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کی سرکاری سطح پر تصدیق، اس کے حتمی شیڈول اور ایجنڈے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں فوری اضافے کے خدشات کے پیشِ نظر پاکستان کے اہم فیصلہ ساز اور چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کے رواں ہفتے ایران کے دارالحکومت تہران کے دورے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خطے کے بعض خبر رساں اداروں کے مطابق یہ ممکنہ دورہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان تناؤ کم کرنے، سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے اور کسی نئے فوجی تصادم سے بچنے کی کوششیں اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
تاہم، دورے کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کی سرکاری سطح پر تصدیق، اس کے حتمی شیڈول اور ایجنڈے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس لیے دورے کو فی الحال میڈیا رپورٹس کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے آغاز سے ہی پاکستان نے مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے ذریعے صورتِ حال کو بہتر بنانے کی حمایت کی ہے۔ جغرافیائی محلِ وقوع، ایران کے ساتھ طویل سرحد، خلیجی خطے سے قریبی تعلقات اور امریکہ کے ساتھ سفارتی روابط کے باعث پاکستان کو ممکنہ طور پر ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو مختلف فریقوں کے درمیان پیغام رسانی اور مذاکرات کے لیے کردار ادا کر سکتا ہے۔
تاہم، ثالثی کا کردار ادا کرنا اور فریقین کو کسی قابلِ عمل معاہدے تک پہنچانا دو مختلف مراحل ہیں۔ اس عمل میں فریقین کے باہمی تحفظات، جنگ بندی کی شرائط، علاقائی سلامتی، پابندیوں اور فوجی کارروائیوں سے متعلق اختلافات اہم رکاوٹیں بن سکتے ہیں۔
خطے میں قطر اور عمان ماضی میں بھی مختلف علاقائی تنازعات اور امریکہ و ایران کے درمیان رابطوں کے لیے سفارتی سہولت کاری کرتے رہے ہیں۔ بعض علاقائی خبر رساں اداروں کے تجزیوں کے مطابق، پاکستان کو بھی سفارتی کردار ادا کرنے کی خواہش کے باوجود ایسے نتائج حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے جن کی توقع ایک مؤثر ثالث سے کی جاتی ہے۔ تاہم، کسی بھی ملک کی ثالثی کی کامیابی کا تعین محض رابطوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آیا ان رابطوں کے نتیجے میں کشیدگی کم ہوتی ہے، مذاکرات آگے بڑھتے ہیں یا فریقین کسی قابلِ قبول سمجھوتے پر پہنچتے ہیں۔
اگر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ تہران طے پاتا ہے تو اس سے پاکستان اور ایران کے اعلیٰ سطح کے رابطوں کو مزید اہمیت مل سکتی ہے۔ تاہم، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس دورے کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان فوری مذاکرات یا جنگ بندی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق، آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ ان واقعات کی ذمہ داری، ہر واقعے کی نوعیت اور اس میں ملوث فریقوں کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے مستند اور تازہ شواہد ضروری ہیں۔
اس گزرگاہ میں کسی بڑے فوجی تصادم یا جہاز رانی میں طویل تعطل کے ممکنہ اثرات صرف ایران، امریکہ یا خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ تیل اور گیس کی عالمی فراہمی متاثر ہونے سے توانائی کی قیمتوں، سمندری بیمے، مال برداری کے اخراجات اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔
پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کے لیے بھی آبنائے ہرمز میں عدم استحکام اہم معاشی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ درآمدی بل بڑھانے، مہنگائی پر دباؤ ڈالنے اور ملکی معیشت کے لیے اضافی مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
دوسری جانب، اطلاعات میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مستقبل قریب میں ایران کے خلاف مزید وسیع فوجی کارروائیوں کی اجازت دے سکتے ہیں۔ تاہم، کسی ممکنہ حملے کے وقت، دائرۂ کار یا اہداف کے بارے میں حتمی دعویٰ کرنے کے لیے امریکی انتظامیہ کی مصدقہ پالیسی یا سرکاری بیان ضروری ہوگا۔
اگر امریکہ ایران کے خلاف حملوں میں توسیع کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں جوابی کارروائیوں، خلیجی خطے میں امریکی مفادات کو لاحق خطرات اور دیگر علاقائی فریقوں کی شمولیت کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں فوجی کارروائیوں کا دائرہ محدود رکھنے، شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو نقصان سے بچانے اور سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔
ایران کے لیے بھی کسی بڑے تصادم کے معاشی اور سلامتی سے متعلق نتائج اہم ہوں گے، جبکہ امریکہ کو خطے میں اپنے فوجی، سفارتی اور اقتصادی مفادات کے ساتھ ممکنہ علاقائی ردِعمل کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ ایسے حالات میں دونوں فریقوں کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ رابطوں کی گنجائش برقرار رکھنا کسی بڑے تصادم کو روکنے کی کوششوں کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے اس صورتِ حال میں ایک اہم چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ایران کے ساتھ ہمسایہ ملک کی حیثیت سے اپنے تعلقات، امریکہ کے ساتھ سفارتی روابط اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعاون کو متوازن انداز میں آگے بڑھائے۔ کسی بھی ثالثی کوشش کی افادیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ متعلقہ فریق پاکستان کے ذریعے پیغامات کے تبادلے، اعتماد سازی یا مذاکرات کے لیے کس حد تک آمادہ ہوتے ہیں۔
ممکنہ دورۂ تہران کے دوران سرحدی سلامتی، علاقائی صورتِ حال، دوطرفہ تعلقات اور امریکہ و ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے امکانات جیسے معاملات زیرِ بحث آنے کا امکان ہو سکتا ہے، لیکن ان نکات کو باضابطہ ایجنڈے کا حصہ قرار دینے کے لیے سرکاری تصدیق درکار ہوگی۔
پاکستان کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ سفارتی کوششوں کو کسی ایک فریق کی حمایت کے بجائے کشیدگی میں کمی، مذاکرات کی بحالی اور علاقائی استحکام کے مقاصد سے منسلک رکھا جائے۔ اگر تمام متعلقہ فریق رابطوں کے لیے آمادگی ظاہر کریں تو پاکستان پیغام رسانی اور سفارتی سہولت کاری میں کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم کسی معاہدے تک پہنچنے کا انحصار بنیادی طور پر امریکہ اور ایران کے فیصلوں پر ہوگا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ تناؤ نے خطے کے ممالک کو ایک پیچیدہ سفارتی صورتِ حال سے دوچار کر رکھا ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے خدشات، توانائی کی عالمی ترسیل اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کے خطرات کے باعث کشیدگی میں کمی نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی اہم ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ممکنہ دورۂ تہران سے متعلق اطلاعات نے پاکستان کے سفارتی کردار پر توجہ بڑھا دی ہے۔ تاہم، اس دورے کی حتمی تصدیق، اس کے مقاصد اور کسی عملی پیش رفت کے بارے میں واضح تصویر سرکاری اعلانات اور متعلقہ فریقوں کے ردِعمل سامنے آنے کے بعد ہی سامنے آسکے گی۔
فی الحال بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا جاری سفارتی رابطے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی طرف واپس لانے میں مدد دے سکتے ہیں یا خطے کو ایک نئے فوجی تصادم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں سفارتی سرگرمیاں اور متعلقہ حکومتوں کے فیصلے اس صورتِ حال کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

