
بھارت اور پاکستان میں فضائی آلودگی کا بحران شدت اختیار کر گیا، سرحد پار سے آنے والی سموگ کے باعث لاہور اور بالائی پنجاب کی فضا متاثر ہونے کے خدشات
بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں فصلوں کی باقیات جلانے، صنعتی اخراج اور موسمی حالات کے باعث خطے میں فضائی آلودگی کا مسئلہ سنگین؛ سیٹلائٹ نگرانی سے دھوئیں اور آگ لگنے کے واقعات کی نشاندہی، یکم نومبر تک سات بھارتی ریاستوں میں پرالی جلانے کے 3 ہزار 316 واقعات رپورٹ ہونے کا دعویٰ، ماہرین کا پاکستان اور بھارت کے درمیان مشترکہ ماحولیاتی حکمت عملی اختیار کرنے پر زور
قیصر مغل-ادارت
پاکستان اور بھارت کے مختلف علاقوں میں موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ فضائی آلودگی اور سموگ کے مسائل ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ بھارتی پنجاب، ہریانہ، دہلی اور اتر پردیش سمیت شمالی بھارت کے مختلف علاقوں میں فصلوں کی باقیات جلانے، صنعتی اخراج، گاڑیوں کے دھوئیں اور موسمی عوامل کے باعث فضائی آلودگی میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جبکہ پاکستان کے صوبہ پنجاب، بالخصوص لاہور اور سرحدی اضلاع میں بھی خراب فضائی معیار شہریوں کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے سرحدی علاقوں میں فضائی آلودگی کو صرف قومی سرحدوں تک محدود نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ ہوا کے رخ، رفتار اور موسمی حالات کے مطابق آلودہ ذرات ایک ملک سے دوسرے ملک تک منتقل ہو سکتے ہیں۔
تاہم لاہور اور پاکستانی پنجاب میں سموگ کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد کرنا سائنسی اعتبار سے درست نہیں ہوگا، کیونکہ پاکستان کے اندر ٹرانسپورٹ، صنعتوں، اینٹوں کے بھٹوں، فصلوں کی باقیات جلانے، تعمیراتی گردوغبار اور دیگر مقامی ذرائع سے پیدا ہونے والی آلودگی بھی فضائی معیار کو متاثر کرتی ہے۔
اس تناظر میں ماحولیاتی ماہرین سرحد پار آلودگی کی نگرانی کے ساتھ دونوں ممالک میں مقامی اخراج میں کمی کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں۔
بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں پرالی جلانے کے واقعات، سرحدی علاقوں پر ممکنہ اثرات
شمالی بھارت میں موسمِ خزاں کے دوران دھان کی فصل کی کٹائی کے بعد باقی رہ جانے والی پرالی کو جلانے کا مسئلہ کئی برسوں سے فضائی آلودگی کی بحث کا اہم حصہ رہا ہے۔
بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے سے دھواں اور باریک ذرات فضا میں شامل ہوتے ہیں، جو مناسب موسمی حالات میں طویل فاصلے تک منتقل ہو سکتے ہیں۔
پاکستانی پنجاب اور بھارتی پنجاب کے درمیان جغرافیائی قربت کے باعث سرحد پار سے آنے والی آلودگی لاہور، قصور، نارووال، سیالکوٹ اور دیگر قریبی علاقوں کے فضائی معیار پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
تاہم کسی مخصوص دن لاہور میں موجود آلودگی کا کتنا حصہ بھارتی علاقوں سے آیا، اس کا تعین صرف سیٹلائٹ تصویر یا فضائی آلودگی کے اشاریے سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ہوا کی سمت، فضائی کیمیائی ساخت اور آلودگی کی نقل و حرکت کے سائنسی ماڈلز کا تجزیہ ضروری ہوتا ہے۔
سات بھارتی ریاستوں میں پرالی جلانے کے 3 ہزار 316 واقعات کا دعویٰ
فراہم کردہ معلومات میں انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 15 ستمبر سے یکم نومبر 2026 کے دوران بھارت کی سات ریاستوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کے مجموعی طور پر 3 ہزار 316 واقعات سامنے آئے۔
ان واقعات کو شمالی بھارت میں موسمی فضائی آلودگی کے ایک اہم سبب کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
فصلوں کی باقیات جلانے سے فضا میں باریک ذرات، کاربن مونو آکسائیڈ اور دیگر آلودہ مادے خارج ہو سکتے ہیں، جو ہوا کے معیار اور انسانی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔
تاہم 3 ہزار 316 واقعات کی تعداد کی اس رپورٹ کے لیے متعلقہ سرکاری ڈیٹاسیٹ سے آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ اسی طرح آگ لگنے کے واقعات کی تعداد سے براہ راست دھوئیں کی مجموعی مقدار یا پاکستان پہنچنے والی آلودگی کا حساب نہیں لگایا جا سکتا۔
ناسا اور یورپی خلائی ادارے کے سیٹلائٹس سے فضائی آلودگی کی نگرانی
شمالی بھارت اور جنوبی ایشیا میں فضائی آلودگی کی نگرانی کے لیے سیٹلائٹ ڈیٹا اہم سائنسی ذریعہ ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے MODIS اور VIIRS سینسرز زمین کی سطح پر آگ لگنے کے واقعات، دھوئیں کی موجودگی اور فضا میں معلق ذرات سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
اسی طرح یورپی کوپرنیکس پروگرام کے Sentinel سیٹلائٹس زمین اور فضا سے متعلق مختلف نوعیت کے مشاہدات فراہم کرتے ہیں۔
Sentinel-2 کی تصویری معلومات زمین کے استعمال اور بعض مقامات پر آگ یا اس کے اثرات کی نشاندہی میں مددگار ہو سکتی ہیں، جبکہ Sentinel-5P کے آلات فضائی گیسوں، خصوصاً نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ جیسے آلودہ مادوں کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
ان سائنسی مشاہدات سے فضائی آلودگی کے پھیلاؤ اور ممکنہ ذرائع کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں۔
تاہم خلا سے نظر آنے والی دھوئیں کی تہہ بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتی کہ کسی مخصوص پاکستانی شہر میں تمام آلودگی ایک ہی ملک یا ایک ہی ذریعے سے پہنچ رہی ہے۔
شام کے وقت پرالی جلانے کا نیا رجحان، سیٹلائٹ نگرانی میں اہم انکشاف
ناسا سے منسلک محققین کی مئی 2026 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں شمال مغربی بھارت میں فصلوں کی باقیات جلانے کے اوقات میں تبدیلی کی نشاندہی کی گئی ہے۔
تحقیق کے مطابق 2022 کے بعد آگ لگانے کے واقعات بتدریج سہ پہر کے بعد کے اوقات میں منتقل ہوئے، جبکہ بڑی تعداد میں آگ لگنے کے اشارے شام چار بجے کے بعد ریکارڈ کیے گئے۔
اس تحقیق میں جنوبی کوریا کے جغرافیائی طور پر مستقل مدار میں موجود GEO-KOMPSAT-2A سیٹلائٹ کے مشاہدات استعمال کیے گئے۔ اس کے برعکس MODIS اور VIIRS جیسے قطبی مدار کے سینسرز مخصوص اوقات میں متعلقہ علاقوں سے گزرتے ہیں، اس لیے شام کے بعض واقعات ان کی نگرانی میں نہیں آ پاتے۔
تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف دن کے مخصوص اوقات میں حاصل ہونے والے سیٹلائٹ اعداد و شمار پر انحصار کرنے سے فصلوں کی باقیات جلانے کی سرگرمی کا مکمل اندازہ نہیں ہو پاتا۔
البتہ آگ لگانے کے اوقات میں تبدیلی کو تمام کسانوں کی جانب سے جان بوجھ کر سیٹلائٹ نگرانی سے بچنے کی کوشش قرار دینا ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے۔
نئی دہلی میں فضائی آلودگی تشویش ناک، نومبر کے آغاز میں صورتحال مزید خراب
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں نومبر 2026 کے ابتدائی دنوں کے دوران فضائی آلودگی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بھارتی فضائی معیار کی نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق یکم نومبر کو دہلی کا یومیہ ایئر کوالٹی انڈیکس 261، دو نومبر کو 324، تین نومبر کو 348 اور چار نومبر کو 377 تک پہنچ گیا۔
بھارتی درجہ بندی کے مطابق 301 سے 400 تک اے کیو آئی کو انتہائی خراب (Very Poor) شمار کیا جاتا ہے۔ چار نومبر کو دہلی کے متعدد نگرانی مراکز پر آلودگی کی سطح اس سے بھی زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ فصلوں کی باقیات جلانے، ٹرانسپورٹ، صنعتی اخراج اور ناموافق موسمی حالات کے مشترکہ اثرات شمالی بھارت میں سنگین فضائی بحران پیدا کر سکتے ہیں۔
فضائی آلودگی میں پرالی جلانے کا حصہ کتنا ہے؟
نئی دہلی میں فضائی آلودگی کے ذرائع کا جائزہ لینے والے بھارتی فیصلہ جاتی معاونتی نظام کے مطابق چار نومبر کو علاقائی سطح پر پرالی جلانے کا دہلی کے PM2.5 ذرات میں تخمینی حصہ تقریباً 16 فیصد تھا، جبکہ مقامی ٹرانسپورٹ کا حصہ تقریباً 18 فیصد بتایا گیا۔
یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پرالی جلانا ایک اہم آلودگی پیدا کرنے والا ذریعہ ہے، لیکن واحد سبب نہیں۔
اسی طرح پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی آلودگی کے ذرائع کا الگ الگ جائزہ ضروری ہے، تاکہ سرحد پار منتقل ہونے والے دھوئیں اور مقامی طور پر پیدا ہونے والی آلودگی کے درمیان فرق واضح کیا جا سکے۔
بھارت میں اینٹوں کے بھٹے اور صنعتی سرگرمیاں بھی فضائی آلودگی کا سبب
شمالی بھارت میں فضائی آلودگی کا مسئلہ صرف فصلوں کی باقیات جلانے تک محدود نہیں۔
صنعتی سرگرمیوں، کوئلے اور دیگر ایندھن کے استعمال، اینٹوں کے بھٹوں، بجلی کی پیداوار، گاڑیوں کے اخراج اور تعمیراتی گردوغبار سے بھی آلودہ ذرات فضا میں شامل ہوتے ہیں۔
فراہم کردہ معلومات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت میں دس لاکھ سے زائد اینٹوں کے بھٹے سالانہ ساڑھے تین کروڑ ٹن کوئلہ استعمال کرتے ہیں اور ذراتی آلودگی میں تقریباً 15 فیصد حصہ ڈالتے ہیں۔
تاہم ان مخصوص اعداد و شمار کی قابل اعتماد، تازہ تصدیق دستیاب نہیں۔ مزید یہ کہ Sentinel-2 کی سیٹلائٹ میپنگ سے بذاتِ خود بھٹوں کے سالانہ کوئلے کے استعمال یا قومی اخراج میں ان کے فیصدی حصے کا براہ راست تعین نہیں کیا جا سکتا۔
صنعتی آلودگی کی درست پیمائش کے لیے ایندھن کے استعمال، اخراج کے عوامل، زمینی پیمائش اور دیگر متعلقہ اعداد و شمار کا تجزیہ ضروری ہوتا ہے۔
لاہور اور بالائی پنجاب میں سموگ کے ممکنہ اثرات
لاہور، قصور، نارووال، سیالکوٹ اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں سردیوں کے دوران سموگ کا مسئلہ شہری زندگی اور صحتِ عامہ کے لیے اہم خطرہ بن سکتا ہے۔
موسمِ سرما میں ہوا کی رفتار کم ہونے، درجہ حرارت میں تبدیلی اور بعض اوقات فضائی درجہ حرارت کی الٹی ترتیب (Temperature Inversion) کے باعث آلودہ ذرات زمین کے قریب جمع ہو سکتے ہیں۔
ایسے حالات میں مقامی آلودگی کے ساتھ سرحد پار سے منتقل ہونے والا دھواں بھی فضائی معیار کو مزید خراب کر سکتا ہے۔
تاہم لاہور کو کسی مخصوص تاریخ پر بھارتی سموگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر قرار دینے کے لیے تقابلی سائنسی شواہد درکار ہیں۔
سموگ انسانی صحت کے لیے کتنا خطرناک ہے؟
سموگ میں موجود باریک ذرات، خصوصاً PM2.5، انسانی نظامِ تنفس میں گہرائی تک داخل ہو سکتے ہیں۔
زیادہ آلودہ فضا میں رہنے سے آنکھوں اور گلے میں جلن، کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور دمے جیسی بیماریوں کی علامات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
طویل مدت تک باریک ذرات کی زیادہ مقدار میں موجودگی دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے خطرات سے بھی منسلک ہے۔
بچے، بزرگ، حاملہ خواتین اور پہلے سے سانس یا دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد آلودگی کے اثرات سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
طبی ماہرین شدید آلودگی کے دنوں میں غیر ضروری بیرونی سرگرمیاں محدود رکھنے، مناسب حفاظتی ماسک استعمال کرنے اور مقامی فضائی معیار کی سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان مشترکہ ماحولیاتی حکمت عملی کی ضرورت
فضائی آلودگی کی سرحد پار منتقلی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا مؤثر حل صرف ایک ملک کے اقدامات سے ممکن نہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی آلودگی کے اعداد و شمار کا تبادلہ، مشترکہ سائنسی تحقیق، فصلوں کی باقیات کے متبادل استعمال اور صنعتی اخراج میں کمی جیسے اقدامات علاقائی فضائی معیار بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق دونوں ممالک میں فضائی آلودگی کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ سائنسی شواہد پر مبنی پالیسی سازی بھی ضروری ہے۔
اس ضمن میں کسانوں کو پرالی جلانے کے متبادل طریقوں کی فراہمی، صاف توانائی کا فروغ، اینٹوں کے بھٹوں کی تکنیکی بہتری اور ٹرانسپورٹ سے پیدا ہونے والی آلودگی میں کمی اہم اقدامات ہو سکتے ہیں۔
بھارت کی جانب سے ماحولیاتی تعاون سے مکمل انکار یا پڑوسی ممالک پر ذمہ داری ڈالنے کے عمومی الزامات کی تصدیق کے لیے مخصوص سرکاری بیانات اور سفارتی ریکارڈ درکار ہوگا۔
سموگ کے خاتمے کے لیے مستقل اور مشترکہ اقدامات ناگزیر
جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی ایک مشترکہ ماحولیاتی اور صحتِ عامہ کا چیلنج بن چکی ہے۔
بھارتی پنجاب اور ہریانہ میں پرالی جلانے کے واقعات، دہلی میں خراب فضائی معیار اور سیٹلائٹ نگرانی سے سامنے آنے والے نئے سائنسی شواہد اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
دوسری جانب لاہور اور پاکستانی پنجاب میں مقامی آلودگی کے ذرائع کی روک تھام اور سرحد پار سے آنے والے دھوئیں کے ممکنہ اثرات کی مسلسل نگرانی بھی ضروری ہے۔
پاکستان اور بھارت کے لیے سموگ کے بحران کا پائیدار حل الزام تراشی کے بجائے قابل اعتماد سائنسی معلومات، مؤثر ماحولیاتی قوانین، آلودگی میں عملی کمی اور سرحد پار تعاون میں مضمر ہے۔



