اہم خبریںبین الاقوامی

ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کوششیں: صدر ٹرمپ کی قطر کے امیر سے تفصیلی گفتگو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے مابین یہ گفتگو ان متعدد سفارتی ٹیلی فون کالوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ چھ نومبر کے روز خلیجی عرب ریاست قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے اس لیے ٹیلی فون پر تفصیلی گفتگو کی کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کی جانے والی ثالثی کوششوں  سے اب تک حاصل ہونے والے نتائج پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس قطری امریکی گفتگو کا ایک پس منظر یہ بھی ہے کہ اس تنازعے میں ثالثی کرنے والے قطر سمیت متعدد ممالک مسلسل اس کوشش میں ہیں کہ ایران جنگ کے ممکنہ طور پر ایک بار پھر شدید ہو جانے کو سفارتی کوششوں سے روکا جائے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے مابین یہ گفتگو ان متعدد سفارتی ٹیلی فون کالوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے، جن میں یہ بھی شامل تھا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی ابھی کل جمعرات ہی کے روز اپنے ہم منصب سعودی اور قطری وزراء سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، جنہوں نے کل جمعرات کو قطر اور سعودی عرب کے اپنے ہم منصب وزراء سے فون کالز کے دوران گفتگو کیتصویر: Murtadha Al-Sudani/Anadolu/picture alliance

ایران جنگ کے جلد خاتمے کے لیے اب زیادہ ہو چکی سفارتی کوششوں کا ایک اہم پس منظر یہ بھی ہے کہ امریکہ میں تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں اپنی ریپبلکن پارٹی کو ہونے والی بڑی شکست کے بعد خدشہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف بڑے جنگی حملے دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔

دوحہ میں قطر کے امیر کے دفتر امیری دیوان کی طرف سے بتایا گیا کہ جمعہ چھ نومبر کو ہونے والی قطری امریکی سربراہی بات چیت کے لیے شیخ تمیم کو ٹیلی فون امریکی صدر ٹرمپ نے کیا۔

امیری دیوان کے مطابق، ’’اس ٹیلی فون کال کے دوران دونوں رہنما نے اس بارے میں تبادلہ خیال کیا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی کے لیے ایک ثالٹ کے طور پر قطر کی طرف سے اب تک کی گئی سفارتی کوششوں سے کیا نتائج حاصل ہوئے ہیں۔‘‘

سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی گزشتہ برس اکتوبر میں جدہ میں ہونے والی ایک ملاقات کے موقع پر لی گئی ایک تصویرتصویر: ZUMA/IMAGO

امیری دیوان کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’’امیر نے اس بات پر زور دیا کہ ایران جنگ کی وجہ سے خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے مسلسل مکالمت کا عمل جاری رکھا جائے۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button