انٹرٹینمینٹتازہ ترین

رتی اور جناح: محبت جس کا انجام موت اور تنہائی ٹھہرا

'رتی‘ ہماری تاریخ کا ناقابلِ فراموش کردار ہے جسے یاد نہیں رکھا گیا۔ یہ ناول ازالے کی ایک معمولی کوشش ہے۔‘‘

فاروق اعظم

رتی اور جناح کی شادی اپنے زمانے کی ایک سنسنی خیز اور ہر کسی کی دلچسپی کا باعث بننے والی خبر تاریخ کے شور میں گم ہوگئی۔ زیف سید کا ناول ’رتی‘ اس انوکھے رشتے کے افسوسناک انجام کو کیسے بیان کرتا ہے؟ جانیے اس فیچر میں۔

فلاور آف بامبے: رئیس گھرانے کی باغی بیٹی

مالابار ہِل کی محل نما کوٹھی، سمندر کی طرف کھلتی بالکونیاں، چاندی کے برتنوں  میں کھانا پیش کرنے کے لیے ملازموں کی قطاریں اور ہر موسم میں نئی محفلیں۔ مگر رتی اس ماحول میں رہتے ہوئے ابتدا سے ہی مختلف راستے کی مسافر نکلی۔ رتی کی چچی ہما بائی ناول میں ان کے بچپن کے شوق بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں، ”اس کا دل یورپ کے مہنگے کھلونوں اور گڑیا گھروں میں نہیں لگتا تھا۔ وہ اسی وقت سے کتابوں کی عاشق بن گئی تھی جب اس نے حرف پہچاننا شروع کیے تھے۔‘‘ان کے بقول، ”رتی چارلس ڈکنز اور ولیم میک پیس تھیکرے  کے ناولوں میں کھو جاتی، ہینرک ابسن کے ڈراموں پر بھنویں سکیڑتی، آسکر وائلڈ کے قصوں، شیلی اور ٹینی سن کی نظمیں اس کے لبوں پر رہتیں۔‘‘رتی بہت چھوٹی عمر میں پڑھنے کے لیے فرانس گئی مگر 1914 میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے، جس کے بعد وہ واپس بمبئی لوٹ آئی۔فرانس میں اپنے اسکول کے دور میں رتی نے پہلی مرتبہ محمد علی جناح کو دیکھا، بعد میں وہ بمبئی میں انڈین نیشنل کانگریس کے جلسوں میں جناح کی تقاریر سن کر متاثر ہوئیں۔رتی کے والد جناح کے دوست تھے۔ وہ گھر میں بیٹھ کر گھنٹوں سیاست اور تاریخ پر بحثیں کرتے۔محض سولہ برس کی عمر میں رتی اپنے سے چوبیس برس بڑے جناح کی محبت میں گرفتار ہوئی۔سر ڈنشا نے جناح پر اپنی بیٹی کو ورغلانے اور اغوا کر کے شادی کرنے کی کوشش کا مقدمہ بھی کیا مگر عدالت ان کی کوئی مدد نہ کر سکی۔رتی کی بغاوت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے زیف سید کہتے ہیں، ”رتی کو پتہ تھا کہ جناح سے شادی کا مطلب اپنے خاندان، دولت، مذہب اور شناخت سے دستبرداری ہے۔ یہ فیصلہ ایک بچی کی محض ہیرو پرستی نہ تھی بلکہ شعوری فیصلہ تھا، وہ بچی جو کہتی تھی کہ مجھے کسی کمیونٹی ومیونٹی کی پرواہ نہیں۔ میری زندگی صرف اور صرف میری ملکیت ہے کسی کمیونٹی کی نہیں کہ وہ میرے بارے میں فیصلہ کرے۔‘‘

ناول ’رتی‘ کے مصنف زیف سید
زیف سید نے پہلے ‘گل مینہ‘ اور اب ‘رتی‘ میں خواتین کو مرکزی کردار بنایا ہےتصویر: Faruq Azam

جب رتی اور جناح کی شادی والے دن کو ‘بلیک فرائیڈے‘ کہا گیا

بیس فروری 1918، بمبئی کے تاج ہوٹل میں رتی کی اٹھارویں سالگرہ کا جشن دھوم دھام سے منایا جا رہا تھا کہ اچانک بیرسٹر جناح آ پہنچے۔ تقریباً ایک سال بعد دونوں پہلی بار ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ رتی نے خفیہ طور پر انہیں  اپنی سالگرہ کی تقریب کا دعوت نامہ بجھوایا۔18 اپریل کو رتی کے گھر والے پارسی عقیدے کے ایک تہوار میں گئے ہوئے تھے۔ تیز بارش میں وہ سر پہ چھتری تانے ، اپنی بلی اور کتے کو لے کر گھر سے نکلی اور جناح کے ‘ساؤتھ کورٹ‘ کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔

 باغ جناح لاہور میں سکیٹ بورڈ پارک، نوجوانوں میں مقبول ہوتا ہوا

صبح گھر کے سب افراد ناشتے کی میز پر بیٹھے تو سر ڈنشا نے معمول کے مطابق اپنا پسندیدہ اخبار ‘بامبے کرونیکل‘ اٹھایا، صفحات پلٹتے پلٹتے اچانک انہیں زور کا جھٹکا لگا۔ وہاں خبر لگی تھی کہ بیرسٹر جناح اور مس رتی نے گذشتہ شام شادی کر لی ہے۔یہ شادی جمعے کے روز ہوئی تھی۔ مشہور اخبار ‘پیسہ‘ کے مطابق اس لیے بعض پارسی اخبارات نے اسے ‘بلیک فرائیڈے‘ سے تعبیر کیا۔

خوشی کیا ہوتی ہے گاندھی جی؟ رتی کی موت اور جناح کی زندگی کا خلا

ناول کے ایک باب میں رتی اور گاندھی کی تخیلاتی ملاقات پیش کی گئی ہے جب گاندھی جناح سے ملنے ساؤتھ کورٹ آتے ہیں۔باتوں کے دوران گاندھی جی رتی سے کہتے ہیں کہ، ”میں چاہتا ہوں شری جناح گجراتی یا ہندوستانی سیکھیں۔ انگریزی میں بھاشن دینے سے جنتا کے دلوں تک پہنچنا مشکل ہے۔”جواب میں رتی کہتی ہے، ”آپ کا خیال ہے میں کہوں گی تو وہ سن لیں گے؟ گاندھی جی آپ تو انسانوں کے پارکھ ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ بیویاں شوہروں کو نہیں بدل سکتیں۔ صرف برداشت کر سکتی ہیں۔‘‘گاندھی حیران ہوتے ہیں کہ جس لڑکی نے محبت کے لیے ساری دنیا کو ٹھکرایا وہ اداسی کے بادلوں میں کیوں گھری ہے۔

کراچی میں وزیرمینشن، بانی پاکستان کی جائے پیدائش

گاندھی جی کے پوچھنے پر وہ کہتی ہے، ”خوشی کیا ہوتی ہے گاندھی جی؟ کیا اس کا نام خوشی ہے کہ آپ جو چاہیں کریں؟ میں بھی یہی سمجھتی تھی، مگر۔۔۔۔‘‘بس اتنا کہہ کر رتی بات ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے اور گاندھی موضوع بدل دیتے ہیں۔زیف سید کہتے ہیں، ”اس تخیلاتی ملاقات کی معلومات گاندھی کے رتی کے نام خطوط سے حاصل کی گئی ہیں۔ یہاں رتی پہلی بار اپنی تنہائی اور عدم اطمینان کا کھل کا اظہار کرتی ہے۔‘‘ڈی ڈبلیو سے بات کرتے  ہوئے وہ مزید کہتے ہیں، ”جناح کی سیاسی مصروفیات بہت زیادہ تھیں، رتی کو شکوہ رہنے لگا کہ اسے وقت نہیں دیا جا رہا۔‘‘

اس تصویر میں اسلام آباد میں لوک ورثہ میں فاطمہ جناح اور رانا لیاقت کے مجسمے دکھائی دے رہے ہیں
سر ڈنشا نے جناح پر اپنی بیٹی کو ورغلانے اور اغوا کر کے شادی کرنے کی کوشش کا مقدمہ بھی کیا مگرعدالت ان کی کوئی مدد نہ کر سکیتصویر: Faruq Azam

ایک اور موقع پر رتی جناح سے شکوہ کرتے ہوئے کہتی ہیں، ”تم میرے ساتھ کبھی رقص نہیں کرتے، جے۔‘‘جناح اخبار کی تہہ درست کرتے ہوئے کہتے ہیں، ”میرے پاس وقت نہیں ہے، رتی۔ ملک کے مسائل رقص سے حل نہیں ہوتے۔‘‘دوریاں بڑھنے لگتی ہیں اور رتی کچھ عرصے بعد جناح کو چھوڑ  کر تاج ہوٹل الگ تھلگ رہنے لگتی ہے۔ نیند کے لیے گولیوں کا استعمال اور آخر کار محض انتیس برس کی عمر میں رتی موت کی آغوش میں جا سوتی ہے۔

رتی: ناقابلِ فراموش کردار جسے یاد نہیں رکھا گیا

معروف ڈرامہ نویس اور ناول نگار آمنہ مفتی ناول ‘رتی‘ کو تاریخ کا قرض چکانے کی ایک کوشش قرار دیتی ہیں۔ ڈی ڈبلیو  سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا، ”جناح کی زندگی کے حوالے سے بھی اور اس سے ہٹ کر بھی، رتی بائی ایک غیر معمولی کردار ہیں، مگر تاریخ میں ان کا ذکر محض سرسری انداز میں کیا جاتا ہے۔‘‘وہ کہتی ہیں، ”اردو ادب کی دنیا میں عورت اکثر موجود تو رہی ہے، مگر اپنی پوری قامت کے ساتھ نہیں۔ بڑے بڑے ناموں اور نمائندہ ناولوں میں بھی اسے بس کہانی کے حاشیے پر کھڑا کر دیا گیا، کہیں ماں، کہیں محبوبہ، کہیں بیوی، مگر ایک مکمل انسان کے طور پر کم ہی دیکھا گیا۔ جیسے اس کی اپنی خواہشات، اپنے خوف، اپنے خواب کوئی معنی ہی نہ رکھتے ہوں۔‘‘ان کے بقول، ”اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ہمارے ادیب، اسی معاشرے کے فرد ہوتے ہوئے، عورت کی اندرونی دنیا کو ٹھیک سے جان ہی نہ سکے۔ شاید وہ یہ سمجھ ہی نہ پائے کہ عورت زندگی کو کس زاویے سے دیکھتی ہے اور رشتوں کو کیسے محسوس کرتی ہے۔‘‘وہ کہتی ہیں، ”زیف سید نے پہلے ‘گل مینہ‘ اور اب ‘رتی‘ میں خواتین کو مرکزی کردار بنایا۔ ایسے کردار جو ہنستے ہیں، ٹوٹتے ہیں اور سوال کرتے ہیں۔ یہ روایتی سانچوں میں ڈھلی ہوئی خواتین نہیں، بلکہ مردوں کی طرح اپنی کمزوریوں اور اپنی طاقت کے ساتھ۔ جیتے جاگتے انسان ہیں۔‘‘زیف سید کہتے ہیں، ”رتی کے زیادہ تر خطوط، پینٹنگز، تصاویر اور نظمیں  ضائع کر دیے گئے۔ ایک دلچسپ، پیچیدہ اور گہرا کردار تاریخ کی گرد میں گم ہو گیا۔ یہ ناول اسی کردار کی تلاش اور جناح کی جذباتی زندگی کے اوجھل گوشوں کو انسانی المیے کے روپ میں پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔‘‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button