
سمندری وسائل کے تحفظ، ماحولیاتی شعور اور پائیدار بحری مستقبل کے لیے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں، مقررین
عالمی یومِ سمندر کے موقع پر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں سیمینار اور آرٹ نمائش "انفینٹ بلیو" کا انعقاد، پاکستان کی پائیدار بلیو اکانومی پر ماہرین کا زور
رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
عالمی یومِ سمندر (World Oceans Day) کے موقع پر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور نے اپنے ٹاؤن شپ کیمپس میں "پاکستان کا پائیدار بلیو اکانومی کی جانب سفر” کے عنوان سے ایک اہم سیمینار اور "انفینٹ بلیو” (Infinite Blue) کے نام سے ایک منفرد آرٹ نمائش کا انعقاد کیا۔ تقریب میں ماہرینِ تعلیم، طلبہ، فنکاروں، محققین اور ماحولیات سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر سمندروں کی معاشی، ماحولیاتی اور سماجی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان میں بلیو اکانومی کے فروغ، سمندری وسائل کے مؤثر استعمال، ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ تقریب وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عاکف انور چوہدری کی سرپرستی میں منعقد ہوئی جبکہ سیمینار کے مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر کموڈور (ر) پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد، وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی لاہور تھے۔
سمندر پاکستان کی معاشی ترقی کا اہم ستون ہیں، ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد
اپنے تفصیلی خطاب میں کموڈور (ر) پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد نے کہا کہ پاکستان کے پاس سمندری وسائل کی صورت میں بے شمار معاشی مواقع موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر قومی معیشت کو مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلیو اکانومی صرف سمندری تجارت یا ماہی گیری تک محدود نہیں بلکہ اس میں بندرگاہی سرگرمیاں، ساحلی سیاحت، سمندری حیاتیات، توانائی کے متبادل ذرائع اور ماحولیاتی تحفظ سمیت کئی اہم شعبے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سمندر اقتصادی ترقی کا ایک مضبوط ذریعہ بن چکے ہیں اور پاکستان کو بھی اپنے ساحلی وسائل اور سمندری حدود سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے جامع اور پائیدار پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سمندر عالمی موسمیاتی نظام کو متوازن رکھنے، کاربن جذب کرنے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے طلبہ اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سمندری ماحول کے تحفظ اور ماحولیاتی آگاہی کے فروغ کے لیے اپنا فعال کردار ادا کریں اور تحقیق، مکالمے اور تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے اس پیغام کو معاشرے کے مختلف طبقات تک پہنچائیں۔
عالمی یومِ سمندر اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے، وائس چانسلر
اس موقع پر اپنے پیغام میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور پروفیسر ڈاکٹر عاکف انور چوہدری نے کہا کہ عالمی یومِ سمندر ہمیں اس حقیقت کا احساس دلاتا ہے کہ سمندری ماحولیاتی نظام کا تحفظ پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور سمندری حیات کو درپیش خطرات کے پیش نظر تعلیمی اداروں کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے۔
انہوں نے یونیورسٹی کی جانب سے آرٹ اور علمی مکالمے کو یکجا کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں نوجوان نسل میں ماحولیاتی شعور پیدا کرنے، پائیداری کے تصورات کو فروغ دینے اور قدرتی وسائل کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی ادارے صرف علم کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ وہ ذمہ دار اور باشعور شہریوں کی تربیت بھی کرتے ہیں جو مستقبل میں ماحول دوست پالیسیوں اور اقدامات کے ذریعے معاشرے کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔
"انفینٹ بلیو” آرٹ نمائش میں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کا شاندار اظہار
تقریب کے ساتھ منعقد ہونے والی آرٹ نمائش "انفینٹ بلیو” شرکاء کی خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔ نمائش کی نگرانی ڈاکٹر ثمینہ ضیاء شیخ، ایسوسی ایٹ پروفیسر فائن آرٹس نے کی جبکہ طلبہ نے سمندروں، پانی، ماحولیاتی مسائل، آبی حیات اور قدرتی حسن سے متاثر ہو کر مختلف فن پارے تخلیق کیے۔

نمائش میں پیش کیے گئے فن پاروں میں سمندر کے جمالیاتی پہلوؤں، انسانی زندگی میں پانی کی اہمیت، ماحولیاتی آلودگی کے اثرات، سمندری حیات کے تحفظ اور قدرتی وسائل کے دانشمندانہ استعمال جیسے موضوعات کو نہایت خوبصورتی اور فنی مہارت کے ساتھ پیش کیا گیا۔
طلبہ نے اپنی پینٹنگز اور تخلیقی کاموں کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ فطرت اور انسان کے درمیان ہم آہنگی ہی ایک محفوظ اور پائیدار مستقبل کی ضمانت ہے۔ شرکاء نے نمائش میں پیش کیے گئے فن پاروں کو بے حد سراہا اور اسے ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کی ایک مؤثر کاوش قرار دیا۔
ماہرین کی سمندروں کی قومی ترقی میں اہمیت پر روشنی
سیمینار کے دوران مختلف ماہرین نے سمندروں کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ سمندری راستوں کے ذریعے انجام پاتا ہے جبکہ ماہی گیری اور ساحلی سیاحت لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سمندری وسائل کے دانشمندانہ اور پائیدار استعمال سے نہ صرف اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی استحکام کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین نے اس امر پر زور دیا کہ سمندری آلودگی، پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، نجی شعبے اور عوام کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔
نوجوان نسل کو ماحولیاتی مکالمے میں شامل کرنا وقت کی ضرورت
ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افیئرز ڈاکٹر فہیم خورشید بٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو ماحولیاتی ذمہ داری اور پائیداری کے موضوعات پر بامعنی مکالمے میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو ماحول دوست طرزِ فکر اور عملی اقدامات کی جانب راغب کیے بغیر پائیدار ترقی کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
پاکستان کے پائیدار بحری مستقبل کے لیے اجتماعی عزم
سیمینار کے اختتام پر پرنسپل لوئر مال کیمپس اور تقریب کے منتظمین میں شامل پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر سلیم نے کہا کہ اس علمی اور فکری نشست نے شرکاء میں پاکستان کے پائیدار بحری مستقبل کے حوالے سے شعور، فہم اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس کو مزید مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی تاکہ معاشرے میں ماحولیاتی آگاہی اور پائیداری کے تصورات کو فروغ دیا جا سکے۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا گیا جبکہ آرٹ نمائش میں حصہ لینے والے طلبہ میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس موقع پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سمندروں اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر مؤثر کردار ادا کیا جائے گا تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، صحت مند اور پائیدار ماحول یقینی بنایا جا سکے۔



