
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
پاکستان میں سوشل میڈیا کی نگرانی کے لیے نصب کردہ متنازع انٹرنیٹ فائر وال ایک بار پھر قومی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مختلف ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ حکومت نے مبینہ طور پر یہ نظام بند کر دیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر نہ تو اس کی تصدیق کی گئی اور نہ ہی باضابطہ تردید سامنے آئی۔ حکومتی خاموشی نے صارفین، آئی ٹی صنعت اور ممکنہ سرمایہ کاروں میں نئی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
انٹرنیٹ رفتار میں بہتری کے دعوے
لاہور میں قائم سافٹ ویئر ہاؤس چمپ گروپ کے سی ای او بابر ایوب خان کے مطابق حالیہ دنوں میں ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار میں واضح بہتری دیکھی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:
وہ ویب سائٹس اور آن لائن پلیٹ فارمز جو پہلے قابلِ رسائی نہیں تھے، اب کھل رہے ہیں۔
ڈیٹا اپ لوڈ کرنے کا عمل پہلے کی نسبت آسان ہو گیا ہے۔
آن لائن میٹنگز اور کلاؤڈ بیسڈ سروسز کے استعمال میں تکنیکی رکاوٹیں کم ہوئی ہیں۔
ان دعوؤں نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ فائر وال کا نظام یا تو غیر فعال ہو چکا ہے یا اس کی سختی میں کمی کی گئی ہے۔
منصوبے کی پس منظر کہانی
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فائر وال منصوبہ 2024 میں سوشل میڈیا کی نگرانی اور بعض آن لائن سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے نصب کیا گیا تھا۔ حکومتی حلقوں کا مؤقف رہا کہ اس کا مقصد قومی سلامتی، نفرت انگیز مواد اور انتشار انگیز مہمات کی روک تھام ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نظام نے:
ڈیجیٹل آزادی اظہار کو محدود کیا،
آئی ٹی برآمدات کو متاثر کیا،
فری لانسرز کے کام میں رکاوٹیں پیدا کیں،
اور عالمی سطح پر پاکستان کے ڈیجیٹل امیج کو نقصان پہنچایا۔
پارلیمان میں بحث اور سیاسی مؤقف
گزشتہ روز سینیٹ کے اجلاس میں یہ معاملہ زیر بحث آیا۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دعویٰ کیا کہ فائر وال منصوبے پر تقریباً 40 بلین روپے خرچ کیے گئے، مگر اب اسے خاموشی سے ختم کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ قومی وسائل کے ضیاع کے مترادف ہے۔
اس کے جواب میں وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے کہا کہ اگر فائر وال ناکام ہوئی ہے تو اسے دوبارہ بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کی "یلغار” سے ملک کو محفوظ رکھنا ضروری ہے، اور اس مقصد کے لیے بھاری مالی وسائل بھی درکار ہوں تو پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے مرکزی میڈیا سیل کے بیان میں کہا کہ فائر وال کی مبینہ بندش اس منصوبے کی تکنیکی اور مالی ناکامی کا اعتراف ہے۔ جماعت کے مطابق یہ اقدام سیاسی اختلاف کو دبانے کی کوشش تھا جس سے ڈیجیٹل معیشت کو نقصان پہنچا۔
آئی ٹی سیکٹر اور سرمایہ کاروں کے تحفظات
وفاقی وزارت آئی ٹی کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چند ہفتے قبل موبائل کمپنیوں کے ایک وفد نے حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ فائر وال اور انٹرنیٹ پابندیوں کے باعث اس شعبے میں نئی سرمایہ کاری مشکل ہو گئی ہے۔ بعض کمپنیوں کے لیے کاروبار جاری رکھنا بھی چیلنج بن چکا تھا۔
مارکیٹ میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ حکومت ممکنہ فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی سے قبل سرمایہ کاروں کے خدشات کم کرنا چاہتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جدید ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر میں شفاف اور مستحکم انٹرنیٹ پالیسی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
ماہرین کی رائے: مکمل نگرانی ممکن؟
آئی ٹی سے وابستہ سینئر سافٹ ویئر انجینئر وقار عزیز کے مطابق جدید دنیا میں انٹرنیٹ کمیونیکیشن کی مکمل نگرانی عملی طور پر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ:
ڈیجیٹل پیغامات متعدد حفاظتی تہوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔
اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن جیسے نظام کو توڑنا انتہائی مشکل اور مہنگا عمل ہے۔
سخت نگرانی کے اقدامات سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔
دوسری جانب آئی ٹی ایکسپرٹ محمد بن متین کا کہنا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ نفرت انگیز اور انتشار پھیلانے والے مواد کی روک تھام کرے، تاہم اس عمل میں کاروباری روانی اور ڈیجیٹل معیشت کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق پالیسی سازی میں توازن اور شفافیت بنیادی عناصر ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت کئی ادارے پاکستان میں انٹرنیٹ پابندیوں پر پہلے ہی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ آن لائن آزادی اظہار پر قدغن جمہوری اصولوں سے متصادم ہے۔
شفافیت کا مطالبہ اور عوامی سوالات
شہری حلقوں اور ماہرین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ:
فائر وال منصوبے کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
منصوبے کی لاگت، ٹینڈرنگ کا عمل اور متعلقہ کمپنیوں کی تفصیل جاری کی جائے۔
اس بات کی وضاحت کی جائے کہ آیا منصوبہ تکنیکی طور پر ناکام ہوا یا اسے پالیسی تبدیلی کے تحت بند کیا گیا۔
ناقدین کے مطابق ٹیکس دہندگان کے اربوں روپے کسی بھی تجرباتی منصوبے کی نذر نہیں ہونے چاہئیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے قرضوں جیسے معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہو۔
آگے کا راستہ
حکومت کی جانب سے باضابطہ وضاحت سامنے نہ آنے تک قیاس آرائیاں جاری رہنے کا امکان ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی برآمدات اور عالمی سرمایہ کاری کے تناظر میں انٹرنیٹ پالیسی کی سمت نہایت اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق شفافیت، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور متوازن قانون سازی ہی وہ راستہ ہے جو قومی سلامتی اور ڈیجیٹل آزادی کے درمیان پائیدار توازن قائم کر سکتا ہے۔



