پاکستاناہم خبریں

ضلع باجوڑ میں افغان طالبان اور ان کی ہندوستانی حمایت یافتہ الخیرجیت کی جانب سے شہری آبادی پر مبینہ حملہ،9 شہری جاں بحق، خواتین و بچوں سمیت 12 زخمی

گزشتہ روز بھی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں مبینہ طور پر سرحد پار سے ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں چھ بچوں اور خواتین سمیت نو شہری جاں بحق جبکہ بارہ افراد زخمی ہوئے

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
خیبرپختونخوا کے سرحدی اضلاع، خصوصاً ضلع باجوڑ میں سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں مقامی حکام اور ذرائع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ تازہ واقعے میں مبینہ طور پر کواڈ کاپٹر حملے کے نتیجے میں کرکٹ کھیلتے ہوئے تین شہری زخمی ہو گئے، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کا بیان اور جانی نقصان کی تفصیلات
ڈپٹی کمشنر باجوڑ کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ روز بھی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں مبینہ طور پر سرحد پار سے ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں چھ بچوں اور خواتین سمیت نو شہری جاں بحق جبکہ بارہ افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں سات خواتین اور ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بلا اشتعال کیا گیا اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔
تازہ حملہ: کھیل کے میدان میں بھی محفوظ نہ رہے شہری
مقامی ذرائع کے مطابق آج پیش آنے والے واقعے میں کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملہ کیا گیا، جس میں کرکٹ کھیلتے تین افراد زخمی ہوئے۔ انہیں فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ اس واقعے نے عوام میں شدید خوف و غم و غصے کو جنم دیا ہے۔
پاکستانی مؤقف اور سیکیورٹی حکمت عملی
سرکاری موقف کے مطابق افواج پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیوں میں صرف شدت پسند عناصر اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتی ہیں، جبکہ شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہر آپریشن میں بین الاقوامی اصولوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور معلومات کو شفاف انداز میں عوام کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔
الزامات اور جوابی بیانات
دوسری جانب افغان طالبان کے نمائندوں کی جانب سے پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، تاہم پاکستانی حکام ان الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کارروائیاں صرف دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ہوتی ہیں، نہ کہ عام شہریوں کے خلاف۔
علاقائی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات
ماہرین کے مطابق سرحدی علاقوں میں اس نوعیت کے واقعات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر رابطوں کو مضبوط بنایا جائے اور سرحدی نظم و نسق کو بہتر کیا جائے۔
عوامی ردعمل اور مطالبات
متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے زخمیوں کے بہتر علاج اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے مالی امداد فراہم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
حکومتی عزم اور آئندہ کا لائحہ عمل
حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور ملک کی خودمختاری، سلامتی اور شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات، بشمول سفارتی کوششیں، جاری رکھی جائیں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button