
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز دفتر خارجہ کے ساتھ
اسلام آباد: پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت ایران میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فرض سمجھ کر سفارتی کوششیں کر رہی ہے اور خلیجی ممالک و ایران میں مقیم تقریباً 35 ہزار پاکستانیوں کے انخلاء کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔
منگل کو اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے بتایا کہ جونہی خطے میں حملہ ہوا، انہوں نے فوری طور پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطہ کیا۔ ان کے مطابق گزشتہ تین روز کے دوران فلسطین، ایران، سعودی عرب، بنگلہ دیش، مالدیپ، عمان، متحدہ عرب امارات، عراق، بحرین اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے بھی بات چیت کی گئی ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی مختلف سربراہانِ مملکت سے رابطے کیے اور فریقین کو تحمل اور مذاکرات کی راہ اختیار کرنے پر زور دیا۔
“جنگ کا دائرہ وسیع نہ ہو”
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ایران کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور ایسا ردعمل نہ دے جس سے جنگ کا دائرہ وسیع ہو۔ انہوں نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا، “ہم فرض سمجھ کر ایران جنگ رکوانے کی سفارتی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستانی عوام کو بھی سمجھنا چاہیے کہ اپنے ملک میں حالات خراب کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔”
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے پر دو ریاستی حل کے مؤقف پر قائم ہے، تاہم فلسطین کے معاملے کا خلیجی خطے میں جاری حالیہ کشیدگی سے براہ راست تعلق نہیں ہے۔
ثالثی کی پیشکش
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ہر طرح کی معاونت کے لیے تیار ہے اور اس سے قبل بھی امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا اشارہ دیا گیا تھا۔ “ہم چاہتے ہیں کہ فریقین آپس میں بات کریں، چاہے وہ اسلام آباد میں ہو یا کسی اور ملک میں۔ ہمارا مقصد صرف کشیدگی میں کمی ہے۔”
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران میں رجیم چینج نہ پاکستان کا ایجنڈا تھا اور نہ ہے۔ “یہ ایرانی عوام کا حق ہے کہ وہ اپنی قیادت کا انتخاب کریں، ہمیں بطور ہمسایہ اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔”
فضائی حدود کی بندش اور پاکستانیوں کی صورتحال
اسحاق ڈار نے بتایا کہ ایران اور متعدد خلیجی ریاستوں کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث خطے میں فضائی آپریشن شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اس وقت صرف عمان اور سعودی عرب کی فضائی حدود کھلی ہیں جبکہ دیگر بیشتر ممالک کی ایئر سپیس بند ہے۔ سعودی عرب سے قومی ائیرلائن کی پروازیں عمان کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے پاکستان آ رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں تقریباً 25 لاکھ پاکستانی آباد ہیں اور وہاں صورتحال مستحکم ہے۔ کویت میں ایک لاکھ سے زائد، عمان میں 3 لاکھ 82 ہزار، بحرین میں ایک لاکھ 34 ہزار سے زائد جبکہ اردن میں تقریباً 18 ہزار پاکستانی مقیم ہیں اور بڑے پیمانے پر کسی کے پھنسنے کی اطلاعات نہیں ہیں۔
ایران میں 35 ہزار پاکستانی، زمینی راستے فعال
وزیر خارجہ کے مطابق ایران میں اس وقت 33 سے 35 ہزار کے قریب پاکستانی موجود ہیں۔ کمرشل پروازیں معطل ہیں تاہم تفتان سمیت دیگر زمینی سرحدی راستے کھلے ہیں اور لوگ سڑک کے ذریعے پاکستان واپس آ رہے ہیں، اگرچہ سفر طویل اور مشکل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 792 پاکستانی ایران سے واپس آ چکے ہیں جبکہ 64 پاکستانیوں کو آذربائیجان منتقل کیا گیا ہے۔ اسی دوران 300 ایرانی شہری بھی پاکستان پہنچے ہیں۔
مزید برآں عراق میں 40 ہزار پاکستانی، قطر میں ساڑھے تین لاکھ (جن میں 1450 وزٹ ویزا پر ہیں) جبکہ کویت میں ایک لاکھ دو ہزار پاکستانی کام کر رہے ہیں۔
کرائسز مینجمنٹ سیل 24 گھنٹے فعال
اسحاق ڈار نے کہا کہ وزارت خارجہ میں کرائسز مینجمنٹ سیل 24 گھنٹے فعال ہے اور اس کے رابطہ نمبرز سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری کیے گئے ہیں۔ تہران، زاہدان اور مشہد میں ہنگامی مراکز کام کر رہے ہیں جبکہ ابوظبی میں پاکستانی سفارت خانہ اور دبئی و جدہ میں قونصل خانے بھی متحرک ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آذربائیجان کی سرحد پر پاکستانیوں کو ویزا سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر انخلاء کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔
سفارتی سرگرمیاں جاری
وزیر خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن سفارتی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حفاظت اور محفوظ واپسی ہے جبکہ خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا بھی انتہائی اہم ہے۔



