
جرمن مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ اس ہفتے کے اوائل میں ملک کے مغرب میں واقع ایک جرمن فوجی اڈے کے اوپر دو ڈرونز کو پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہ واقعہ مال بردار سامان کے ایک اہم ہوائی اڈے پر دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون ملنے کے صرف دو دن بعد پیش آیا۔ جرمن جوائنٹ فورسز کمانڈ نے ایک بیان میں بتایا کہ میشرنخ شہر میں جرمن آرمی بیس کے سکیورٹی نگرانی کے نظام نے جمعرات کی رات تقریباً 22:00 بجے دو ڈرونز کا پتہ لگایا۔ ان کی موجودگی کی تصدیق کی گئی اور ملٹری پولیس کی فورسز کو موقع پر تعینات کر دیا گیا۔ مسلح افواج نے بتایا کہ اوئسکرچن شہر کی پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حالیہ دنوں میں یورپ کے سویلین اور کارگو ایئرپورٹس کے اوپر ڈرونز دیکھے جانے کی اطلاعات میں اضافہ ہوا ہے۔
گزشتہ سال یورپی یونین کے رکن ملکوں کی فضائی حدود میں پراسرار ڈرون پروازوں نے شہریوں اور حکام میں تشویش پیدا کر دی تھی جس کے نتیجے میں درجنوں پروازیں منسوخ ہوئیں اور ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے۔
جمعرات کو دو ڈرونز کی موجودگی کا پتہ منگل کی آدھی رات سے کچھ پہلے جرمن ایئرپورٹ لائبزگ میں دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون ملنے کے بعد چلا۔ اس ڈیوائس کو ناکارہ بنا کر ناکارہ کر دیا گیا لیکن جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے کہا کہ یہ واقعہ خطرے کی ایک نئی سطح کو ظاہر کرتا ہے۔
لائبزگ ڈرون کے پیچھے روس کے ہونے کا امکان
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی میڈیا نے لائبزگ ایئرپورٹ پر ڈرون کے واقعے میں روس کا ہاتھ ہونے کے امکان کی خبر دی ہے۔ امریکی اخبار ’’ وال سٹریٹ جرنل ‘‘ نے انٹیلی جنس رپورٹس سے واقف امریکی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون کا تعلق روسی حکومت سے ہونے کا امکان ہے۔ سی این این نے یورپ میں ایک امریکی دفاعی اہلکار کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ امریکہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ڈرون کا تعلق روسی انٹیلی جنس سروس سے ہے۔
منگل کی دیر رات جرمن ایئرپورٹ پر یوکرینی ٹرانسپورٹ طیاروں کے قریب دھماکہ خیز مواد اور ڈیٹونیٹر سے لیس ایک ڈرون ملا تھا، اور ایئرپورٹ کے ایک ملازم نے ڈرون کو نیچے گرا دیا تھا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ایئرپورٹ کی بندش کی وجہ سے ایک طیارے کو دوبارہ لینڈنگ کی کوشش کرنی پڑی اور پھر وہ ہوا میں ایک چھوٹی نامعلوم اڑتی ہوئی شے سے ٹکرا گیا جس کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ دوسرا ڈرون تھا۔
اگرچہ کچھ ماہرین نے دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون ملنے کے بعد اس واقعے کے پیچھے روس کے مشتبہ ہونے کی طرف اشارہ کیا لیکن جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ کا موقف زیادہ محتاط تھا کیونکہ انہوں نے اس واقعے کو غیر ملکی طاقتوں کے حملے سے تعبیر کیا۔



