صحتاہم خبریںتازہ ترین

ویگووی، مونجارو اور اوزیمپک کے استعمال سے شراب کی طلب میں کمی؟ ابتدائی تحقیق نے ممکنہ تعلق کی نشاندہی کر دی

ماہرین واضح کرتے ہیں کہ فی الحال ان ادویات کو الکحل کی لت کا باقاعدہ یا منظور شدہ علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔

لندن/واشنگٹن: وزن کم کرنے اور ذیابیطس کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات ویگووی (Wegovy)، مونجارو (Mounjaro) اور اوزیمپک (Ozempic) کے بارے میں ہونے والی ابتدائی سائنسی تحقیق نے ایک غیر متوقع ممکنہ اثر کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ان ادویات کے استعمال سے بعض افراد میں شراب پینے کی خواہش اور زیادہ مقدار میں الکحل استعمال کرنے کا رجحان کم ہوسکتا ہے۔

اگرچہ اس حوالے سے شواہد ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور مزید بڑے اور طویل مدتی کلینیکل مطالعات کی ضرورت ہے، تاہم تحقیق کار اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ GLP-1 سے متعلق ادویات مستقبل میں الکحل کے استعمال کی خرابی سمیت بعض دیگر نشوں کے علاج میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔

ماہرین واضح کرتے ہیں کہ فی الحال ان ادویات کو الکحل کی لت کا باقاعدہ یا منظور شدہ علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔

وزن کم کرنے کی دوا اور شراب نوشی میں غیر متوقع کمی

جنوبی ویلز سے تعلق رکھنے والی 46 سالہ لیزا ریز نے اپریل میں وزن کم کرنے کی دوا کا استعمال شروع کیا۔ ان کا بنیادی مقصد وزن میں چند کلو کمی لانا تھا، تاہم دوا استعمال کرنے کے بعد انہوں نے ایک غیر متوقع تبدیلی محسوس کی۔

لیزا کے مطابق دوا شروع کرنے سے پہلے وہ بعض اوقات ایک ہی رات میں شراب کی دو بوتلوں تک پی لیتی تھیں۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ ایک ہفتے میں مجموعی طور پر 6 سے 8 بوتلیں شراب پینا بھی غیر معمولی نہیں تھا۔

تاہم دوا شروع کرنے کے بعد ان کی شراب نوشی میں نمایاں کمی آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اب دو گلاس شراب کے بعد مزید پینے کی خواہش یا جسمانی گنجائش محسوس نہیں ہوتی۔

لیزا کے مطابق ایک حالیہ میوزک فیسٹیول کے دوران انہوں نے تقریباً 9 گھنٹے میں صرف تین گلاس شراب پی، جبکہ ماضی میں اسی نوعیت کی تقریب میں وہ تقریباً دو بوتلیں شراب اور چند ووڈکا ڈرنکس استعمال کر لیتی تھیں۔

ان کے مطابق وزن کم کرنے کی دوا شروع کرنے کے بعد ان کی شراب نوشی پہلے کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔

برطانیہ میں الکحل کے استعمال کی تجویز کردہ حد

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق بالغ افراد کو باقاعدگی سے ہفتے میں 14 یونٹس سے زیادہ الکحل استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

یہ مقدار تقریباً چھ درمیانے گلاس شراب یا چھ پِنٹ بیئر کے برابر بتائی جاتی ہے، اگرچہ مختلف مشروبات میں الکحل کی مقدار مختلف ہونے کے باعث یونٹس بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک زیادہ مقدار میں الکحل استعمال کرنے سے جگر کو نقصان پہنچنے، بلند فشار خون اور بعض اقسام کے سرطان سمیت متعدد صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اسی وجہ سے محققین یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ اگر GLP-1 سے متعلق ادویات بعض افراد میں الکحل کی طلب کو کم کرتی ہیں تو کیا مستقبل میں ان کا کوئی کردار الکحل کے استعمال کی خرابی کے علاج میں بھی ہوسکتا ہے۔

GLP-1 ادویات جسم میں کیسے کام کرتی ہیں؟

ویگووی اور اوزیمپک میں سیماگلوٹائیڈ (Semaglutide) جبکہ مونجارو میں ٹرزیپیٹائیڈ (Tirzepatide) شامل ہوتا ہے۔

یہ ادویات جسم میں ایسے ہارمونل راستوں پر اثر انداز ہوتی ہیں جو بھوک، خوراک کے استعمال اور جسم میں توانائی کے توازن سے متعلق ہیں۔ ان کے نتیجے میں بھوک کم ہوسکتی ہے اور زیادہ دیر تک پیٹ بھرے رہنے کا احساس پیدا ہوسکتا ہے، جس سے وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

محققین کا خیال ہے کہ ان ادویات کے اثرات صرف معدے اور بھوک تک محدود نہیں ہوسکتے بلکہ دماغ میں موجود ان نظاموں پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں جو خواہش، انعام اور کسی چیز کے حصول کی تحریک سے متعلق ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سائنس دان یہ تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا GLP-1 ادویات صرف کھانے کی خواہش ہی نہیں بلکہ شراب، نکوٹین یا دیگر نشہ آور اشیا کی طلب پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہیں۔

دماغ کے ’ریوارڈ سسٹم‘ سے ممکنہ تعلق

یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا کے ڈاکٹر کرسچن ہینڈرشاٹ کے مطابق ابتدائی تحقیق سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ GLP-1 سے متعلق ادویات دماغ کے ان حصوں اور حیاتیاتی راستوں پر اثر انداز ہوسکتی ہیں جو کسی شے کی طلب اور اس سے حاصل ہونے والے انعام کے احساس سے متعلق ہیں۔

محققین کے مطابق نشہ آور اشیا کے استعمال میں دماغ کا ریوارڈ سسٹم اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر کسی دوا کے نتیجے میں اس نظام میں تبدیلی آتی ہے تو ممکن ہے کہ بعض افراد میں شراب یا دیگر نشہ آور اشیا استعمال کرنے کی خواہش بھی کم ہو۔

تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس ممکنہ تعلق کو ثابت کرنے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔

2025 کی تحقیق میں اہم اشارے

2025 میں شائع ہونے والی ایک چھوٹی تحقیق میں الکحل کے استعمال کی خرابی کا سامنا کرنے والے افراد نے اوزیمپک استعمال کرنے کے دوران شراب پینے کی خواہش میں کمی کی اطلاع دی۔

یہ تحقیق اگرچہ محدود پیمانے پر تھی، لیکن اس نے سائنس دانوں کی توجہ اس سوال کی طرف مبذول کرائی کہ آیا GLP-1 ادویات الکحل کے استعمال کی خرابی میں مبتلا افراد کے لیے مستقبل میں علاج کا کوئی نیا راستہ فراہم کرسکتی ہیں۔

اس کے بعد ہونے والی مزید تحقیقات نے بھی اس ممکنہ تعلق کے بارے میں ابتدائی شواہد فراہم کیے ہیں۔

نئی تحقیق میں شراب نوشی کے دنوں میں کمی کا اشارہ

کولوراڈو اینشوٹز میڈیکل کیمپس میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں بھی یہ اشارہ سامنے آیا کہ گولی کی شکل میں GLP-1 دوا استعمال کرنے والے ایسے افراد جنہیں ہلکی یا درمیانی درجے کی الکحل کے استعمال کی خرابی کا سامنا تھا، ان میں زیادہ شراب نوشی والے دنوں کی تعداد کم ہوسکتی ہے۔

محققین کے مطابق ایسے نتائج حوصلہ افزا ضرور ہیں، تاہم انہیں حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

سائنس دانوں کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا یہ اثر واقعی دوا کے براہ راست دماغی اثرات کی وجہ سے ہے یا وزن میں کمی، خوراک میں تبدیلی، متلی، مجموعی صحت یا دیگر عوامل بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں۔

ہر شخص کا تجربہ ایک جیسا نہیں

وزن کم کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد کے تجربات ایک جیسے نہیں ہیں۔

کچھ افراد کا کہنا ہے کہ دوا شروع کرنے کے بعد شراب کی طلب تقریباً ختم ہوگئی، جبکہ بعض افراد کے مطابق شراب پینے کے بعد انہیں پہلے کی نسبت زیادہ جلد متلی، پیٹ بھرنے یا چکر جیسی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔

کچھ لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی شراب برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوگئی ہے، تاہم یہ ذاتی تجربات طبی طور پر اس بات کا ثبوت نہیں کہ دوا ہر شخص میں اسی طرح اثر کرے گی۔

مونجارو استعمال کرنے والے وارن تھامس کا تجربہ

45 سالہ وارن تھامس نے جون کے وسط میں مونجارو استعمال کرنا شروع کیا۔

ان کے مطابق دوا استعمال کرنے کے پہلے ہی 24 گھنٹوں کے دوران شراب پینے کی خواہش میں واضح کمی محسوس ہوئی۔

ایک دوست کی سالگرہ کے موقع پر انہوں نے دو بیئر استعمال کیے تو ان کے مطابق انہیں پہلے کے مقابلے میں بہت جلد ہلکا پن اور چکر جیسا احساس ہونے لگا۔

وارن کا کہنا ہے کہ دوا شروع کرنے کے بعد انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی شراب برداشت کرنے کی صلاحیت تقریباً ختم ہوگئی ہے۔

ان کے مطابق اب دوستوں کے ساتھ ایسی محفلوں میں جانے کی خواہش بھی کم ہوگئی ہے جہاں عام طور پر شراب نوشی ہوتی تھی، اگرچہ وہ ماضی میں اپنی شراب نوشی کو کوئی خاص مسئلہ نہیں سمجھتے تھے۔

کچھ افراد کے لیے یہ اثر منفی تجربہ بھی ہے

شراب کی طلب میں کمی ہر شخص کے لیے خوش آئند تجربہ نہیں ہوتی۔

20 سالہ فے گوڈون کے مطابق مونجارو استعمال کرنے کے بعد شراب پینے کی صورت میں انہیں بہت جلد متلی، الٹی اور شدید تیزابیت کی شکایت ہونے لگی۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ 18 سال کی عمر سے مونجارو استعمال کر رہی ہیں اور انہیں دوا کے بغیر شراب پینے کا تجربہ نسبتاً کم ہے۔

فے کے مطابق جب انہوں نے تقریباً ایک ماہ تک انجیکشن نہیں لیا تو وہ شراب بغیر شدید متلی کے استعمال کر سکتی تھیں۔

ان کے مطابق یونیورسٹی میں متعدد سماجی سرگرمیاں شراب نوشی کے گرد گھومتی تھیں، اس لیے دوا کے نتیجے میں شراب نہ پی سکنے یا شراب سے شدید جسمانی ردعمل نے ان کی سماجی زندگی کو بھی متاثر کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ بعض مواقع پر اگر انجیکشن کے دن دوستوں کے ساتھ باہر جانے کا پروگرام ہو تو وہ انجیکشن ایک دن مؤخر کردیتی ہیں، کیونکہ ان کے مطابق دوا استعمال کرنے کے بعد ابتدائی ایک سے دو دن شراب کے حوالے سے جسمانی اثرات زیادہ محسوس ہوتے ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق کسی دوا کی خوراک خود سے مؤخر یا تبدیل کرنا مناسب نہیں اور ایسے فیصلے متعلقہ ڈاکٹر سے مشورے کے بغیر نہیں کیے جانے چاہییں۔

عام آبادی میں بھی کم شراب نوشی کا امکان

محققین کے مطابق عام آبادی میں کیے گئے بعض مشاہداتی مطالعات سے بھی یہ اشارہ ملا ہے کہ GLP-1 ادویات استعمال کرنے والے افراد مجموعی طور پر کم شراب استعمال کرسکتے ہیں۔

تاہم اس قسم کی تحقیق میں یہ ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے کہ شراب نوشی میں کمی براہ راست دوا کی وجہ سے ہوئی یا اس کے ساتھ ہونے والی دوسری تبدیلیوں نے بھی کردار ادا کیا۔

مثلاً وزن کم ہونے، خوراک میں تبدیلی، صحت کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی یا سماجی سرگرمیوں میں تبدیلی بھی شراب نوشی کے رویے کو متاثر کرسکتی ہے۔

اسی لیے محققین اب زیادہ منظم اور بڑے کلینیکل ٹرائلز کے ذریعے اس تعلق کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کیا یہ ادویات الکحل کی لت کا علاج بن سکتی ہیں؟

ڈاکٹر کرسچن ہینڈرشاٹ کے مطابق اس موضوع پر شواہد تیزی سے جمع ہو رہے ہیں اور امریکا میں بعض مراکز الکحل کے استعمال کی خرابی کے لیے ان ادویات کو غیر منظور شدہ مقصد کے تحت استعمال کر رہے ہیں۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ادویات فی الحال الکحل کی لت کے لیے باقاعدہ منظور شدہ علاج ہیں۔

محققین کے مطابق کسی دوا کو نئے مرض یا مقصد کے لیے باقاعدہ علاج کے طور پر منظور کرنے سے پہلے اس کی افادیت، محفوظ خوراک، ممکنہ خطرات، طویل مدتی اثرات اور مختلف مریضوں میں نتائج کا بڑے پیمانے پر جائزہ ضروری ہوتا ہے۔

اسی لیے GLP-1 ادویات کے معاملے میں بھی بڑے اور طویل مدتی کلینیکل مطالعات کی ضرورت ہے۔

موٹاپے یا ذیابیطس کے بغیر افراد میں استعمال پر سوال

یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز کے نشہ آور اشیا سے متعلق محقق ڈاکٹر ڈیرن کوئلچ کے مطابق یہ ابھی واضح نہیں کہ موٹاپے یا ذیابیطس کے بغیر افراد میں صرف نشے کے علاج کے مقصد سے GLP-1 ادویات استعمال کرنا کس حد تک محفوظ، مؤثر اور عملی ہوگا۔

اس کے علاوہ ادویات کی قیمت، طویل مدتی استعمال کی ضرورت اور ممکنہ مضر اثرات بھی اہم عوامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق کسی ایسے شخص کو صرف شراب کی طلب کم کرنے کے لیے وزن کم کرنے والی دوا دینا، جسے اس دوا کے منظور شدہ طبی استعمال کی ضرورت نہ ہو، ایک الگ طبی سوال ہے اور اس کے لیے مضبوط شواہد درکار ہوں گے۔

مضر اثرات بھی اہم معاملہ

GLP-1 سے متعلق ادویات کے کچھ مضر اثرات نسبتاً عام ہوسکتے ہیں، جن میں متلی، الٹی، پیٹ کی خرابی اور ہاضمے سے متعلق دیگر علامات شامل ہوسکتی ہیں۔

اس کے علاوہ بعض نایاب مگر سنگین پیچیدگیوں، جن میں لبلبے کی سوزش (Pancreatitis) بھی شامل ہے، کے بارے میں بھی طبی سطح پر احتیاط کی جاتی ہے۔

اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ادویات کا استعمال طبی نگرانی میں ہونا چاہیے اور انہیں صرف وزن کم کرنے یا شراب نوشی میں کمی کے ممکنہ اضافی فائدے کی بنیاد پر خود سے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

کیا GLP-1 ادویات دیگر نشوں میں بھی مدد دے سکتی ہیں؟

GLP-1 ادویات اور نشہ آور اشیا کے درمیان ممکنہ تعلق نے محققین کے لیے تحقیق کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔

سائنس دان اب یہ بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ان ادویات کا سگریٹ نوشی، نکوٹین کے استعمال اور اوپیئڈز سمیت دیگر نشہ آور اشیا کے استعمال پر بھی کوئی اثر ہوسکتا ہے۔

تاہم ان شعبوں میں بھی تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور کسی حتمی طبی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید شواہد کی ضرورت ہوگی۔

ماہرین کی احتیاط: ابتدائی نتائج کو حتمی علاج نہ سمجھا جائے

محققین اس بات پر متفق ہیں کہ ویگووی، مونجارو اور اوزیمپک کے استعمال کے ساتھ بعض افراد میں شراب نوشی کم ہونے کے واقعات دلچسپ اور قابلِ تحقیق ضرور ہیں، لیکن انہیں ابھی ایک ثابت شدہ علاج قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

ممکن ہے کہ مستقبل کی تحقیق یہ ثابت کرے کہ GLP-1 ادویات الکحل کے استعمال کی خرابی کے علاج میں واقعی ایک مؤثر معاون علاج بن سکتی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ موجودہ نتائج میں دوا کے ساتھ جڑے دیگر عوامل کا بڑا کردار ہو۔

اس لیے فی الحال ماہرین کا زور اس بات پر ہے کہ بڑے، تصادفی اور طویل مدتی کلینیکل ٹرائلز کیے جائیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ یہ ادویات کن افراد میں، کس خوراک پر، کتنے عرصے تک اور کن حالات میں الکحل کے استعمال کی خرابی کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہیں۔

نتیجہ

ویگووی، مونجارو اور اوزیمپک جیسی GLP-1 ادویات نے موٹاپے اور ذیابیطس کے علاج کے میدان میں اہم مقام حاصل کیا ہے، لیکن ان کے ممکنہ اضافی اثرات پر تحقیق اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔

بعض صارفین کے ذاتی تجربات اور ابتدائی سائنسی مطالعات اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ ادویات شراب کی طلب اور زیادہ مقدار میں الکحل استعمال کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہیں۔

تاہم ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ ادویات الکحل کی لت کا محفوظ اور مؤثر باقاعدہ علاج ہیں۔ قیمت، مضر اثرات، طویل مدتی حفاظت اور ایسے افراد میں استعمال کے سوالات جنہیں موٹاپا یا ذیابیطس نہیں، سب پر مزید تحقیق ضروری ہے۔

فی الحال ماہرین کا مؤقف یہی ہے کہ وزن کم کرنے والی ادویات کو صرف شراب نوشی کم کرنے کے مقصد سے خود سے شروع کرنا یا ان کی خوراک میں تبدیلی کرنا مناسب نہیں۔ اگر کوئی شخص الکحل کے استعمال میں کمی یا نشے کے علاج کے لیے مدد چاہتا ہے تو اسے اپنے ڈاکٹر یا متعلقہ نشہ علاج کے ماہر سے باقاعدہ طبی مشورہ لینا چاہیے۔

سائنسی تحقیق جاری ہے، مگر فی الحال GLP-1 ادویات کو الکحل کی لت کے روایتی اور منظور شدہ علاج کا متبادل قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button