مشرق وسطیٰاہم خبریں

غزہ امن کوششوں پر اسرائیل کا نیا وار، ٹرمپ کا بورڈ آف پیس کا 15 نکاتی منصوبہ مسترد

نیتن یاہو نے کابینہ اجلاس میں کہا کہ اسرائیل 15 نکاتی دستاویز کو موجودہ شکل میں قبول نہیں کرتا اور اسرائیلی فوج حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک انخلا نہیں کرے گی

غزہ: غزہ میں جنگ بندی اور مستقل امن کی کوششوں کو ایک بار پھر شدید دھچکا پہنچا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے تیار کیے گئے بورڈ آف پیس کے 15 نکاتی منصوبے کو موجودہ شکل میں مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ سے اس وقت تک مکمل انخلا نہیں کرے گی جب تک حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا۔

نیتن یاہو کا یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی قیادت غزہ میں جنگ بندی کو مستقل بنانے، حماس کے ہتھیار ختم کرنے، اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا اور جنگ زدہ علاقے کی تعمیر نو کے لیے ایک نئے سیاسی و سکیورٹی فریم ورک پر عملدرآمد کی کوشش کر رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے اعلان نے منصوبے کے مستقبل اور واشنگٹن و تل ابیب کے درمیان اختلافات کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کردی ہے۔

اسرائیل کا بنیادی اعتراض کیا ہے؟

اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حماس کے مکمل اور حقیقی غیر مسلح ہونے سے پہلے اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا ممکن نہیں۔ نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل اپنی سلامتی کو کسی ایسے معاہدے سے مشروط نہیں کرسکتا جس میں حماس کے پاس مستقبل میں دوبارہ مسلح ہونے کی صلاحیت باقی رہے۔

نیتن یاہو نے کابینہ اجلاس میں کہا کہ اسرائیل 15 نکاتی دستاویز کو موجودہ شکل میں قبول نہیں کرتا اور اسرائیلی فوج حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک انخلا نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور منصوبے کے بعض حصے اسرائیل کے لیے قابل قبول جبکہ بعض ناقابل قبول ہیں۔

یہ مؤقف ٹرمپ انتظامیہ کے تجویز کردہ طریقہ کار سے بنیادی طور پر مختلف ہے، کیونکہ امریکی منصوبے میں حماس کے تخفیفِ اسلحہ اور اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

ٹرمپ کے 15 نکاتی منصوبے میں کیا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں بورڈ آف پیس نے غزہ کے مستقبل کے لیے ایک 15 نکاتی روڈ میپ پیش کیا ہے۔ منصوبے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد غزہ کو ایک عبوری انتظامی، سکیورٹی اور تعمیر نو کے مرحلے میں منتقل کیا جائے۔

منصوبے کے تحت حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے ہتھیار ختم کیے جانے، اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا، غزہ کے انتظام کے لیے فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے قیام اور بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کی بات کی گئی ہے۔

امریکی فریم ورک میں اسرائیلی انخلا کو حماس کے تخفیفِ اسلحہ کے عمل سے مشروط کیا گیا ہے، تاہم دونوں فریق اس ترتیب اور شرائط کی مختلف تشریح کر رہے ہیں۔ یہی اختلاف اب امن منصوبے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔

حماس کا مؤقف بھی واضح

دوسری جانب حماس نے عالمی ثالثوں کے ذریعے طے کیے گئے روڈ میپ پر اپنے مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تمام فریق اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور کسی ایک فریق پر یکطرفہ طور پر اضافی شرائط عائد نہ کی جائیں۔

حماس کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کسی بھی امن فارمولے پر عملدرآمد باہمی ذمہ داریوں اور طے شدہ مراحل کے مطابق ہونا چاہیے۔ گروپ نے اس سے قبل بھی واضح کیا ہے کہ اس کی جانب سے منصوبے پر عملدرآمد اسرائیل کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور جنگ بندی کے تقاضوں پر عمل سے منسلک ہوگا۔

اس طرح صورتحال ایک ایسے تعطل کا شکار ہوگئی ہے جس میں اسرائیل پہلے حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ فلسطینی فریق اسرائیلی فوجی انخلا اور دیگر ذمہ داریوں کو امن عمل کا لازمی حصہ قرار دے رہا ہے۔

اسرائیل اور امریکا کے درمیان اختلافات

نیتن یاہو کا تازہ اعلان امریکا اور اسرائیل کے درمیان غزہ کے مستقبل کے حوالے سے پالیسی اختلافات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ ایک ایسے فارمولے کی حمایت کر رہی ہے جس کے تحت جنگ بندی کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے اور غزہ کو بتدریج ایک نئے انتظامی و سکیورٹی نظام میں منتقل کیا جائے۔

اس کے برعکس اسرائیلی حکومت کا اصرار ہے کہ کسی بھی سیاسی یا انتظامی تبدیلی سے پہلے حماس کی عسکری صلاحیت مکمل طور پر ختم ہونی چاہیے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے واشنگٹن کے ساتھ اختلافات کے باوجود مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم ان کے سخت مؤقف سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ اسرائیل منصوبے کے ان نکات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جن میں حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے پہلے فوجی انخلا شامل ہو۔

غزہ میں بین الاقوامی فورس کا معاملہ

ٹرمپ کے منصوبے کا ایک اہم حصہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کی ممکنہ تعیناتی بھی ہے۔ اس فورس کا مقصد عبوری مرحلے میں سکیورٹی کے انتظامات میں مدد، فلسطینی پولیس کی تربیت اور انسانی امداد کی فراہمی میں معاونت کرنا بتایا گیا ہے۔

تاہم اس فورس کی تعیناتی بھی حماس کے تخفیفِ اسلحہ، اسرائیلی فوج کے انخلا اور غزہ کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے جڑی ہوئی ہے۔ منصوبے پر موجود اختلافات کے باعث اس مرحلے پر بھی عملی رکاوٹیں برقرار ہیں۔

جنگ بندی کا مستقبل پھر سوالیہ نشان

اسرائیل کی جانب سے منصوبے کو مسترد کیے جانے کے بعد غزہ میں جنگ بندی کے مستقبل پر ایک مرتبہ پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر اسرائیل اور حماس تخفیفِ اسلحہ اور فوجی انخلا کی ترتیب پر اتفاق نہیں کرتے تو منصوبے کے اگلے مراحل پر پیش رفت مشکل ہوسکتی ہے۔

تازہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ حماس کے غیر مسلح ہونے کا عمل پہلے شروع ہوگا یا اسرائیلی فوج کے انخلا کے ساتھ ساتھ آگے بڑھے گا۔ اسرائیل مکمل غیر مسلح ہونے کو بنیادی شرط قرار دے رہا ہے، جبکہ امن منصوبے کا تصور مرحلہ وار پیش رفت سے جڑا ہوا ہے۔

فلسطینیوں کے لیے انسانی بحران برقرار

دوسری جانب سیاسی مذاکرات میں تعطل کے باوجود غزہ میں انسانی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ طویل جنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی، بے گھر ہونے اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت پیدا کی ہے۔ امن منصوبے پر عملدرآمد میں تاخیر کا براہ راست اثر امداد، تعمیر نو اور شہری زندگی کی بحالی پر پڑنے کا خدشہ ہے۔

غزہ کے مستقبل کے حوالے سے کسی بھی جامع منصوبے کی کامیابی صرف جنگ بندی تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے سکیورٹی، انتظامیہ، تعمیر نو، انسانی امداد اور فلسطینی سیاسی نمائندگی جیسے کئی معاملات پر اتفاق ضروری ہوگا۔

ثالثوں کے لیے بڑا امتحان

موجودہ صورتحال میں امریکا، مصر، قطر، ترکیہ اور دیگر سفارتی فریقوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج اسرائیل اور حماس کے درمیان اعتماد کا فقدان ختم کرنا ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے سے پہلے قدم اٹھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس کے باعث امن عمل آگے بڑھنے کے بجائے دوبارہ تعطل کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

نیتن یاہو کا 15 نکاتی منصوبے کو موجودہ شکل میں مسترد کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ امن معاہدے کی اصل آزمائش اب کاغذ پر موجود نکات نہیں بلکہ ان کی ترتیب، ضمانت اور عملی نفاذ ہے۔

اگر امریکا اسرائیل کے تحفظات دور کرنے میں کامیاب ہوتا ہے اور ساتھ ہی حماس کو تخفیفِ اسلحہ کے قابل قبول طریقہ کار پر آمادہ کرلیا جاتا ہے تو منصوبے کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جاسکتا ہے۔ بصورت دیگر اسرائیلی فوجی موجودگی، حماس کے ہتھیاروں اور غزہ کے مستقبل کے انتظام پر اختلافات امن کوششوں کو مزید طویل کرسکتے ہیں۔

امن منصوبہ فیصلہ کن مرحلے میں داخل

غزہ میں تازہ صورتحال نے واضح کردیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد کا مرحلہ بھی جنگ سے کم پیچیدہ نہیں۔ ایک طرف امریکا مرحلہ وار امن، تخفیفِ اسلحہ اور تعمیر نو کے ذریعے غزہ کو نئے انتظامی نظام میں منتقل کرنا چاہتا ہے، جبکہ اسرائیل اپنی سکیورٹی ضمانتوں کو اولین ترجیح قرار دے رہا ہے۔

حماس بھی یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ طے شدہ روڈ میپ پر عمل یکطرفہ نہیں بلکہ تمام فریقوں کی ذمہ داریوں کے ساتھ ہونا چاہیے۔

یوں غزہ امن منصوبہ اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر فریقین مرحلہ وار انخلا، تخفیفِ اسلحہ اور عبوری انتظامیہ کے معاملات پر سمجھوتہ نہ کر سکے تو امن عمل دوبارہ طویل تعطل میں داخل ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب کسی قابلِ قبول سمجھوتے کی صورت میں یہی 15 نکاتی منصوبہ غزہ میں جنگ بندی کو مستقل بنانے، تعمیر نو شروع کرنے اور ایک نئے سیاسی و سکیورٹی نظام کی بنیاد رکھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

فی الحال اسرائیل کے انکار نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سفارتی چیلنج پیدا کردیا ہے، جبکہ غزہ کے لاکھوں شہریوں کے لیے امن، امداد اور معمول کی زندگی کی بحالی کی امیدیں ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔

حوالہ: تازہ رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے 9 اگست 2026 کو 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک اسرائیلی انخلا سے انکار کیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button