اہم خبریںبین الاقوامی

ایران کے مسلسل حملے: خلیجی ممالک کے دفاعی ذخائر پر دباؤ، انٹرسیپٹرز کی کمی کا خدشہ

اگر انٹرسیپٹرز کے استعمال کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو ایک ہفتے کے اندر کچھ ممالک کو ذخائر میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے

وائس آف جرمنی اردو نیوز

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بڑھتے ہوئے ماحول کے درمیان ایران کی جانب سے مبینہ مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں نے خلیجی ممالک کے دفاعی نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملوں کی یہی رفتار برقرار رہی تو میزائل اور ڈرون گرانے والے انٹرسیپٹرز (Intercepting Missiles) کے ذخائر متاثر ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کی تشویش: استعمال کی رفتار خطرناک حد تک زیادہ

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ریاستیں جدید فضائی دفاعی نظام استعمال کر رہی ہیں، جن میں امریکی ساختہ MIM-104 Patriot اور Terminal High Altitude Area Defense (THAAD) شامل ہیں۔ یہ نظام بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم ہر حملے کے جواب میں متعدد انٹرسیپٹرز فائر کرنا پڑتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انٹرسیپٹرز کے استعمال کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو ایک ہفتے کے اندر کچھ ممالک کو ذخائر میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب بیک وقت متعدد اہداف کو نشانہ بنایا جائے۔

یواے ای اور قطر کا ردعمل

تاہم United Arab Emirates اور Qatar نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس دنیا کے جدید ترین فضائی دفاعی نظام موجود ہیں، جو امریکی فوجی ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ دونوں ممالک کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کے دفاعی ذخائر مستحکم ہیں اور کسی فوری کمی کا خطرہ نہیں۔

ان کا مؤقف ہے کہ خلیجی اور عرب ریاستوں نے حالیہ برسوں میں اربوں ڈالر خرچ کر کے اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنایا ہے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

امریکی دفاعی ذخائر پر بھی دباؤ

امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق Pentagon کے پاس بھی پیٹریاٹ دفاعی نظام کے میزائلوں کا ذخیرہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی عسکری ضروریات کے باعث امریکی دفاعی سپلائی چین پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دفاعی پیداوار میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے، تاکہ فضائی دفاعی نظام کے لیے درکار میزائلوں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

خطے کی سیکیورٹی پر ممکنہ اثرات

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر انٹرسیپٹرز کی کمی واقع ہوتی ہے تو اس سے خلیجی ممالک کی دفاعی حکمتِ عملی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں سفارتی کوششوں اور کشیدگی کم کرنے کی حکمت عملی کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔

فی الحال خلیجی ریاستیں اپنے دفاعی نظام پر مکمل اعتماد کا اظہار کر رہی ہیں، تاہم جاری کشیدگی نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جہاں دفاعی وسائل اور ان کی دستیابی اہم اسٹریٹجک عنصر بن چکے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button